عالمی ومقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔
یورپین یونین ممالک اور امریکا کے درمیان کشیدہ حالات کے علاوہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی مشرق وسطی میں آمد کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر فوجی مشقوں سے خطے میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل نے عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں غیریقینی ماحول پیدا ہونے سے سونا اور چاندی کی عالمی ومقامی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 211 ڈالر کے اضافے سے 5ہزار 293ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی بدھ کو ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک روزہ کاروبار کے دوران 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت یکدم 21ہزار 100روپے کے ریکارڈ اضافے سے 5لاکھ 51ہزار 662روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 18ہزار 090روپے کے ریکارڈ اضافے سے 4لاکھ 72ہزار 961 روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر آگئی۔
اسی طرح فی عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 36سینٹس کے اضافے سے 114ڈالر 27سینٹس کی بلند ترین سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 271روپے کے اضافے سے 11ہزار 911روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 232روپے کے اضافے سے 10 ہزار 211روپے کی بلند سطح پر آگئی ہے۔
عالمی سطح پر ڈی ڈالرائزیشن پالیسی سے امریکی ڈالر 4سال کی کم سطح پر آنے، جیوپولیٹیکل صورتحال سے سونے میں اثاثے بڑھانے کے لیے طلب بڑھتی جارہی ہے۔
جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے سینٹرل بینکس بھی خالص سونے خریداری سرگرمیوں میں اضافے کا رحجان دیکھا جارہا ہے جس سے سونے اور چاندی کی قیمتیں یومیہ بنیادوں پر تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔