کراچی:
عالمی مارکیٹ میں جمعرات کی شب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی ہلچل مچ گئی اور قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد 5 فیصد گر گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت 5 ہزار 594 ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اچانک 5فیصد گر کر 5ہزار 109ڈالر کی تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق ریکارڈ اضافے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت سونے کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنی تاہم سونا اب بھی ماہانہ بنیادوں پر 24فیصد اضافے کے ساتھ سال 1980 کے بعد بہترین پوزیشن میں ہے۔
دوسری جانب، چاندی کی قیمت بھی 121ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد دوبارہ 7ڈالر گر کر 114 ڈالر کی سطح پر آگئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (UBS) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے وسط تک عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 6 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جاسکتا ہے۔
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عمران ٹسوری کے مطابق سونے کی قیمت میں 4فیصد سے زائد کی کمی سے تقریباً 5ہزار 140ڈالر فی اونس رہ گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی فی اونس قیمت 5ہزار 600ڈالر کی بلند سطح پر پہنچتے ہی وسیع پیمانے پر منافع حاصل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سونے کو امریکی اثاثوں پر اعتماد میں کمی کی حمایت حاصل تھی، جو بڑھتی ہوئی معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث پیدا ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ سونے کی قیمت میں ریکارڈ تیزی اس وقت رونما ہوئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے ڈالر کی قدر گھٹ کر چار سال کی کم ترین سطح پر آنے کو یکسر نظرانداز کیا، جس سے کمزور کرنسی کے لیے برداشت کا اشارہ ملا، ساتھ ہی نئے ٹیرف خطرات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر تازہ تنقید بھی سامنے آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے لیبر مارکیٹ میں استحکام کو جواز بنا کر شرح سود میں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رکھا ہے تاہم فیڈرل ریزرو نے مہنگائی کی بلند شرح برقرار رہنے اور مستقبل کے امکانات غیر یقینی ہونے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
عمران ٹیسوری کے مطابق امریکی دھمکیوں پر ایران کی جانب سے اپنے دفاع کرنے کے عزم کے ساتھ پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کے ردعمل سے جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور برقرار ہیں، جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا، امریکا کی ایران کے قریب اپنی فوج کی تعیناتی اور تہران کی آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی مشقوں سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔