کراچی:
شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جے پی ایم سی میں لاکھوں روپے مالیت کی ادویات چوری پکڑی گئی، ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں لاکھوں روپے مالیت کی ادویات چوری کا واقعہ پیش آیا، ایمرجنسی اسٹاف کا ایک فرد ادویات وین میں بھر کر چوری کرکے لے جارہا تھا۔
سیکیورٹی گارڈز نے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی پر ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر اسپتال چوکی منتقل کردیا جس کے بعد اسپتال انتظامیہ کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ جناح اسپتال میں ادویات چوری کا یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا جبکہ اس بار برآمد ہونے والی ادویات کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی ڈاکٹر خالد شیر نے بتایا کہ جناح اسپتال میں ادویات چوری کی اطلاعات پر ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے جبکہ معاملے کی شکایت محکمہ صحت سندھ کو بھی ارسال کردی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹل انکوائری مکمل کرکے رپورٹ وزیرِ صحت سندھ کو بھجوا دی گئی ہے اور امید ہے کہ محکمہ صحت اور پولیس اس معاملے پر سخت کارروائی کریں گے۔
ڈاکٹر خالد شیر کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال میں جلد مختلف شعبوں کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، پہلے مرحلے میں انوینٹری مینجمنٹ سسٹم متعارف کروایا جائے گا جس کے تحت اے ڈی ایم، اکاؤنٹس اور میڈیسنل و سرجیکل سینٹرل اسٹورز کو چار سے چھ ہفتوں میں سو فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔
ان کے مطابق اس نظام سے ادویات کی چوری اور بدعنوانی کے واقعات میں 90 فیصد تک کمی آئے گی۔ سول اسپتال کراچی کے بعد سندھ کے کسی بھی ٹیچنگ اسپتال میں یہ نظام موجود نہیں اور جے پی ایم سی اس حوالے سے دوسرا بڑا ادارہ ہوگا۔