صبح کے آٹھ بج چکے ہیں… صفائی والی ابھی پہنچی ہے، ملازم نے گیٹ کھولا ہو گا اور وہ اندر آئی ہو گی۔’’باجی کہاں سے صفائی کرنی ہے آج؟‘‘ آتے ہی اس نے پوچھا۔’’باجی صفائی والی نے صفائی کہاں سے کرنا ہے آج؟‘‘ ملازم نے بھی سوال کیا اور میں نے دونوں کو تفصیل سے بتایا۔ اگر ایسا نہ کرو تو انھیں عادت ہے کہ ہر کام کے بعد پھر پوچھتے ہیں۔’’باجی کیا پکانا ہے، سبزی لانی ہے کوئی تو بتا دیں؟‘‘ ملازم نے پھر سوال کیا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ کوئی بھی سبزی لانے کی ضرورت نہیں تھی، دھیان سے ماسی کے ساتھ مل کر صفائی کا کام مکمل کرے کہ وہ تین گھنٹے کے بعد چلی جاتی ہے۔
’’السلام علیکم اماں!!‘‘ بڑی بیٹی نے سلام کیا تو اسے جواب دیا اور ا س کی خیریت دریافت کی۔ اس کے کام کے بارے میں سوالات کیے اور ساتھ ہی دوسری بیٹی نے سوال کیا، ’’کیا حال ہے اماں آپ کا؟‘‘’’ٹھیک ہوں بیٹا، آپ سناؤ۔‘‘ میں نے اس کے سلام کا جواب دیا، ’’ کیا مصروفیات ہیں آج کی؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں اماں، بس وہی بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہی ہوں اور واپسی پر اپنے مارکیٹ کے کام کار کرتی ہوئی آؤں گی۔‘‘’’سردی ہے، ذرا اپنا اور بچوں کا بھی خیال کرنا۔‘‘ اسے تاکید کی کہ بچے کہاں پروا کرتے ہیں اور پھر آئے دن بیمار ہوتے رہتے ہیں۔ ہم بھی ان کی عمر میں ایسے ہی ہوتے تھے شاید۔’’آپ نے ناشتہ کر لیا ہے بیٹا؟‘‘ بیٹے سے سوال کیا۔’’بس اماں کر رہا ہوں ابھی اور پھر کام کے لیے نکلنا ہے۔‘‘ وہ کتنی جلدی میں تھا۔’’بھئی ایسے بھاگم دوڑ میں ناشتہ نہ کیا کرو، بیٹھ کر تسلی کے ساتھ کھایا کرو۔‘‘’’ہر روز ایسا ہی ہوتا ہے اماں کہ ارادے کرتا رہ جاتا ہوں اور ہر روز ایسا ہی معمول ہے۔‘‘’’ذرا دس منٹ پہلے کا الارم لگا لو تو کتنی سہولت ہو جائے۔‘‘ میںنے اسے سرزنش کی، ’’جلدی کا کام تو یوں بھی شیطان کاہوتا ہے۔ ناشتہ دن کا آغاز ہوتا ہے، ا س وقت معدے کو تسلی سے غذا پہنچاؤ تا کہ اسے ہضم کرنے میں بھی آسانی ہو۔‘‘
’’کل سے کوشش کرتے ہیں اماں، اس وقت تو نکلتا ہوں۔‘‘ بات کرتے ہوئے بھی وہ جلدی میںتھا۔
’’اللہ کے حوالے…‘‘
’’کیا ناشتہ کرنا ہے بیوی؟‘‘ صاحب نے سوال کیا۔
’’آپ بتائیں، آج کیا کھانے کو من کر رہا ہے؟‘‘ میں نے مسکرا کر سوال کیا۔
’’جو بھی مل جائے۔‘‘ جواب دیا گیا۔
’’ایک تو آپ مردوں کے بھی اپنے انوکھے انداز ہیں، کنی کترانے کو کہہ دیتے ہیں کہ جو بھی مل جائے کھا لیں گے، جو بھی مل جائے پہن لیں گے۔ جو بھی مل جائے پی لیں گے۔ عورتوں کا کام کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘ میں نے ان کی اس بات پر حسب معمول شکایت کی۔
’’آج تو اخبار کے ساتھ ہی جناب کی ناراضی مفت میں مل گئی ہے۔‘‘
’’بھئی بتا دیا کریں نا کہ کیا کھانا ہے۔‘‘ میں نے ذرا شرمندگی سے کہا اور سوچنے لگی کہ کیا بنایا جائے ناشتے میں۔ ’’بچے ٹھیک ہیں سارے؟‘‘ انھوںنے پوچھا۔
’’جی ہاں، وہی ہر روز کا معمول، سب یوں چابی کے کھلونوں کی طرح سویرے سویرے کبھی ناشتہ کر کے اور کبھی ناشتے کے بنا ہی چل دیتے ہیں!!‘‘
’’آج تو لگتا ہے کہ ان تینوں کو بھی ڈانٹ پڑی ہو گی!!‘‘۔ ’’جو بھی ڈانٹ کھانے والی بات اور حرکت کرے گا، اسے ڈانٹ تو پڑے گی‘‘۔ ’’اور بیوی، ہم سب کا آدھا پیٹ تو آپ کی اس صبح سویرے کی ڈانٹ کی غذا سے ہی بھر جاتا ہے۔‘‘ جواب سن کر میں اچھی خاصی ناراض ہونے لگی تھی مگر سوچا کہ چلو معاف کیا۔
’’پتا نہیں ملازم نے میز پر ناشتے کے برتن بھی لگائے ہیں کہ نہیں؟‘‘ میںنے سوال کیا۔ ’’تھوڑی دیر پہلے، ماسی کے آنے سے پہلے کچن میں تھا تو سہی، غالباً برتن ہی لگا رہا ہو گا‘‘۔ ’’اسے کہا تھا کہ آملیٹ کے لیے پیاز بھی کاٹ دے مگر مجھے پورا یقین ہے کہ وہ بھول گیا ہو گا اور میں آج دن کا آغاز ہی آنسو بہاکر کروں گی۔‘‘
’’اللہ نہ کرے، ایسی باتیں مت کیا کریں، کوئی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے‘‘۔ ’’ا رے گھڑی سے یاد آیا، وقت جانے کیا ہوا ہے؟‘‘
’’وہی جو کل اس وقت تھا۔‘‘ مزاحیہ جواب ملا۔
’’کل اس وقت کیا بجا تھا؟‘‘
’’جو ابھی اس وقت بجا ہے…‘‘۔ ’’تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔’’ہم بھی بے کار بیٹھے ہیں، سراپا انتظار بیٹھے ہیں، ناشتہ مل جائے تو دوائیں بھی کھانا ہوں گی اور مجھے بھی کسی کام سے گھر سے نکلنا ہو گا۔‘‘
’’آپ کو کیا کام پڑ گیا باہر نکلنے والا؟‘‘
’’بینک جانا تھا، کوئی مسئلہ آرہا ہے اے ٹی ایم کارڈ کا۔‘‘ انھوں نے جواب دیا۔
’’اوہو، آپ بتاتے تو میں پہلے آپ کو ناشتہ بنادیتی۔‘‘
’’ابھی بھی اگر آپ بستر چھوڑ سکیں تو اٹھ کر ناشتہ بنا دیں۔‘‘ ذرا سا طنز بھی تھا مگر اسے محسوس نہیں کیا۔
ہر روز کا معمول ہے، ہر روز دن کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے۔ صاحب اپنے وقت پر بستر چھوڑ کر نہا دھو کر لاؤنج میں اخبار لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور میں آٹھ بجے سے نو بجے تک کا وقت بستر میں لیٹے لیٹے ساری کارروائی کرکے پھر بستر چھوڑتی ہوں۔ ملازمین اور بچے، سبھی فون پر پیغام رسانی کر کے اپنے اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں اور میں تینوں بچوں سے پیغام رسانی کر نے کے بعد فارغ ہو کر صاحب کو رابطہ کرتی ہوں تو انھیں علم ہو جاتا ہے کہ میری معمول کی صبح میں وہ وقت آ گیا ہے جس وقت میں اٹھ کر ناشتہ بناؤں گی۔
بچے تو اپنی اپنی دنیا میں کہاں کہاں ہیں کہ ان سے فون پر ہی رابطہ ہوتا ہے مگر ملازمین اور صاحب سے رابطے کے لیے بھی فون پر پیغام رسانی ہی سب سے آسان طریقہ لگتا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر بھی آج کل ہم لوگوں کے رابطے آپس میں فون پر ہوتے ہیں، عجیب سے پیغامات، جو باتیں لوگ پہلے اشاروں کنایوں میں کیا کرتے تھے، اب ان کی جگہ فون کے پیغامات نے لے لی ہے، ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئی لوگ آپس میں بات کرنے کی بجائے فون پر ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہوتے ہیں۔
’’کھانے میں کیا پکا ہے؟‘‘
’’کہیں باہرکھانا کھانے چلیں اماں؟‘‘۔ ’’ابا سے پوچھو پہلے!‘‘۔ ’’آپ پوچھیں ابا سے، آپ کی بات مانتے ہیں!‘‘۔ ’’ تم لوگوں کی زیادہ مانتے ہیں‘‘۔ ’’چینل تبدیل کردیں ابا، کیا اماں کے پسندیدہ بورنگ ڈرامے دیکھنے کی سزا ہے ہمیں؟‘‘۔ ’’اماں کا پتا ہے نا، ہمیں ٹی وی روم سے باہر نکال دیں گی‘‘۔ ’’یہ مہمان کیا رات رکیں گے؟‘‘۔ ’’مجھے کیا علم!‘‘۔ ’’پوچھ لیں ان سے۔‘‘ ’’اچھا نہیں لگتا ایسے پوچھنا۔ جاؤ چیک کرو کہ فرج میں کیا کیا سالن ہیں تا کہ انھیں کھانے کی آفر کی جا سکے‘‘۔ ’’فیروز کیوں نہیں آیا ابھی تک؟‘‘۔
’’اس کی مصروفیات چیک کیا کریں، جوان بچوں کو یوں شام دیر تک باہر رہنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ ’’سارے بچے آج کل ایسے ہی ہیں‘‘۔ ’’ایک تو اس فون اور اس سوشل میڈیا نے ساری نسلیں ہی بگاڑ دی ہیں‘‘۔ ’’بالکل درست فرمایا، نسلیں ہی بگڑ گئی ہیں، نئی بھی اور پرانی بھی!!‘‘