امریکا کے مختلف حصوں میں انتہائی طاقتور برفانی طوفان اور ٹھٹھرتی سردی نے معمولات زندگی کو ٹھپ کرکے رکھ دیا۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیکساس سے لے کر نیو انگلینڈ تک 20 کروڑ سے زائد افراد شدید سردی کے انتباہات کی زد میں تھے۔
ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کئی علاقوں میں یہ کڑاکے کی سردی پورا ہفتہ برقرار رہ سکتی ہے۔
نیشنل ویدر سروس نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں شدید سرد ہوائیں ملک کے مشرقی دو تہائی حصے میں پھیل جائیں گی جہاں منفی درجہ حرارت اور ریکارڈ سردی کی توقع ہے۔
ادارے کے مطابق خطرناک حد تک ٹھنڈی ہوائیں برقرار رہیں گی اور معمول سے کہیں کم درجہ حرارت فروری کے آغاز تک جاری رہ سکتا ہے۔
بعض مقامات پر درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے پہنچ گیا اور متعدد افراد ہائپو تھرمیا کا شکار ہوگئے۔
موسم کی خرابی اور شدت کا انداز کا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے ملک میں 12 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوچکی ہیں۔
امریکا کی کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ اسکولز، دفاتر اور عوامی مقامات بند کیے جا چکے ہیں۔ لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔
نیویارک، میساچوسٹس، ٹیکساس اور دیگر ریاستوں میں سڑکیں برف سے ڈھک گئی ہیں اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
جنوب اور مشرقی علاقوں میں شدید سردی کے باعث بجلی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی۔
امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک شدید سردی اور برف باری کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ شہریوں کو سخت احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔