امریکی ٹریڈ وار اور نئی صف بندیاں

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم پہلے ہی 130 ارب ڈالر سے تجاوزکر چکا ہے


ایڈیٹوریل January 29, 2026

بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیر التوا ایک بڑے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔ جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کے تحت کھولے گا۔

عالمی سیاست اور معیشت اس وقت جس غیر معمولی دوراہے پرکھڑی ہے، وہاں فیصلے محض اقتصادی نہیں رہے بلکہ وہ طاقت، اثر و رسوخ اور عالمی قیادت کے تعین کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کو ابتدا میں امریکا کی داخلی معیشت کے تحفظ اور عالمی تجارتی نظام میں امریکی بالادستی کے احیا کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکمتِ عملی خود امریکا کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے ’’ امریکا فرسٹ‘‘ کے نعرے کے تحت جس جارحانہ تجارتی پالیسی کو اپنایا، اس نے نہ صرف حریف ممالک بلکہ روایتی اتحادیوں کو بھی بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔تجارتی محصولات، پابندیاں اور دھمکیاں اب سفارت کاری کے روایتی ذرائع نہیں رہے بلکہ انھیں ایک سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طرزِ عمل نے عالمی نظام میں اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہ ممالک جو دہائیوں سے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے تھے، اب اپنے مستقبل کے بارے میں ازسرِنو سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر ایک نیا رجحان جنم لے رہا ہے جس میں ممالک امریکا پر انحصار کم کر کے متبادل شراکت داریوں اور منڈیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہی پس منظر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ ٹرمپ کی شروع کردہ اس تجارتی جنگ کا انجام کیا ہوگا اور آیا اس میں کوئی واضح فاتح سامنے آئے گا یا نہیں۔ بظاہر تو امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، مگر عالمگیریت کے اس دور میں بڑی معیشت بھی مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہو سکتی۔ چین، یورپی یونین اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی سپلائی چین کا لازمی حصہ ہیں، اور ان کے بغیر عالمی تجارت کا پہیہ رک سکتا ہے۔

اسی حقیقت کا اعتراف شاید اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ شدید بیانات اور سخت اقدامات کے باوجود صدر ٹرمپ آیندہ مہینوں میں چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب کہ اس کے بعد چینی صدر کے دورہ امریکا کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ سفارتی رابطے اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹریڈ وار جتنی بھی شدید کیوں نہ ہو، مکمل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکا اور چین دونوں جانتے ہیں کہ طویل المدت معاشی جنگ نہ صرف عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے گی بلکہ داخلی سطح پر بھی بے چینی اور عدم استحکام کو جنم دے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا سب سے بڑا نقصان شاید یہ ہوا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھوتا جا رہا ہے۔

یورپی یونین، کینیڈا، جاپان، برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک اس حقیقت سے دوچار ہیں کہ امریکی پالیسیاں اب پیش گوئی کے قابل نہیں رہیں۔ کسی بھی وقت محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں، معاہدوں پر نظرثانی ہو سکتی ہے اور سیاسی اختلافات کو معاشی سزا میں بدلا جا سکتا ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت اتحادیوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔اسی تناظر میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے کا طے پانا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ معاہدہ محض دو معاشی قوتوں کے درمیان تجارت بڑھانے کا منصوبہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کا مظہر بھی ہے۔

تقریباً دو دہائیوں سے جاری مذاکرات کا اچانک نتیجہ خیز ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی حالات نے فریقین کو اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مفادات کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اس معاہدے کو ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دینا دراصل بھارت کے اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ خود کو ایک بڑی عالمی معاشی قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ بھارت اپنی وسیع آبادی، بڑی منڈی اور صنعتوں کے بل بوتے پر یورپی یونین کے لیے ایک پرکشش شراکت دار بن چکا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین بھی ایک ایسی منڈی کی تلاش میں ہے جو اسے امریکی دباؤ سے کسی حد تک آزاد رکھ سکے۔بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم پہلے ہی 130 ارب ڈالر سے تجاوزکر چکا ہے، جو دونوں کے مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔

اس کے باوجود فری ٹریڈ معاہدہ برسوں سے تعطل کا شکار تھا۔ اس کی وجہ فریقین کے درمیان پالیسی اختلافات، تحفظاتی اقدامات اور حساس شعبوں پر اختلافات تھے۔ تاہم اب یہ تمام مسائل ایک حد تک پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بدلتی دنیا میں سخت اصولوں پر اصرار اب ممکن نہیں رہا۔یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے تعلقات میں بھی تناؤ پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے، جن میں روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر اضافی جرمانہ بھی شامل تھا۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ روسی تیل کی خریداری بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کی مالی معاونت کے مترادف ہے، جب کہ بھارت نے واضح کیا کہ یہ اس کی توانائی ضروریات اور عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔

یہی اختلافات بھارت کو امریکا کے مقابل متبادل شراکت داریوں کی طرف لے گئے۔یورپی یونین بھی امریکی پالیسیوں سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ گرین لینڈ جیسے معاملات پر امریکی دباؤ، محصولات کی دھمکیاں اور بعد ازاں ان سے پسپائی نے یورپی قیادت کو یہ سوچنے پر مجبورکردیا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اب یکطرفہ اعتماد پر نہیں چل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین نے نہ صرف بھارت بلکہ لاطینی امریکی ممالک کے بلاک کے ساتھ بھی ایک طویل عرصے بعد تجارتی معاہدہ طے کیا۔برطانیہ اورکینیڈا جیسے ممالک کا چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کا چین کا دورہ اور چین کو ایک اہم عالمی معاشی کھلاڑی تسلیم کرنا، اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ مغربی دنیا بھی اب چین کو نظرانداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کے چین کے دورے کے بعد امریکا کی جانب سے سخت ردعمل اور محصولات کی دھمکیاں اس بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ایسے میں بھارت اور یورپی یونین کا تجارتی معاہدہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ عالمی طاقتیں امریکی تجارتی جارحیت کے مقابل ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔

اگرچہ بظاہر اس معاہدے کا مقصد امریکا کو چیلنج کرنا نہیں، مگر اس کے اثرات واشنگٹن تک ضرور پہنچے ہیں۔ امریکی حکام کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکا اس پیش رفت کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے۔اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی عالمی تجارت میں کہاں کھڑا ہے۔ پاکستان ایک ایسی معیشت ہے جو پہلے ہی تجارتی خسارے، محدود برآمدات اور صنعتی کمزوری کا شکار ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے چیلنج بن سکتا ہے۔ یورپی منڈی میں جہاں پہلے پاکستان اور بھارت کی مصنوعات کسی حد تک ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی تھیں، اب بھارتی مصنوعات کو واضح برتری حاصل ہو جائے گی۔پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور دیگر محنت طلب صنعتوں پر مشتمل ہے، جو پہلے ہی مسابقتی دباؤ کا شکار ہیں۔

فری ٹریڈ معاہدے کے بعد بھارتی مصنوعات کم قیمت اور بہتر رسائی کے ساتھ یورپی منڈی میں داخل ہوں گی، جس سے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں، اگر یورپی یونین نے اپنی ترجیحات میں تبدیلی کی تو پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔تاہم یہ صورتِ حال پاکستان کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں صرف شکایت یا دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں۔ پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع، صنعت میں جدت اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔ چین، وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ جیسی منڈیوں میں امکانات موجود ہیں، مگر اس کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور مضبوط سیاسی عزم درکار ہے۔ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ طاقت کے زور پر عالمی معیشت کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

عالمگیریت نے معیشتوں کو اس قدر باہم مربوط کر دیا ہے کہ کسی ایک ملک کی یکطرفہ پالیسیاں پورے نظام کو متاثر کرتی ہیں، اگر امریکا اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا تو ممکن ہے کہ وہ خود اس عالمی نظام سے الگ تھلگ ہو جائے جس کی قیادت اس نے دہائیوں تک کی۔آخرکار یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس تجارتی جنگ میں کوئی واضح فاتح سامنے نہ آئے گا۔ نقصان سب کا ہوگا، مگر وہ ممالک جو بروقت خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھال لیں گے، وہ کم نقصان اٹھائیں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی لمحہ ہے کہ وہ محض تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کرے، کیونکہ بدلتی دنیا میں غیر فعالیت سب سے بڑا خسارہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں