سانحہ گل پلازہ؛ ملکی تاریخ میں پہلی بار جاں بحق 42 افراد کی باقیات کی شناخت جدید طریقے سے کرلی گئی

سانحے میں جاں بحق افراد میں سے اب تک شناخت کی جانے والوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے، سربراہ شناخت پروجیکٹ


ساجد رؤف January 29, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے 42 افراد کی باقیات کو اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی مدد سے شناخت کرنے کے بعد جاں بحق افراد کی باقیات لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے مزید 42 افراد کی باقیات کی شناخت کر لی گئیں۔

شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے ایکسپریس سے خصوصی گفگتو کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا، جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی (پروف آف پریزنس) اور موبائل فون لوکیشن کو پوسٹ مارٹم سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ ازسرنو ترتیب دیکر شناخت کیا گیا ہے۔

شناخت کیے جانے والوں میں نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئی فیملی کے 3 افراد عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹا علی شامل ہیں جبکہ سائٹ میٹروول کے رہائشی دبئی کراکری شاپ کے 2 حقیقی بھائیوں نعمت اللہ اور عبداللہ، ان کے 2 کزن یوسف خان اور گارڈن کے رہائشی صداقت اللہ، قصبہ کالونی کے رہائشی کراکری شاپ کے مالک یاسین کے علاوہ 3 سگے بھائیوں خضر علی، حیدر علی، عامر علی اور رنچور لائن کے رہائشی ابو بکر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس سے شناخت کے بعد جاں بحق 12 افراد کی باقیات لواحقین کے سپرد کر دی گئیں ہیں۔ سانحے میں جاں بحق افراد میں سے اب تک شناخت کی جانے والوں کی تعداد 69 ہوگئی ہے جن میں سے 20 افراد کی شناخت ڈی این اے، 12 افراد کی باقیات کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی مدد سے 6 افراد کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی ہے۔

بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونےوالے72 افراد میں سے مجموعی طور پر69 افراد کی شناخت کرلی گئی ہے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے 3 افراد کی باقیات کی تاحال شناخت ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید جن 30 باقیات کی شناخت کی گئی ان میں محمد کامران ولد محمد حنیف ،حمزہ ولد سرفراز، عبدالصمد ولد عبدالرحمان، محمد عدنان ولد محمد حنیف، محمد محسن ولد اعظم آدم شکاری، حسن علی ولد محمد نوید، شیخ خرم تیمور جیلانی ولد محمود اختر، جہانگیر شاہ پراچہ ولد منور شاہ، مدثر ولد محمد عباس، حیدر علی ولد محمد ہادی، سعد ولد سعید، محمد فیضان ولد محمد رشید، راحیلہ تبسم زوجہ قیصر علی، کانتات دختر عبدالمالک، شائشہ زوجہ فضل، آفتاب ولد محمد، اسلام الحق ولد احترام الحق، محمد آصف خان ولد مجید خان، محمد رمضان ولد اللہ بخش، محمد انس ولد محمد عمران، محمد بلال ولد نذیر داؤد، عمران ولد ابراہیم، شیرازعلی ولد محمد رمضان، عاصم سعید ولد محمد سعید، محمد ابرار ولد محمد اکرام، محمد سلیم ولد عثمان غنی، محمد فیصل ولد عثمان، نوید پنوانی ولد محمد جمعہ، عبدالحمید ولدعبدالسلام اورشیخ سلمان ولد شیخ امان اللہ شامل ہیں۔

عامر حسن نے بتایا کہ سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سے ڈی این اے کے ذریعے 4 سے 5 افراد کے نتائج آنا باقی ہیں دیگر باقی تمام باقیات میں سے ڈی این اے کے نتائج منفی آئے ہیں اور باقی باقیات میں سے ڈی این اے کے نمونے نہیں مل سکے ہیں جس کے بعد کسی ایسے حل کی جانب جانا تھا تاکہ باقیات کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسے عالمی انسانی حقوق موجود ہیں کہ جن کے تحت اسی صورتحال میں پروف آف پریزنس کو سامنے رکھتے ہوئے جاں بحق افراد کی لوکیشن، جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی، ان کے استعمال کی اشیاء کا ملنا، ان تمام باتوں کو پوسٹ مارٹم کی معلومات سے ازسرنو ترتیب دیا ہے تو ان باقیات کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔

عامر حسن نے بتایا کہ کچھ لواحقین اپنی دکانوں سے باقیات نکال کر لاتے تھے اور ان کی لوکیشن بھی اسی جگہ کی آ رہی ہوتی ہے، یہ ایک مثبت پوائنٹ ہے۔ مثال کے طور پر سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ابوبکر کے بیٹے تاج محمد خود ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ جا کر اپنے والد کی باقیات لے کر آئے تھے اور تین افراد کی باقیات کو ویڈیو شواہد کی روشنی میں شناخت کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد کی باقیات میں سے ڈی این اے ملنا نہ ممکن تھا کیونکہ باقیات مسلسل آگ کی وجہ سے راکھ میں تبدیل ہوگئے تھے، باقیات ہاتھ میں لیتے ہی ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہیں، ان میں کوئی بھی بائیولوجیکل فلوڈ موجود نہیں ہے، اس ساری صورتحال میں کوئی نہ کوئی حل نکالنا ضروری تھا۔

شناخت پروجیکٹ کے سربراہ نے بتایا کہ کہ آج اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی مدد سے مزید 10 سے زائد افراد کی باقیات کو شناخت کرنے کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔

مقبول خبریں