ثقافت کے فروغ میں فلم انڈسٹری کا اہم کردار ہے۔ ’’ دیکھو فلم فیسٹیول‘‘ کا مقصد طلبہ کی تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔ پاکستان کی سب سے قدیم پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے لاہور کے ثقافتی مرکز الحمرا میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ کے تحت ہونے والے دو روزہ فلمی میلہ کا افتتاح کرتے ہوئے، اپنے ان خیالات کا اظہارکیا۔ ملک کی کسی سرکاری یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کا پہلا فلمی میلہ تھا۔ اس فلمی میلہ میں معروف فلمی ڈائریکٹر سید نور، ڈائریکٹر رفیق شہزاد، ڈرامہ نویس آمنہ مفتی اور پروڈیوسر صفدر ملک سمیت فلمی صنعت کے اہم لوگوں نے شرکت کی۔
سید نور نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ وہ آج کے نوجوان کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آیندہ جو طالب علم اس فلمی فیسٹیول میں انعام حاصل کرے گا، وہ اس کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیں گے۔ پاکستانی فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے چیئرمین رفیق شہزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی نوجوان سازی کا کام کرنا، دراصل اپنے مستقبل کو سنبھالنا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی فلم اور براڈ کاسٹنگ کے شعبہ کی سربراہ لبنیٰ ظہیر حسن جن کی قیادت میں یہ فلم فیسٹیول منعقد ہوا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سربراہی میں اس فلم فیسٹیول کا انعقاد ممکن ہوا ہے۔
ملک میں صحافت کا سب سے پہلے شعبہ 60ء کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی میں قائم ہوا تھا۔ اسی طرح 2008 میں پنجاب یونیورسٹی میں فلم اور براڈ کاسٹنگ کا شعبہ علیحدہ سے قائم ہوا۔ شعبہ سے تعلق رکھنے والی ایک استاد کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ مختلف فلم کی تقاریب منعقد کرتا رہا ہے مگر موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کے وژن کے مطابق اپنے شعبے کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں۔
دنیا کی کسی یونیورسٹی میں فلم کا شعبہ قائم ہونا اور شعبہ کے تحت فلم فیسٹیول منعقد ہونا عام سی بات ہے۔ یونیورسٹیاں اپنے ملک کی فلمی صنعت سے مکمل تعاون کرتی ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ فلم کے اپنے ناظرین پر ہونے والے اثرات پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ تحقیق فلم کے لیے نئے آئیڈیاز تلاش کرنے والوں کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے، یوں یونیورسٹیوں میں فلم کے تمام شعبوں کے لیے تربیت یافتہ کارکن تیار کیے جاتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ممبئی کی فلمی صنعت سے نامور فنکار مختلف یونیورسٹیوں اور انسٹی ٹیوٹ سے فارغ التحصیل ہیں۔
بھارت کے معروف اداکار شاہ رخ خان بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کے قائم کردہ جامعہ ملیہ دہلی کے ماس کمیونی کیشن کے شعبہ کے طالب علم رہے ہیں۔ انھوں نے نیشنل اسکول آف ڈراما سے تربیت حاصل کی۔ بھارت کے ایک اور مشہور فنکار ایوشمان کھرانہ چندی گڑھ میں قائم پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونی کیشن سے ڈگری یافتہ ہیں۔ بھار ت کی یونیورسٹیوں میں موسیقی کی تعلیم کے شعبے قائم ہیں مگر پاکستان میں سرکاری یونیورسٹیوں کی صورتحال بالکل مختلف رہی ہے۔ ملک میں دو بڑی یونیورسٹیاں پنجاب یونیورسٹی اورکراچی یونیورسٹی طلبہ کی کثیر تعداد کی بناء پر نمایاں رہی ہیں مگر ریاستی پالیسی کی بناء پر پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی پر رجعت پسندی کا سایہ رہا ہے۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں کئی ترقی پسند اساتذہ کو ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے برطرف کیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں تو سرکاری جامعات میں کسی فنکار کو بلانا، کوئی موسیقی کا پروگرام کرنا اور ثقافتی سرگرمیاں مشکل ہوگئی تھیں، سائنس کے مضامین میں بھی مذہبی مواد شامل کیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ طالب علم سائنسی طرزِ فکر سے محروم ہوگئے اور کسی معاملے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی عادت اختیارکرنے کے بجائے عقیدے کی بنیاد پر اس کو قبول کرنے کی عادت کا شکار ہوئے۔ یہی ذہن تھا جس کو رجعت پسند قوتوں نے پہلے افغانستان میں نوجوانوں میں پروان چڑھایا گیا اور پھر سوویت یونین کے خلاف جہاد کے پروجیکٹس کے لیے استعمال کیا۔ اسی سوچ نے معاشرے میں پدر شاہی سوچ کو تقویت دی جس کے پورے معاشرے پر منفی اثرات برآمد ہوئے۔
کراچی یونیورسٹی میں بھی ایسی ہی صورتحال رہی۔ کراچی یونیورسٹی کے قیام کے بعد یونیورسٹی کی قیادت کے لیے جو وائس چانسلر مقررکیے گئے انھوں نے اساتذہ اور طلبہ میں رجعت پسند گروہوں کی سرپرستی کی۔ یورپ اور امریکا کی معروف یونیورسٹیوں سے سند یافتہ ترقی پسند اساتذہ کے لیے کراچی یونیورسٹی کے دروازے خاصے عرصے تک بند رہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق رکن اور کراچی یونیورسٹی طلبہ یونین نے پہلے (طلبہ کے ووٹوں سے براہِ راست منتخب ہونے والے پہلے صدر) حسین نقی کو یونیورسٹی سے برطرف کیا گیا ۔ طلبا اور طالبات کے درمیان تین فٹ کے فاصلے کا قانون نافذ کیا گیا تھا ۔
پنجاب یونیورسٹی میں Arts, History and Visual Arts کا شعبہ تو 60ء کی دہائی میں قائم ہوگیا تھا جہاں طلبہ کو آرٹ کی تعلیم دی جاتی تھی مگر کراچی یونیورسٹی میں 1998تک ایسا کوئی شعبہ موجود نہیں تھا۔ کراچی یونیورسٹی میں Visual Arts کا شعبہ 1998 میں قائم ہونا تھا مگر یہ شعبہ دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ترقی نہ کرسکا۔ فلمی صنعت کی رپورٹنگ سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے سینئر صحافی اور دانشور آئی اے رحمن کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست نے کبھی فلم کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا تھا جس کے اثرات یونیورسٹیوں پر بھی پڑے۔ امریکا اور یورپ میں یونیورسٹیاں عالمی آزادی Academic Freedom کی بناء پر دنیا کے ہر موضوع پر تحقیق کرتی ہیں اور یہ تحقیق سماجی اداروں کی رہنمائی کرتی ہے مگر پاکستانی ریاست کی پالیسی کی بناء پر ملک کی سرکار ی یونیورسٹیاں آزادی سے اپنے فرائض انجام نہیں دے سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلم اور موسیقی کے مضامین ’’ ممنوع مضامین ‘‘ میں شامل ہیں۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی قوت سے ہی فلمی صنعت کا ماحول تبدیل ہوجاتا ہے اور تعلیم یافتہ افراد کے آنے سے فلمی صنعت کے کہانی نویسوں کو نئے نئے آئیڈیاز ملیں گے۔ ان آئیڈیاز میں یقیناً عوامی مسائل کی عکاسی ہوگی اور فلم کی پروڈکشن کا معیار بھی بلند ہوجائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے فلم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے فلمی فیسٹیول کے انعقاد کو یقینی بنایا ہے، وہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ کراچی یونیورسٹی کی یہ بدقسمتی ہے کہ آج تک وہاں موسیقی کا شعبہ قائم نہیں ہوسکا۔
کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی جو طالب علمی کے زمانے میں روشن خیال گروپ سے تعلق رکھتے تھے وہ کب کراچی یونیورسٹی میں فلم اور موسیقی کے شعبہ کے قیام کا فیصلہ کریں گے اور کب کراچی کے آرٹس کونسل میں کراچی یونیورسٹی فلم کا عالمی فیسٹیول منعقد کریں گے؟