ایران نے کسی بھی جنگی صورت حال کے پیش نظر امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بتایا کہ بغیر پائلٹ کے اُڑان بھرنے والے ان ڈرونز میں بارودی مواد لے جانے اور ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرونز جون 2025 میں امریکا کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے تجربات اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔
یہ ڈرونز ایرانی فوجی ماہرین نے وزارت دفاع کے تعاون سے تیار کیے ہیں اور انہیں مختلف آپریشنل زمروں میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جن میں اسٹرائیکر یعنی حملہ کرنے اور جاسوسی و نگرانی کرنے والے ڈرونز بھی شامل ہیں علاوہ ازیں الیکٹرانک وارفیئر بھی بیڑے کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرونز زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر متحرک اور ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج کے لیے اسٹریٹیجک برتری کو برقرار رکھنا اور اسے مزید بڑھانا ایک مستقل ترجیح ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں تیز رفتار اور فیصلہ کن ردعمل کے لیے تیاری ایران کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جس پر ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تاہم ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے شرائط منصفانہ، متوازن اور غیر جابرانہ ہوں۔