مہنگی بجلی زیادہ ٹیکس، معاشی چیلنجز عفریت کی شکل اختیار کر چکے، ایکسپریس فورم

دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 سے 65 فیصد ہے


اجمل ستار ملک January 31, 2026
مہنگی بجلی فوٹو: فائل

لاہور:

ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا مگر معاشی چیلنجز عفریت کی شکل اختیار کر چکے ہیں، دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 سے 65 فیصد ہے، زیادہ پیداواری لاگت، مہنگی بجلی، زائد ٹیکسیشن، ضرورت سے زائد قوانین اور پالیسی مسائل کی وجہ سے ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، بڑی صنعت بند ہو رہی۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے ’’ملکی معاشی صورتحال‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیئے، ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ذکی اعجاز نے کہا کہ ہماری پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، بجلی مہنگی ہے، پاکستان میں صنعت کو ساڑھے 12 سینٹ فی یونٹ مل رہی ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں 8 سینٹ اور سری لنکا میں 6 سینٹ ہے، افسوس ہے کہ ملک کی انڈسٹری ختم ہورہی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ملک میں شدید بے روزگاری کا خطرہ ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد جبکہ پاکستان میں 55 یس 65 فیصد ہے، سابق ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ دو برس قبل حکومت کی گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا پلان کیا، اس پالیسی کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

 اب حکومت نے ڈھائی ملین ٹن گندم نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گندم کو مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے، امپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں کی اجازت ہونی چاہیے، شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا ہوگا۔

 ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر مبشر منور خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسائل ہیں جو آج تک ٹھیک نہیں ہوئے، ہماری بیوروکریسی کی معیشت کے حوالے سے نہ ٹریننگ ہے اور نہ ہی کپیسٹی، معیشت کو بیوروکریسی کے اختیار سے نکال کر ماہرین کے حوالے کرنا ہوگا، توانائی کے ریٹ میں کمی لائی جائے ۔

مقبول خبریں