گل پلازہ کی آگ؟

17جنوری کی رات سوا دس بجے کے قریب کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں خوفناک آگ لگنے کا دلخراش واقعہ رونما ہوا


عثمان دموہی January 25, 2026

17جنوری کی رات سوا دس بجے کے قریب کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں خوفناک آگ لگنے کا دلخراش واقعہ رونما ہوا جو کراچی میں ماضی میں ہونے والے دو بڑے آتشزدگی کے واقعات میں مالی اور جانی نقصانات کے حوالے سے کم نہ تھا۔ آگ کیسے لگی؟ یہ ابھی تک معمہ ہی ہے تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آگ ایک مصنوعی پھول بیچنے والے کی دکان سے شروع ہوئی جو آناً فاناً دور دور تک پھیل گئی، فوراً ہی فائر بریگیڈ کو فون کیا گیا مگر وہ بہت تاخیر سے پہنچے جس کی وجہ گرومندر چورنگی پر ٹریفک جام بتایا جا رہا ہے۔ جب فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وہاں پہنچیں اس وقت تک آگ بھیانک صورت اختیارکر چکی تھی چونکہ شاپنگ پلازہ میں کیمیکلز اور پلاسٹک کے سامان کی کافی بڑی تعداد میں دکانیں موجود تھیں، ان کے سامان نے اس آگ کو پھیلنے میں مدد کی۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ فائر بریگیڈ ایک تو لیٹ پہنچی، پھر وہ کئی گھنٹے تک شاپنگ پلازہ کے اندر داخل نہیں ہوئے، اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ اپنا پورا سامان لے کر وہاں نہیں آئے تھے، چنانچہ اس کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ جس وقت فائر بریگیڈ پہنچی تھی، اس وقت تک آگ صرف دو گیٹوں تک محدود تھی، وہ اس وقت آگ پر قابو پا سکتے تھے، تاہم آگ بڑھتی گئی اور پوری ہی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تمام 1200 دکانیں مکمل تباہ ہو گئیں۔ جس وقت آگ لگی، اس وقت شاپنگ پلازہ میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے جو اپنی ضروریات کا سامان خریدنے آئے تھے۔ آگ کے پھیلنے پرکافی لوگ باہر نکل آئے مگر پھر بھی کچھ اندر ہی رہ گئے، جو لگتا ہے آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے یا پھر زہریلے دھوئیں کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے۔

گزشتہ 75 برسوں میں کراچی میں آتشزدگی کے کئی سنگین ہلاکت خیز واقعے ہو چکے ہیں جن میں 1958 میں بوہری بازار میں لگنے والی آگ اور 2012 میں بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ تھی۔ فیکٹری کی آگ سے 260 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اب تازہ گل پلازہ کی آگ کا واقعہ کراچی میں آتشزدگی کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سانحے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق اربوں روپے کا سامان جل گیا۔ درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ کافی لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ گل پلازہ کی آگ کو تیسرے درجے کی آگ کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فائر بریگیڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ آگ کو بجھانے میں 26 فائر ٹینڈر، چار اسنارکلز اور دس واٹر باؤزر نے حصہ لیا، آگ بجھانے کے کام میں ان کا ایک اہلکار فرقان علی شہید ہو گیا۔

گل پلازہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک مشہور شاپنگ سینٹر ہے۔ یہاں ہر قسم کے گھریلو سامان کو خریدنے کے لیے شہر کے ہر کونے سے لوگ آتے ہیں۔ گل پلازہ کی عمارت 1995 میں تعمیر ہونا شروع ہوئی۔ ابتدائی طور پر عمارت بیسمنٹ گراؤنڈ اور پہلی منزل تک بنائی گئی۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ تعمیرات جاری رہیں اور 2003 تک تین فلور تعمیر ہو گئے۔ عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی مگر پھر بڑی دکانوں کو چھوٹا کرکے دکانوں کی تعداد کو 1200 تک پہنچا دیا گیا۔ اس سلسلے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا کہ اس نے کتنی منزل تک عمارت تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔ پلازہ میں جیسے جیسے کسٹمرز کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، عمارت کے بیسمنٹ میں بھی دکانیں تعمیر ہو گئیں حتیٰ کہ پارکنگ ایریا اور عمارت میں داخل ہونے والے گیٹوں کو بھی دکانوں کی بھرمار کی وجہ سے تنگ کردیا گیا۔ پھر بدقسمتی سے جیسا کہ کراچی کے دیگر شاپنگ مالز کا حال ہے کہ وہاں تعمیرات کے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، یہاں بھی وہی ہوا۔

کراچی میں بلڈرز کی بنائی گئی اکثر عمارتوں میں ناقص میٹریل استعمال کیا جاتا ہے، پھر عمارت میں ہنگامی اخراج کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، نہ عمارات میں آگ سے نمٹنے کے انتظامات کیے جاتے ہیں، یہاں بھی وہی حال تھا۔ گل پلازہ میں آگ پر کافی محنت کے بعد فائر بریگیڈ نے 48 گھنٹے کے بعد مکمل قابو پا لیا تھا، تاہم یہ آگ کئی خاندانوں کے افراد کو ان سے جدا کر گئی۔ لواحقین کی جانب سے جہاں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا، وہاں حکومت سندھ پر تنقید کی گئی کہ وہ ایسے حادثات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے ارکان نے سندھ اور قومی اسمبلی میں گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے سانحے پر شدید احتجاج کیا اور سندھ حکومت پر ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات نہ لینے کا گلہ کیا۔ ایسے واقعات جب رونما ہوتے ہیں تو وہ حفاظتی اقدامات اٹھانے کا وعدہ ضرور کرتی ہے مگر بعد میں بھول جاتی ہے۔ سب سے اہم کام سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ہے کہ وہ عمارتوں کی تعمیر پاس شدہ نقشے کے عین مطابق کرائے اور عملدرآمد نہ کرنے والے بلڈرز کو بلیک لسٹ کر دے۔ بدقسمتی سے کراچی میں پاس شدہ نقشوں سے ہٹ کر عمارات کی تعمیر کا کام معمول بن چکا ہے۔

کئی سال پہلے لیاقت آباد میں چالیس گز کے ایک مکان پر چار منزلہ فلیٹ تعمیر ہوئے تھے، ان کی تعمیر حکومتی اہلکاروں سے پوشیدہ نہیں تھی۔ چونکہ بنیادی طور پر پہلے یہ گھر تھا مگر چار منزلوں میں تبدیل کردیا گیا تھا چنانچہ اس کی کمزور بنیادیں بھاری تعمیرات کا بوجھ نہ اٹھا سکیں اور یہ عمارت اچانک زمیں بوس ہو گئی جس میں کافی جانی نقصان ہوا تھا، صرف پیسے کی لالچ میں انسانی جانوں سے کھیلنا کہاں کا انصاف ہے۔ اب اس جان لیوا کھیل کو بند ہو جانا چاہیے۔ اب جہاں تک گل پلازہ کے سانحے کی ذمے داری کا معاملہ ہے، اس کی ذمے داری کس پر ڈالی جائے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ اس سانحے کی ذمے دار ہے،کیونکہ وہ مسلسل غفلت کا شکار ہے۔

کراچی میں ایسے کئی واقعات رونما ہونے کے باوجود بھی اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ گل پلازہ میں آگ لگنے کی خبر پا کر کئی سیاسی رہنما اور حکومتی اعلیٰ عہدیدار وہاں پہنچے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے حادثات شہر میں ہوتے رہتے ہیں، حکومت پر تنقید ہوتی ہے مگر ایک اور عنصر کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ اس وقت شہر میں بھتہ مافیا کافی سرگرم ہے۔ وہ بھتہ نہ دینے پر دکانداروں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ شاپنگ پلازہ بھی ان کی انتظامی کارروائی کی بھینٹ چڑھ گیا ہو۔ بہرحال حکومت کو اس سانحے کی مکمل انکوائری کرانا چاہیے اور اس کے ذمے داروں کا تعین کرنا چاہیے۔
 

مقبول خبریں