قبل اس کے کہ ہم انقلابی و رومانوی شاعر حضرت جوش ملیح آبادی کا تذکرہ کریں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برصغیرکی جنگ آزادی کے سپاہی میرداد کا تھوڑا ذکر خیر کر لیں۔ میر داد جس نے دس بارہ برس کی عمر میں اپنے گاؤں ملہو تحصیل حضرو ضلع اٹک کو خیرباد کہہ دیا اور جب عہد شباب میں قدم رکھا تو ایک سچا انقلابی و جنگ آزادی کا عظیم حریت پسند مجاہد بن چکا تھا۔
میرداد بیس برس ملکوں ملکوں گھوما، وہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا گیا، انگلینڈ، جرمنی، فرانس، سوویت یونین گیا، وہ جوزف اسٹالن و دیگر رہنماؤں سے ملا، چین گیا تو عظیم لیڈر ماؤزے تنگ سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ البتہ 1935 کے لگ بھگ کوئی بیس برس بعد اپنے گاؤں واپس آیا تو فقط چند ماہ وہاں قیام کیا اور پھر برصغیرکی آزادی کی لڑائی میں شریک ہوگیا۔ میرداد کی جہاں ضرورت ہوتی وہ وہاں حاضر ہو جاتا، وہ مختلف روپ دھارنے کا بہت ماہر تھا۔ چنانچہ وہ کبھی مدراسی کبھی سکھ یا کوئی اور روپ دھار لیتا وہ نامور انقلابی و دانشور ڈاکٹر اشرف کے ساتھیوں میں بھی تھا۔
دوسری عالمگیر جنگ میں وہ پنجاب میں تھا اور لوگوں کو اس جنگ کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرتا اور نوجوانوں کو فرنگی کی فوج میں بھرتی ہونے سے منع کرتا۔ البتہ جب بمبئی میں 1946 میں انڈین نیوی کے ملازمین نے ایک طویل عرصے کے لیے ہڑتال کی تو وہ پوری قوت سے نیوی ملازمین کے شانہ بہ شانہ اس لڑائی میں شریک ہو گیا اور 23 فروری 1946 کو بمبئی کی ایک سڑک پر کسی گورے کی گولی کا نشانہ بن گیا، اس وقت بھی اس کی شناخت میرداد کی بجائے امتیازکے نام سے ہوئی۔ آج اس واقعے کو 80 برس ہو گئے ہیں مگر میرداد آج بھی نظریاتی طور پر زندہ ہے۔ اب ہم ذکر کریں گے انقلابی و رومانوی شاعر شبیر حسن خان کا جوکہ جوش ملیح آبادی کے نام سے نامور ہوئے۔ وہ 5 دسمبر 1898 کو ملیح آباد میں، نواب بشیر احمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔
انھوں نے شاعری کی ابتدا غزل سے کی اور رومانوی و عشقیہ غزلیں قلم بند کیں لیکن پھر غزلیں لکھنے کی بجائے انقلابی شاعری و مرثیہ گوئی میں اظہار خیال کرنے لگے۔ غزلیں لکھنا چھوڑنے کی وجہ یہ بتائی کہ غزل دھیمے لہجے کی محتاج ہوتی ہے مگر جوش جوش تھے۔ دھیما لہجہ ان کے مزاج کے خلاف تھا، بیان کیا جاتا کہ وہ نظام حیدرآباد کے ہاں مترجم کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے کہ ایک روز نظام حیدرآباد دکن کے خلاف ہی انقلابی نظم قلم بند کردی اور نظام حیدرآباد دکن کو خیر باد کہہ دیا۔ البتہ جب اگست 1947 میں برصغیر تقسیم اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو وہ پاکستان تشریف لے آئے۔
پاکستان میں ان کے ساتھ کیا رویہ روا رکھا گیا اس کا ذکر کرنے سے قبل مناسب ہوگا کہ جوش کے پاکستان آنے کے باوجود پھر بھی ہندوستان میں ان کا کیا مقام تھا، اس پر چند واقعات بیان کر دوں۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں تین آدمیوں کو سزائے موت سنا دی گئی، بہت کوششیں ہوئیں کہ یہ سزائیں ختم ہو جائیں مگر لاحاصل۔ ایک راستہ باقی تھا کہ اگر اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی بہ حیثیت وزیر اعظم اگر سزائے موت پانے والوں کی سزا معاف کر دیں تو ان لوگوں کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا جائے گا۔ چنانچہ اب مرحلہ یہ تھا کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی سے کون بات کرے؟ چنانچہ سزائے موت کے قیدیوں کے عزیز و اقارب نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک شخص ہے جوکہ اندرا گاندھی سے اپنی بات منوا سکتا ہے اور وہ شخص ہے جوش ملیح آبادی۔ مختصر یہ کہ تمام حالات جوش صاحب کے گوش گزار کیے گئے اور ان سے درخواست کی گئی کہ اگر آپ ہندوستان جا کر اندرا گاندھی سے بات کریں تو ممکن ہے سزائے موت کے قیدیوں کو رہائی مل جائے چنانچہ جوش صاحب دہلی کی فلائٹ میں سوار ہوئے اور دہلی کا سفر اختیار کیا۔ ایئرپورٹ کا منظر یہ تھا کہ وہاں کی وزیر اعظم اندرا گاندھی جوش صاحب کی منتظر تھی، اندرا گاندھی نے ہندوستان تشریف لانے کا مدعا دریافت کیا۔ جوش صاحب نے تمام حالات بتا دیے، اس موقع پر اندرا گاندھی نے کہا ’’ اتنی سی بات کے لیے یہ سفر اختیارکیا۔ یہ بات اگر آپ فون پر بھی کہہ دیتے تو میں انکار نہ کرتی مگر اچھا ہوا کہ آپ تشریف لے آئے اور اسی بہانے آپ سے ملاقات بھی ہو گئی۔‘‘
ایک واقعہ ان کے پڑ پوتے نے یوں بیان کیا کہ مشہور ناول نگار مرزا ہادی رسوا نے جنھوں نے ناول امراؤ جان ادا تحریرکیا تھا، ان سے جوش صاحب کے بڑے اچھے مراسم تھے۔ چنانچہ جب مرزا ہادی رسوا کے ناول پر فلم ’’ امراؤ جان ادا‘‘ بنانے کا فیصلہ ہوا تو اس فلم کی شوٹنگ جوش صاحب کے آبائی محل جوکہ ملیح آبادی میں ہے اور یہ محل جوش صاحب کے دادا نے تعمیر کروایا تھا میں کی گئی اس فلم میں مرکزی کردار ریکھا نے ادا کیا تھا، البتہ جب دوبارہ فلم ’’امراؤ جان‘‘ ادا بنائی گئی تو پھر بھی اس فلم کی شوٹنگ جوش صاحب کے ذاتی محل میں کی گئی۔ اس فلم میں ایشوریہ رائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ تھا ہندوستان میں جوش صاحب اور ان کے خاندان کا معیار زندگی۔ افسوس کہ یہاں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ تفصیل میں کیا جائیں سب کو معلوم ہے۔ روحانی طور پر جوش صاحب نواسہ رسولؐ، مولا حسینؓ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے، وہ اس معاملے میں وہ کسی اجارہ داری کے قائل نہ تھے، کہتے ہیں۔
کیا صرف مسلماں کے پیارے ہیں حسینؓ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
مزید کہتے ہیں۔
کچھ پھول سے تا دور کھلے جاتے ہیں
کچھ سرخ علم سے ہیں لہرائے جاتے ہیں
سر پہ آدم کے رکھنے تاج سر حشر
ہٹ جاؤ فرشتوں کہ حسینؓ آتے ہیں
ان اشعار میں انھوں نے روز محشرکا نقشہ پیش کیا ہے، البتہ لکھنو، علی گڑھ، شانتی نکیتن سے تعلیم حاصل کرنے اور تمام حیات جبر و استحصال کے خلاف لڑنے والے جوش ملیح آبادی 22 فروری 1982 کو خالق حقیقی سے جا ملے، وہ اپنا تعارف ہمیشہ یوں کرواتے کہ:
کام ہے تغیر نام ہے شباب
میرا نعرہ انقلاب انقلاب انقلاب
بہرکیف 22 فروری کو جوش صاحب کی 44 ویں اور 23 فروری2026 کو کامریڈ میرداد کی 80 ویں برسی تھی، ہم ان دونوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔