پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا سمیت 20 ممالک نے گزشتہ دنوں عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں اجلاس کے موقع پر غزہ امن بورڈ معاہدے پر دستخط کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط ہوئے، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دستخط کیے اور اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ غزہ امن بورڈ اور اس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں متعدد سوالات گردش کر رہے ہیں جن کے جوابات جاننے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور خارجہ، سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین
(ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز، جامعہ پنجاب)
اکتوبر 2025ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20نکات کے بعد سے فلسطین اور غزہ میںقتل و غارت میں کمی آئی ہے۔ فلسطین اور غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر سے اب تک 464 افراد شہید ہوئے ۔ 20 نکات کے پہلے دو نکات یہ تھے کہ غزہ سے حماس و دیگر فورسز کو نکالا جائے گا اور امن قائم کیا جائے گا۔ ان پر عمل نہیں ہوا اور اب ’بورڈ آف پیس‘ قائم کر دیا گیا ہے جس میں شمولیت کیلئے 60 ممالک کو دعوت دی گئی ۔ اس کی رکنیت دوطرح کی ہے۔
پہلی رکنیت کی مدت تین سال ہے جس میں ممالک کو کوئی رقم ادا نہیں کرنی جبکہ دوسری مستقل رکنیت ہے جس میں ہر رکن کو سالانہ ایک ارب ڈالر دینے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کیا پاکستان کے پاس اتنے مالی وسائل ہیں کہ وہ اس کا مستقل رکن بن سکے؟ پاکستان اس بورڈ کا ممبر بن گیا ہے، وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر کے ساتھ اس پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستان کی فیصلہ سازی کا فورم پارلیمنٹ ہے، ہمیں مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی جا ری ہے، اسے روک کر اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نئی اقوام متحدہ بنائی جا رہی ہے، میرے نزدیک یہ درست نہیں۔ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے ہی وجود میں آیا ہے۔ امریکا اکیلے یہ مسئلہ حل نہیں کر پایا لہٰذا اب وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کی مدد سے اسے حل کیا جائے۔ امریکا فوجی اخراجات تنہا برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اس بورڈ میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں۔
روس کا بیان آیا ہے کہ امریکا نے یوکرین جنگ کے حوالے سے ہمارے جو اثاثے منجمد کیے ہیں،وہاں سے رقم لے لے، ہم اس کا مستقل حصہ بننے کو تیار ہیں،اس کا فیصلہ اب امریکا نے کرنا ہے۔ اسی طرح چین بھی انتظار کر رہا ہے کہ حالات کیا بنتے ہیں۔ یورپ اس وقت ٹرمپ کے ساتھ متفق نہیں ہے۔ فرانس اور برطانیہ کے بیانات بھی آئے ہیں، ان کی طرف سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس بورڈ کو پہلے اسرائیل نے رجیکٹ کیا مگر اب وہ اس کا حصہ بن گیا ہے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ ترکیہ کی فوج غزہ میں جائے۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے میں پاکستان کیلئے ایک مشکل صورتحال ہوگی۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ فلسطینیوں کے مفاد میں رہی ہے۔ قائداعظم ؒ کا اس پر واضح اور دو ٹوک موقف موجود ہے جو ہمارے لیے رہنما ہے۔ ہماری عوامی رائے بھی حکومت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ وہاں کسی فوجی کارروائی کا حصہ بنے۔ ہمارے پاس غزہ امن بورڈ میں شامل نہ ہونے کی گنجائش نہیں تھی۔ ٹرمپ کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی ہمارے اندرونی معاملات اور حالات کو پیش نظر رکھ کر ہی بنائی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو ہر فورم پر سراہتے ہیں، ہماری فوج کی تعریف بھی کرتے ہیں لہٰذا ایسی صورتحال میں ہم انکار نہیں کر سکتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم امن فورس کا کس حد تک حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان آئی ایم ایف سے پیکیج لے رہا ہے لہٰذا ہم ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس بورڈ میں ایک ارب ڈالر سالانہ دے سکیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے کا کیا ہوگا؟ اس بورڈ میں شمولیت کے بعد پاکستان کو غزہ کے امن کیلئے فیصلہ ساز میز پر بیٹھنے کا موقع ملے گا، امن کیلئے پاکستان کو اپنا ہر ممکن کردار ادا کرنا چاہیے۔
بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی
(دفاعی تجزیہ کار)
دنیا میں بننے والے نئے بلاکس پر ہمیشہ سوالات اٹھتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس کے مقاصد کیا ہیں اور مستقبل کیا ہوگا، اس حوالے سے ماضی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بڑی جنگوں کی وجوہات پر نظر دوڑائیں تو مرتبہ، سکیورٹی اور بدلہ اہم وجوہات ہیں۔
پہلی عالمی جنگ میں طاقت کے دائرہ کار کو وسعت دینا بڑی وجہ تھی جبکہ دوسری عالمی جنگ کے پیچھے بدلہ شامل تھا۔اس وقت ہٹلر نے دنیا میں جو دشمن بنائے انہوں نے بدلہ لیا۔ تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ نظریات بدل جاتے ہیں، حکومتی بدلتی ہیں لیکن جغرافیہ وہی رہتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ’لیگ آف نیشنز‘ بنی تاکہ دنیا میں امن قائم ہو ، اس کا حشر سب کے سامنے ہے۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ بنی لیکن اس نے بھی آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں کیا، مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ کی طاقت کو امن کے بجائے جنگوں کیلئے استعمال کیا اور اس پلیٹ فارم سے اپنے عزائم کو قانونی حیثیت دی۔افغانستان عراق، غزہ و دیگر ممالک میں جو کچھ کیا گیا وہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں بننے والے ایسے بلاکس اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ غزہ امن بورڈ کی صورت میں نئے بننے والے بلاک کی وجہ اسرائیل کی جارحانہ سوچ اور گریٹر اسرائیل کا خواب ہے جس کے تحت وہ قبضے اور ظلم و بربریت کی بدترین داستانیں رقم کر رہا ہے۔ ماضی کی عالمی جنگوں کی وجوہات کے برعکس اس مرتبہ اسرائیل اور صیہونی طاقتیں مذہبی دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں۔ غزہ میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد شہادتیں ہوئیں لیکن دنیا کے کسی ملک نے بطور ریاست اس کی مذمت نہیں کی۔ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عالمی مجرم قرار دیا، اس کے مجرمانہ عزائم سب کو معلوم ہیں۔نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کی سپورٹ حاصل ہے۔
یہ دونوں مل کر لوگوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صومالی لینڈ کا معاملہ، سوڈان کی سمگلنگ، یمن کی صورتحال، گرین لینڈ و دیگر ممالک کے معاملات معمولی نہیں ہیں، یہ سب مستقبل میں مسائل کے بڑھنے کا پیش خیمہ ہیں۔ غزہ امن بورڈمیں متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالر کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ غزہ کیلئے ٹونی بلیئر کو بھی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں، یہ شخص جھوٹا ہے۔ اب تو یہ رپورٹس بھی منظر عام پر آچکی ہیں کہ جارج بش اور ٹونی بلیئر نے عراق کی جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا، ان کا مقصد برطانیہ کو جنگ میں لانا تھا۔ امریکی الیکشن سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ غزہ میں بڑی عمارتیں، کیسینو، ریسٹ ہاؤسز وغیرہ بنیں گے، سوال یہ ہے کہ اس میں فلسطین کی تعمیر کہاں ہے؟ آرمینیا، قطر، سعودی عرب، آذر بائیجان و دیگر ممالک امریکا کی پالیسیوں کے ساتھ ہیں۔
یورپی یونین اور جو ممالک اس بورڈ میں شامل نہیں ہو رہے ہیں انہیں ٹرمپ برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ خاصل طور پر یورپی یونین آج کل ٹرمپ کے نشانے پر ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ اور نیٹو کے متبادل کوئی نئی اقوام متحدہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہم سٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کیلئے اس کا حصہ بنا ہے۔ پاکستان پاور سینٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ہم 1947ء سے آج تک غزہ کی آزادی اور فلسطین کے ساتھ ہیں۔ ہم 1973ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ بھی لڑنے گئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم غزہ اور فلسطین کیلئے کیا کردار ادا کرسکیں گے۔ ہمی سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا، کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ میرے نزدیک اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہیے تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔
محمد مہدی
(ماہر امور خارجہ )
پاکستان سے علیحدگی کے بعد جب برطانیہ نے بنگلہ دیش کوتسلیم کر لیا تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کامن ویلتھ کو چھوڑ دیا۔ پھر ہمیںاس فورم کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور 1988ء میں بے نظیر بھٹو دوبارہ پاکستان کو کامن ویلتھ لے گئیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے الائنس یا بلاکس کی اہمیت ہوتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی گزشتہ دنوں میں سوئٹزر لینڈ میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس اپنی مرضی کے فیصلوں کی کتنی گنجائش ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے غزہ میں اپنی فوج نہیں بھیجیں گے۔
فلسطین یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ پاکستان واحد ملک ہے جس کی اسرائیل کے ساتھ ظاہری روابط نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ترکیہ، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہو رہے ہیں تو ایسے میں پاکستان کیا کرسکتا تھا۔ جذبات، دل اور دماغ تو کہتے ہیں کہ بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن زمینی حقائق کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔اس بورڈ میں شامل ممالک میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب اور انڈونیشیا کی فوج بھی مضبوط ہے۔
انڈونیشیا نے تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دس ہزار فوج غزہ بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان کے علاوہ اس بورڈ کے تمام اراکین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔ پاکستانی معاشرہ اسرائیل کے حوالے سے ایک خاص سوچ رکھتا ہے، اسرائیل کے بارے میں قائداعظمؒ کی پالیسی ہی پاکستان کی پالیسی ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔ فلسطین کا دو ریاستی حل میرے نزدیک پاکستان کی غلطی تھی۔ امریکی تھنک ٹینک کہ رہے ہیں کہ ایک ہی ملک ہو اور یہاں روز روز کی لڑائی ختم ہونی چاہیے کہ اسرائیلی اور فلسطینی اکٹھے رہیں۔امریکی صدر کے داماد غزہ میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کی بات کرچکے ہیں۔
مصر میں شرم الشیخ جبکہ سعودی عرب میں بھی ایک الگ جدید شہر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یورپ نے امریکا دوستی میں بہت کچھ کھویا ہے اب ا س کی فوجی طاقت ختم ہوگئی ہے۔ جرمنی ایک معاشی طاقت ہے لیکن اس کی فوج کہاں ہے؟ اب یورپ کو احساس ہو رہا ہے انہیں خود کو مضبوط کرنا چاہیے۔ روس بھی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ چین بھی پاکستان کے ساتھ رابطے میں تھا اور چاہتا تھا کہ پاکستان اس بورڈ کا حصہ بنے۔پاکستان کی فوج کو غزہ نہیں جانا چاہیے۔ ماضی میں اردن میں فلسطینی کیمپس پر جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے یاسر عرفات بھارت کی طرف گئے، ہمیں اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ماضی میں یمن کا مسئلہ بنا تو اسے پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا گیا جس کے بعد فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ سے بچ گئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا تھا طاقت کے زور پر شام میں حکومت نہ کریں۔ پاکستان ایسی پالیسیوں کے خلاف رہا ہے۔ امید ہے کہ اب بھی پاکستان کسی لڑائی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی بننا چاہیے۔ اسرائیل نے ہمیشہ سازشوں میں ہمارے خلاف کام کیا۔ بھارت کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ ہے، متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اگر امن بورڈ کی آڑ میں ایران میں کچھ کیا گیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کے لیے ترکیہ اور ایران بارڈر پر فالٹ لائنز ہیں۔ ایسٹ ترکمانستان موومنٹ کے ساتھ اسرائیل کے روابط قائم ہیں۔ چین کو بھی تشویش ہے کہ اگر اسرائیل ایران میں آیا تو افغانستان کے راستے چین کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔ پاکستان کو بہت احتیاط سے چلنا ہوگا۔