آباد ایکسپو کامیاب رہی وسیع سرمایہ کاری سے ایک لاکھ افراد کو روزگار ملے گا محسن شیخانی

ایکسپو میں تعمیراتی کمپنیوں نے ایک کھرب 50 ارب روپے مالیت کے تعمیراتی منصوبے ڈیزائن کرلیے، غیر ملکی کمپنیوں سے۔۔۔


Ehtisham Mufti August 16, 2014
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے تحت انٹرنیشنل ایکسپو کے اختتام پر چیئرمین محسن شیخانی پریس کانفرنس کر رہے ہیں، سینئر وائس چیئرمین سلیم قاسم پٹیل، محمود شیخانی، آصف سم سم اور عارف جیوا بھی موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

آباد انٹرنیشنل ایکسپو 2014 کے کاروباری نتائج غیرمعمولی رہے۔

غیرملکی تعمیراتی کمپنیوں نے200 ملین ڈالر کے تحریری معاہدے کیے اورآئندہ چند ماہ میں جرمنی، چین اورترکی کی جانب سے مزید 800 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے متوقع ہیں، یہ بات ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی نے سینئر وائس چیئرمین سلیم قاسم پٹیل، وائس چیئرمین حنیف گوہر، ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی آصف سم سم اور عہدیداروں کے ہمراہ جمعرات کو آباد انٹرنیشنل ایکسپو 2014 کے اختتام پر کراچی ایکسپوسینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہی۔

محسن شیخانی نے نمائش کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3 روزہ ایکسپو کے دوران تعمیراتی کمپنیوں نے ایک کھرب 50 ارب روپے مالیت کے نئے تعمیراتی منصوبے ڈیزائن کیے ہیں اور دسمبر 2014 تک مقامی تعمیراتی شعبہ مجموعی طور پر600 ارب روپے مالیت کے رہائشی اور تجارتی منصوبوں کا اعلان کرے گا، محسن شیخانی نے بتایا کہ تعمیراتی میٹریل تیار کرنے والی 3 چینی کمپنیوں نے پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں منافع بخش سرمایہ کاری کے رحجان دیکھتے ہوئے پاکستان میں فیکٹریاں لگانے کی خواہش کا اظہار کیا یہ کمپنیاں پاکستان میں سوئچز، ٹائیلز اور سرامکس یونٹ قائم کریں گی۔

آباد اور اس کی پوری ٹیم ایکسپوکی کامیابی پرمطمئن ہے ایکسپو کو عوامی، تجارتی، صنعتی، تعمیراتی اور حکومتی حلقوں کی جانب سے 100 فیصد پذیرائی ملی ہے، یہی وجہ ہے کہ نمائش کا اختتام یوم آزادی کو بھرپورانداز میں منایا گیا جس میں ہرطبقے کے لوگوں نے بھرپورانداز میں شرکت کی، انھوں نے بتایا کہ شعبہ تعمیرات میں آئندہ 6 ماہ کے دوران وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگارکے نئے مواقع میسر آئیں گے، ایکسپو میں54 غیرملکی کمپنیوں نے شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن ملک کی خراب سیاسی حالات اور منفی سفری ہدایات سے 24 غیرملکی کمپنیوں نے نمائش میں شرکت کی۔

امریکا، یورپ، ترکی، چین، ملائیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات سے تجارتی وفود اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، ستمبر میں سنگاپور کے تعمیراتی شعبے کا نمائندہ وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور آباد کے ساتھ تعاون کی یادداشت کے معاہدے کے علاوہ کراچی کے تعمیراتی شعبے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا منصوبہ ترتیب دے گا، آباد انٹرنیشنل ایکسپو کے تینوں دن غیرملکی سفارتکاروں کے دوروں نے ہمارے حوصلے بلند کیے اور تعمیراتی صنعت توقع کرتی ہے کہ یہی سفارتکار اپنے ممالک کی حکومتوں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان باالخصوص کراچی کے حوالے سے مثبت تصویر پیش کریں گے۔

محسن شیخانی نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی اس تاریخ ساز نمائش کے بعد حکومت ، متعلقہ اداروں اور اتھارٹیز پر معیشت کی ترقی میں اس شعبے کی اہمیت واضح ہوگئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کچی آبادیوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے اور فوری طور پر کچی آبادی کی وزارت ختم کرنے کا اعلان کرے کیونکہ شہر میں کچی آبادیوں کے قیام کی شرح اب بھی57 فیصد ہے جس میں مستقل اضافے کا رحجان برقرار ہے جبکہ ماسٹرپلان کے فقدان جیسے عوامل بھی شہر میں کچی آبادیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔

پاکستان خوش قسمت ملک ہے جس کی مجموعی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے آبادی کے اس بڑے حصے کو ملکی ترقی کے لیے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر حکمت عملی مرتب کرنی پڑے گی اور پالیسی سازوں کو اس معاملے پر خصوصی توجہ مرکوزکرنی پڑے گی، محسن شیخانی نے اس تاثر کو درست قراردیا کہ شہر میں قائم اتھارٹیز کی بھرمار نے معاملات کو پیچیدہ کردیا ہے ہر اتھارٹی کی شرائط پوری کرنے میں تعمیراتی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے دنیا بھر میں ہرشعبے کی صنعت کی ترقی اور فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشن متعارف ہیں پاکستان اور بالخصوص کراچی میں بھی ون ونڈو آپریشن سسٹم متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مواصلاتی ادارے پی ٹی سی ایل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی سی ایل اب ہر انفرادی نوعیت کے تعمیراتی منصوبے کے ساتھ علیحدہ معاہدہ کرتا ہے جس میں خدمات اور سہولتوں کے علاوہ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ بھی شامل ہے، دیگر اداروں کو بھی اسی نوعیت کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ پرکشش بنایا جاسکے اور مقامی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس شعبے کی جانب ترغیب مل سکے۔

مقبول خبریں