18ویں ترمیم کی بنیادی روح یہ ہی تھی کہ انتظامی اور مالی اختیارات مرکز سے لے کر صوبوں اور پھر صوبوں سے لے کر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک جائے گا۔ ماضی میں ایک عمومی گلہ یہ تھا کہ وفاقی مرکزیت صوبائی خود مختاری کی راہ میںا بڑی رکاوٹ ہے مگر 18ویں ترمیم کے بعد اب سیاسی بحث کا بنیادی نقطہ یہ بن گیا ہے کہ صوبے مقامی خود مختاری کے خلاف ہیں اور صوبوں میں اضلاع مقامی خود مختاری کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ویسے بھی مقامی خود مختاری کے بغیرصوبائی خود مختاری کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس عمل سے گورننس کا نظام اپنی افادیت یا شفافیت قائم کرسکے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بقول 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی سطح سے صوبائی یا مقامی خود مختاری کا نہ ہونا جمہوری وعدے سے غداری ہے۔مسئلہ صرف جمہوری وعدوں کی ہی نہیں بلکہ آئین وقانون کی حکمرانی کا ہے۔ پاکستان کے آئین میں موجود آرٹیکل 140.A آرٹیکل 32 اس ملک میں وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومت کی بات کرتا ہے۔بلدیاتی اداروں اور مقامی حکومتوں کے درمیان بنیادی نوعیت کے فرق کو بھی ہمارا آئین واضح کرتا ہے اور بلدیاتی اداروں کی نفی کرکے مضبوط،خود مختاراور شفاف سیاسی ،انتظامی اور مالی خود مختاری کے ساتھ اس نظام کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتا ہے۔
خود مختار مضبوط مقامی حکومتوں کا مقدمہ محض ایک صوبہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کام میں تمام بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتیں جو صوبائی سطح پر اقتدار کی سیاست کا حصہ رہی ہیں وہ شامل ہیں۔اس میں بڑی سیاسی جماعتیں جو قومی سیاست میں اپنی اہمیت رکھتی ہیں جن میں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نمایاں ہیں کا کردار باقی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے ۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں مضبوط مقامی خود مختار نظام کے خلاف کیونکر ہیں ۔اول صوبائی سطح پر اقتدار کی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ صوبائی سطح پر مرکزیت کا اختیار ان تک محدود رہے گا اور وہ سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری کی تقسیم ،مضبوط مقامی نظام حکومت کے تسلسل،بروقت انتخابات اور وسائل کی مقامی تقسیم کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ سمجھتی ہیں۔ دوئم صوبائی اور مقامی سطح پر موجود مضبوط بیوروکریسی کا نظام سمجھتا ہے کہ اگر اس نظام کی گورننس اور فیصلوں یا انتظامی سیاسی اختیارات پر اپنا تسلط قائم رکھنا ہے تو ہمیں ہر محاذ پر مقامی حکومتوں کے نظام کی نفی کرنا ہوگی۔
سوئم اصل جنگ ترقیاتی وسائل کی تقسیم پر ہے جب تک صوبائی یا قومی اسمبلی کے ارکان کا ترقیاتی فنڈکی سیاست میں حصہ ہوگا اور یہ عملی اختیار مقامی حکومتوں تک محدود نہیں ہوگا صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور ان کے درمیان مالی وسائل کے ٹکراو کی جنگ جاری رہے گی۔چہارم جب صوبائی حکومت اور صوبائی بیوروکریسی نے یہ اصولی فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم نے صوبائی گورننس کا یہ نظام صوبائی سطح پر بننے والی مختلف نوعیت کی کمپنیوں یا اتھارٹیوں یعنی سولڈ ویسٹ مینجمنٹ، صاف پانی ، ماحولیات، ناجائز تجاوزات، تعلیم اور صحت سمیت مختلف طرز کی بنیاد پر چلانا ہے جو اصولی طور پر مقامی حکومتوں کی دسترس میں آتے ہیں اور ان کا نظام اگر صوبائی کنٹرول میں ہی ہونا ہے تو پھر یہ عمل مقامی حکومتوں کے مقابلے میں ایک صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا متبادل نظام ہے جو حقیقی معنوں میں خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کی نفی کرتا ہے۔
پنجم کیونکہ مقامی حکومت کا نظام صوبائی معاملہ ہے تو اس کا فائدہ صوبائی حکومتیں اپنی من مانی اور آمرانہ طرز عمل کی بنیاد پر مقامی حکومتوں کے نظام کو کمزور کرتی ہیں اور ان معاملات میں وفاق کی کسی بھی سطح پر نگرانی اور جوابدہی کا نہ ہونا صوبائی سطح پر موجود حکومتوں کو نہ صرف بے لگام کرتی ہیں بلکہ سب صوبوں کا نظام نہ صرف ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے بلکہ بنیادی نوعیت کے تضاد کی بھی عکاسی کرتا ہے ۔
جو لوگ یہ دلیل اور منطق دیتے ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتیں جن میں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی اس نظام کی مضبوطی میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ واقعی مضبوط مقامی حکومت کی حامی ہیں ۔لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا سندھ میں ،پنجاب میں مسلم لیگ ن کا اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کا طویل تسلسل کے باوجود ان صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام میں اختیارات کی تقیسم جوں کی توں ہے ۔ اس ناکامی کی ذمے داری صوبائی حکومتیں لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد گورننس کی بہتری کی بڑی ذمے داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور اسی ذمے داری میں گورننس کی بہتری کے لیے صوبائی سطح پر مضبوط اور خود مختارمقامی حکومتوں کی تشکیل اور مضبوطی کا بھی ہے۔
اصل میں سیاسی قیادت،سیاسی جماعتیں او رعملی طور پر بیوروکریسی میں وہ خوف ہے جو مضبوط اور خود مختارمقامی حکومت کے نظام میں رکاوٹ ہے ،کیونکہ ہم عملا نچلی سطح پر لوگوں کو بہت زیادہ اختیار دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی مقامی قیادت کو پیدا کرنا ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ ہے۔جب تضادات کی بنیاد پر یا تو کمزور اور مفلوج بنیاد پر ہی مقامی حکومتوں کے نظام کو عدالتی فیصلوں کے ڈر اور خوف کی بنیاد پر چلانا ہے یا ہم نے اپنی مرضی ،منشا اور خواہش کی بنیاد پر اس نظام کے عملی تسلسل اور بروقت انتخابات کو نہیں برقرار رکھنا تو پھر بری حکمرانی یا بری گورننس کی بھاری قیمت عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی ۔
یہ جو ہم نے عالمی دنیا کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی اہداف2015-30طے کیے تھے یا اس پر عملدرآمد کی مضبوط کمٹمنٹ ظاہر کی تھی اس وقت ہم عملی طور پر ایک بڑی ناکامی سے دوچار ہیں ۔اس ملک میں عورتوں، اقلیتوں معذور افراد ، خواجہ سرا، کسان،مزدور اور نئی نسل کے جو سنگین مسائل ہیں ان کا بھی کوئی حل ہمیں موجودہ گورننس کے نظام میں نظر نہیں آرہا جو بڑی تیزی سے لوگوں کا اعتماد اس نظام پر کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
یہ کہنا ہوگا کہ اگر ہم اس وقت چاروں صوبوں میں موجود مقامی حکومتوں کے نظام کا سیاسی ،انتظامی اور قانونی سمیت کمزور طبقات کی نمائندگی کا جو بھی جائزہ لیں وہ یہ ہی نتیجہ دے گا کہ تمام صوبوں کے نظام موجودہ آئین اور ہماری گورننس کی ضروریات سمیت خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کے خلاف ہے ۔اس لیے نظام میں انتخاب کا ہونا ایک مسئلہ ہے مگر جنب نظام میں ہی بنیادی نوعیت کی خرابیاںیا تضادات ہونگے تو پھر ہم کیسے مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کے سفر میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔اس وقت اس نظام کی بہتری کے لیے ہمیں روائتی اور فرسوددہ سوچ اور فکر سے باہر نکل کر مقامی حکومتوں کے نظام کا سیاسی آڈٹ کرنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ بنیادی نوعیت کی خرابیاں کہاں ہیں اور کون اس کا ذمے دار ہے۔
اسی نتیجہ یا تجزیہ کو بنیاد بنا کر صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے بنیادی نوعیت کے فریم ورک پر اتفاق کرنا ہوگا اور اس بنیاد پر صوبائی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام پر پالیسی سازی ،قانون سازی اور جدید تصورات پر مبنی حکمرانی کے نظام کو بنیاد بنا کر ہم عملی طور پر اصلاحات و ہ بھی سخت گیر اصلاحات کا راستہ اختیار کریں تو ہم بہتری کی طرف بڑھ سکتے ہیں ،کیونکہ گورننس کا بحران تقاضہ کرتا ہے کہ ہم غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کریں ۔