دہشت گردی، بھارت اور افغانستان

پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں


ایڈیٹوریل January 25, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نئی بات نہیں ہے، پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ اگلے روز بھی خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب میں خودکش دھماکے میں امن کمیٹی کے سربراہ سمیت 5 افراد شہید ہو گئے جب کہ 10 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

 میڈیا کی اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے بھی کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ میڈیا میں اس واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ قریشی موڑ میں مقامی امن کمیٹی کے ممبر نور حسن کے بھتیجے کی شادی تھی جس میں امن کمیٹی کے سربراہ عبد الوحید جگری سمیت کمیٹی کے دیگر ممبران شریک تھے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ عبدالوحید جگری تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا ایک کمرے میں ہوا جہاں مہمان موجود تھے۔ عبد الوحید جگری، عبدالمجید لاگری ایڈووکیٹ اور 3 نامعلوم موقع پر چل بسے۔ ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان سجاد احمد صاحبزادہ کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر مل گیا، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، تحقیقات اور شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کے پسِ پردہ محرکات کا جلد سراغ لگا لیا جائے گا۔ خودکش بمبار کی عمر سولہ سال بتائی جاتی ہے۔ اچانک ہونے والے اس حملے نے خوشیوں بھرے گھر کو ماتم کدے میں بدل دیا۔ دھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دہشت گردی کی اس واردات کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بھی موجود ہیں اور وہاں ان کے سہولت کار بھی موجود ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے گزر کر ضلع ٹانک آ جاتا ہے اور اس سے آگے جنڈولہ اور پھر اس کے بعد جنوبی وزیرستان شروع ہو جاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ شہر خاصا حساس بھی ہے۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کرک، بنوں اور کوہاٹ وغیرہ شامل ہیں، یہاں اکثر اوقات دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔

یہ صورت حال خاصی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں جن میں ضلع خیبرکا علاقہ تیرہ شامل ہے، وہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں ہیں، دہشت گردی پاکستان میں کیوں ہو رہی ہے اور اس کے محرکات کیا ہیں، اس کے بارے میں حقائق پالیسی ساز حلقوں کو بھی بخوبی معلوم ہیں جب کہ ملک کے فہمیدہ حلقے بھی حالات وواقعات سے خاصی حد تک آگاہ ہیں۔ افغانستان کا کردار اس حوالے سے سب کے سامنے ہے۔ افغانستان میں جس قسم کی حکومت برسراقتدار ہے، اس کے نظریات اور پالیسی کے بارے میں کسی کو شک وشبہ نہیں ہے۔ افغانستان میں انسانی حقوق کی جس انداز میں پامالی ہو رہی ہے، اسے بھی دنیا اچھی طرح جانتی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے گروہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور یہ کام عرصہ دراز سے جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کو متعدد بار اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود افغان طالبان نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کی ہیں۔

افغانستان میں برسراقتدار طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں طالبان کو افغانستان کا اقتدار ملا ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے وعدہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ افغانستان کی طالبان حکومت افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

افغان خواتین کو برابر کے حقوق دے گی جب کہ افغانستان کے عبوری سیٹ اپ میں وہاں کی تمام نسلی اور لسانی اکائیوں کو مناسب نمائندگی بھی دی جائے گی لیکن افغانستان کی عبوری حکومت نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ جب سے افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے، پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔

ٹی ٹی پی کے لوگ افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بہت سی وارداتوں میں افغانستان کے شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تاجکستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں اور ان وارداتوں میں چین کے باشندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان وارداتوں میں بھی افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے۔ تاجکستان کی حکومت نے افغانستان کی حکومت سے احتجاج بھی کیا ہے جب کہ چین نے بھی افغانستان سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ یوں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ اردگرد کے ممالک کے لیے مسائل کا سبب بن رہے ہیں لیکن طالبان کی حکومت شاید حقائق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستان نے افغانستان کی تعمیر وترقی کے لیے ہمیشہ نیک خواہشات کا ہی اظہار نہیں کیا بلکہ عملی طور پر کام بھی کیا ہے۔ دوحہ میں جو مذاکرات ہوئے، ان کے انعقاد کے لیے بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن افغان طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے۔ اب بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے اتحادی ملک تصور ہو رہے ہیں۔ بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کی مثال سب کے سامنے ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد بھارت میں پناہ گزیں ہیں جب کہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ادھر حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی بھارت نے انتہائی غلط قدم اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش کو اس ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت میں ٹیم بھیجنے سے انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ بھی بتائی تھی کہ بھارت نے آئی پی ایل سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی کو نکال دیا تھا اور بہانہ یہ بنایا تھا کہ اس کی سیکیورٹی کا ایشو ہے۔ اس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا یہ مؤقف بجا نظر آتا ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ہے تو پھر پوری بنگلہ دیشی ٹیم کی ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے۔

اصولی طور پر تو آئی سی سی کو اس حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ساتھ دینا چاہیے تھا کیونکہ بنگلہ دیش کا مؤقف درست تھا۔ بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے میچ سری لنکا شفٹ کیے جا سکتے تھے لیکن آئی سی سی نے ایسا نہیں کیا۔ آئی سی سی میں بھارت کا کنٹرول ہے۔ اس اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بھارت نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہی باہر کرا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب بنگلہ دیش کی جگہ آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ اپنا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی۔

یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کے ہر ملک کو نیچا دکھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ آئی سی سی بھی اس کے اثر میں ہے۔ بہرحال اس ساری کہانی کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس وقت بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کی بانھوں میں بانہیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ بھارت افغانستان کو استعمال کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ افغانستان کی قیادت کو اس حوالے سے اپنے طرزعمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام طالبان کی اس پالیسی کے حق میں نہیں ہیں۔

افغانستان کا عام باشندہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہے۔ ویسے بھی طالبان کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ بھارت ان کا بھی دوست نہیں ہے۔ افغانستان کے طالبان اگر اپنے معاملات کو دوحہ معاہدے کے مطابق چلاتے تو شاید انھیں بھارت کی گود میں بیٹھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ افغانستان بھی جنوبی ایشیا کا اہم ملک ہے۔ ساؤتھ ایشیا کے ایک مسلمان ملک بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کا سلوک سب کے سامنے ہے۔ افغانستان کے طالبان کو اس حوالے سے بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں افغانستان کے عوام کے حق میں ہرگز نہیں ہیں۔ افغانستان کے طالبان کو ایسے نازک حالات میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اقوام عالم کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے کے قابل ہو سکے۔
 

مقبول خبریں