طالبان کے افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورک عالمی خطرہ بن گئے

افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے 6 ہزار سے زائد دہشتگرد سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں


February 23, 2026

عالمی ماہرین اور ذرائع کے مطابق افغانستان میں طالبان رجیم کے آمرانہ اور ظالمانہ دور میں ملک دہشتگردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا مرکز بن چکا ہے، جو نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

معروف عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ نے رپورٹ کیا کہ طالبان ایسے دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہے ہیں جو خطے اور دنیا بھر میں دہشتگرد کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔

نائن الیون جیسے واقعات سے بچنے کے لیے طالبان پر مزید پابندیاں سخت کی جائیں اور افغانستان میں پرامن سیاسی قوتوں کی حمایت کی جائے، جریدے نے تجویز دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے 6 ہزار سے زائد دہشتگرد سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان میں فتنہ الخوارج نے 600 سے زائد حملے کیے، جبکہ افغانستان سے چینی کاروباری منصوبے اور تاجکستان میں سرحد پار اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنا ایسے حالات میں خطرناک ہوگا اور دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں افغانستان پر عالمی پابندیاں مزید سخت ہونی چاہئیں۔

مقبول خبریں