وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان کونسل فار رینوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پیکرٹ) ترقیاتی منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں پر معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق رحیم کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تحقیقات کیلئے جوائنٹ سیکرٹری انکوائری آفیسر تعینات کیے گئے ہیں۔ تیس روز میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔
فاسٹ ٹریک کی لیب کی عمارت کی تعمیر کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں مبینہ طور پر 80 لاکھ سے زائد کی خردبرد اور بدانتظامی پر وزارت نے سخت نوٹس لیا ہے جس پر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو شوکاز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاونٹس کو معطل کر دیا تھا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ الزامات کی تفصیل سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاونٹس کو بھجوا دی گئی ہے، جس میں مبینہ بدانتظامی پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکاؤنٹس) مسٹر طارق رحیم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔
انتظامی کنٹرول میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کے مالی معاملات درست طریقے سے سنبھالے نہیں گئے۔ الزام ہے کہ منصوبے سے متعلق اکاؤنٹس کی فائلیں اور اہم ریکارڈ اکاؤنٹس سیکشن میں موجود نہیں حالانکہ طارق رحیم کے پاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکاؤنٹس) کا چارج تھا
الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ منصوبے کے اکاؤنٹس کو غلط طریقے سے استعمال اور ناقص انداز میں برقرار رکھا گیا، سیکرٹری سائنس نے معاملہ کی مکمل چھان بین کے لیے وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری طاہر احسان کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے تیس رپورٹ طلب کر لی ہے۔