ایک مسلمان پر یہ ضروری اور واجب ہے کہ جب اس کا مسلمان بھائی کسی بیماری اور مرض وغیرہ میں مبتلا ہو تو اس کی بیمار پرسی اور عیادت کرے اگر ایک مسلمان بیمار ہوجائے تو سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شفقت و محبت اور اس روحانی رشتہ کے پیش نظر جو اسلام کی وجہ سے امت مسلمہ کے درمیان قائم ہے، تم ہر روز جہاں تک ممکن ہوسکے، اس کی عیادت کے لیے جایا کرو اور اس سے پوچھو کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ اگر ہے تو آپ فرمائیے کہ میں مہیا کروں؟ کون سی دوا آپ کو درکار ہے؟ وغیرہ وغیرہ کیونکہ اس سے مریض کا دل بہل جاتا ہے اور اخوت کے حقوق بھی ادا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: ’’مریض کی مکمل عیادت یہ ہے کہ عیادت کرنے والا اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھے اور اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟‘‘
مریض کی عیادت پر بڑے اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک روایت میں ہے: ’’مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور بیماروں کی عیادت کرو اور قیدیوں کو چھڑاؤ۔‘‘ ایک اور روایت میں فرمایا: ’’مریض کی عیادت کرو، جنازوں کے ساتھ جاؤ وہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گے۔‘‘
حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔
اسی وجہ سے پیغمبر اسلام ﷺ نے حکم دیا ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ (بخاری)
اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے جو آداب سکھلائے ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
(1) مریض کے پاس بیٹھ کر اس کو صحت اور دوسری اچھی باتوں کی بشارت اور خوش خبری دینی چاہیے۔ مریض سے اس وقت جو بات بھی آپ کہیں گے اﷲ تعالیٰ کے فرشتے اس پر آمین سے اس کا استقبال کریں گے۔ چناںچہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کہو کیوںکہ اﷲ تعالیٰ کے فرشتے جو کچھ آپ کہتے ہیں اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘
مریض کے پاس بیٹھ کر اس کی دل جوئی کرنا اور اس کا دل بہلانا طبی نقطہ نگاہ سے بھی بہت مفید ہے کیونکہ بسا اوقات ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ مریض کا دل بہلانے سے اس کا مرض جاتا رہتا ہے اور اس کا دل بہلانا اس کے لیے نسخہ کیمیا اور اکسیر کامل ہو جاتا ہے۔ چناںچہ ایک حدیث میں رسول اﷲ ﷺ نے مریض کے دل بہلانے کی ان الفاظ میں ترغیب دی کہ: ’’جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اسے کہو: اﷲ تعالیٰ تجھے شفا دے گا اور تجھے لمبی عمر عطا کرے گا کیوںکہ ایسا کہنے سے سہم تقدیر تو اپنے ہدف سے نہیں چوک سکتا لیکن مریض کی طبیعت خوش ہوجاتی ہے۔‘‘
عیادت کرنے والا مریض کو بتائے کہ بیماری گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے، اس کو توبہ، استغفار اور اﷲ تعالیٰ کو یاد کرنے کے لیے کہے اور حالت مرض میں نماز پڑھنے اور جو عبادات وہ کرسکتا ہے ان عبادات کی تلقین کرے، اور مریض کو اس قسم کی احادیث سنائے، چنانچہ سیدنا جابر بن عبداﷲ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مومن اور مومنہ یا مسلم اور مسلمہ بیمار ہو تو اﷲ تعالیٰ اس بیماری کی وجہ سے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے (رواہ احمد)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اﷲ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں تو فرشتوں سے فرماتا ہے کہ یہ شخص جو نیک عمل کرتا تھا اس کو بدستور لکھتے رہو پھر اگر کسی کو شفا دیتا ہے تو اس کے گناہوں کو دھو کر پاک کردیتا ہے۔ اور اگر اس کی روح کو قبض کرلیتا ہے تو اس کو بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔ (مجمع الزوائد)
(2) جب کسی کی عیادت کے لیے جایا جائے تو مریض کے پاس بیٹھ کر اس کے لیے دعا کرنی چاہیے، سرکار دو عالم ﷺ کا یہی دستور تھا۔ چناںچہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: ’’رسول اﷲ ﷺ جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کسی مریض کو آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ ﷺ اس کے لیے ان الفاظ میں دعا فرماتے، ترجمہ: ’’اے لوگوں کے رب! اس بیماری کو دور فرما دے اور اس مریض کو شفا عطا فرما کیوںکہ شفا دینے والی صرف تیری ہی ذات ہے اور نہ کوئی شفا مگر وہ جو کہ تیری طرف سے ایسی شفا جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔‘‘
سیدنا عبداﷲ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہادی دو جہاں ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے: ’’فکر کی کوئی بات نہیں، اگر خدا نے چاہا تو یہ بیماری تمہاری روحانی اور جسمانی پاکیزگی کا ذریعہ بنے گی۔‘‘
سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جبرئیل امین رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے محمد! آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ جبرئیل نے آپ پر یہ پڑھ کر دم کیا، ترجمہ ’’اﷲ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذا پہنچائے ہر حاسد نفس اور آنکھ کے شر سے، اﷲ تعالیٰ آپ کو شفا عطا فرمائے، اﷲ تعالیٰ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔‘‘
ایک اور روایت میں جو سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ جناب رسول اﷲ ﷺ جب کبھی بیمار ہوتے تو جبرئیل امین آپ پر یہ دعا پڑھتے ؛ ترجمہ : ’’اﷲ کے نام وہ آپ کو صحت دے اور ہر بیماری سے آپ کو شفا دے اور حسد کرنے والے کی برائی سے جس وقت وہ حسد کرے اور ہر بد نظر کرنے والے کی برائی سے۔‘‘
ایک اور حدیث میں سیدنا عبداﷲ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جو کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے تو وہ مریض کے نزدیک بیٹھ کر سات بار یہ کہے؛ ترجمہ ’’میں سوال کرتا ہوں اﷲ بزرگ و برتر سے جو عرش عظیم کا پروردگار ہے کہ وہ تجھ کو شفاء عطا فرمائے۔‘‘
(3) مریض کی عیادت کے لیے دو تین روز کے بعد جانا چاہیے، مرض کے شروع میں عیادت کے لیے جانا ذرا اچھا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مریض ایک دو روز میں شفا یاب ہو جائے۔ البتہ اگر مرض شدید ہو یا کسی مرض کا اچانک شدید حملہ ہوا ہو جیسے فالج وغیرہ تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔
(4) مریض کی عیادت کے لیے جب جایا جائے تو زیادہ دیر اس کے پاس نہ بیٹھ جائے۔
سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ’’مریض کے پاس تھوڑا بیٹھنا اور تھوڑی باتیں کرنا سنت نبوی ہے۔‘‘
(5) بد عقیدہ، بدکار اور فاسق لوگوں کی عیادت کرنا ضروری نہیں بلکہ بعض احادیث میں ان کی عیادت کرنے سے منع کیا گیا۔ چنانچہ سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’منکرین تقدیر اس امت کے مجوس ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت مت کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ میں نہ جاؤ۔‘‘ (سنن ابی داؤد) اور ایک روایت میں سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں: ’’ شرابی جب بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو۔‘‘
(6) عیادت غیر مسلم مریض کی بھی کی جاسکتی ہے، چنانچہ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ ایک ایسے یہودی لڑکے کی عیادت اور بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’تم مسلمان ہوجاؤ۔‘‘ پس وہ مسلمان ہوگیا۔ (بخاری)
علامہ بدر الدین عینی نے لکھا ہے کہ ’’اہل ذمہ کی عیادت کرنا جائز ہے خصوصاً جب کہ اہل ذمہ پڑوسی ہوں، کیونکہ عیادت کے اس عمل سے ان پر محاسن اسلام کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی تالیف قلب ہوتی ہے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں۔ (عمدۃ القاری)
(7) عیادت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگر مریض غریب اور نادار ہو تو اس کے علاج کے لیے حسب حیثیت کچھ رقم اسے پیش کرے اور اگر مریض امیر ہو تو کچھ کھانے پینے کی چیزیں مثلاً پھل وغیرہ لے جائے جو مریض کے حال کے مناسب ہوں ایسا نہ ہو کہ شوگر کے مریض کی عیادت کے لیے جائے تو مٹھائی کا ڈبہ لے جائے اور اگر بلڈ پریشر کے مریض کی بیمار پرسی کے لیے جائے تو نمکین بسکٹ لے جائے۔
(8) جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے وہ صرف اس کی بیمار پرسی کرے یا اس کے لیے اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا کرے، اس کا ڈاکٹر اور حکیم نہ بنے آج کل اکثر حضرات کی یہ عادت ہے کہ جب وہ کسی کی بیمار پرسی کے لیے جاتے ہیں تو مریض کو مختلف نسخے بتاتے ہیں کہ یہ چیز استعمال کرو اس سے تمہیں آرام آجائے گا یا ڈاکٹر اور معالج بدلنے کا مشورہ دیتے ہیں یہ چیزیں آداب عیادت کے خلاف ہیں۔
(9) حدیث میں مریض کی عیادت کو آخرت کے اجر عظیم سے ترغیب دی تاکہ مسلمان نہ صرف اپنے تعلقات کی وجہ سے بلکہ حق تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے اور اس کے اجر عظیم کے حصول کی خاطر سب کچھ کرے۔ چنانچہ ارشادِ نبوی ہے: ’’جب کوئی شخص کسی مریض کی رات کو عیادت کرتا ہے تو اس کی واپسی پر ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ اور جو مریض کے پاس صبح کو اس کی بیمار پرسی کے لیے جاتا ہے اس کے لیے بھی ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ رات ہو جاتی ہے اور اس کے لیے بھی جنت میں ایک باغ ہوگا۔‘‘ (ابوداؤد)
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے۔ پس جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ان الفاظ میں عیادت کا اجر بیان کیا گیا ہے : ’’ مریض کی بیمار پرسی کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹتا ہے۔‘‘
اﷲ تعالٰی ہمیں تعلیمات نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین