’’اٹھو روزہ دارو! سحری کا وقت ہوگیا ہے، اللہ کا نام لے کر سحری کرلو!‘‘
یقیناً یہ صدائیں آپ نے بھی اپنے بچپن میں ضرور سنی ہوں گی۔
ماہِ رمضان آتے ہی گلیوں اور محلوں میں سحری کے وقت ڈھول کی تھاپ اور پُرجوش آوازیں گونج اٹھتی تھیں۔ یہ روایت صرف جگانے تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک روحانی اور سماجی تعلق کا حصہ ہوتی تھی۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں رمضان کے دنوں میں ہمارے محلے میں ایک چاچا آیا کرتے تھے، جن کا نام محمد تھا۔ وہ ڈھول بجاتے ہوئے بلند آواز میں کہتے: ’’رکھو روزہ، پڑھو نماز، یہ ہے محمد کی آواز۔‘‘ ان کی آواز سنتے ہی پورا محلہ جاگ اٹھتا، گھروں میں بتیاں جل جاتیں، باورچی خانوں میں چولہے روشن ہوجاتے اور سحری کی تیاری شروع ہوجاتی۔
یہ منظر صرف عبادت کی تیاری نہیں بلکہ محلے کی اجتماعی زندگی کی ایک خوبصورت جھلک ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ پورے رمضان جاری رہتا، البتہ آخری دنوں میں وہ گھر گھر جا کر اپنا انعام طلب کرتے اور محلے دار اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق رقوم، راشن یا کپڑے دیتے۔ یوں سحری جگانے والوں کی عید بھی خوشیوں کے ساتھ گزر جاتی۔
ان یادوں کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سحری میں جگانے کی یہ روایت کب، کیسے اور کیوں شروع ہوئی؟ اور دنیا کا پہلا مسحراتی کون تھا؟
مذہبی اور تاریخی حوالوں کے مطابق، اسلامی دنیا میں سحری کے وقت روزے داروں کو بیدار کرنے کی روایت کئی صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ مسلمانوں کے اولین مسحراتی حضرت بلال حبشیؓ تھے، جو اسلام کے پہلے مؤذن بھی تھے، اور حضورؐ کی طرف سے انہیں اہل ایمان کو سحری کےلیے بیدار کرنے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ روایت معاشرتی اور مذہبی ضرورت کے طور پر پروان چڑھی اور خلافتِ عباسیہ و فاطمیہ کے دور میں اسے باقاعدہ رسمی شکل دے دی گئی۔
مسحراتی رات کے آخری پہر گلیوں میں ڈھول یا مخصوص آواز کے ذریعے گھومتے اور لوگوں کو سحری کے لیے بیدار کرتے تھے، جس کا مقصد نہ صرف عبادت میں سہولت فراہم کرنا تھا بلکہ رمضان کی روح کو زندہ رکھنا بھی تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت مختلف علاقوں میں اپنے اپنے انداز میں رائج ہوئی۔ برصغیر میں مغلیہ دور کے بعد یہ روایت مقبول ہوئی، جہاں مسحراتی ڈھول بجاتے، نعت یا اشعار پڑھتے اور بعض اوقات گھروں کے افراد کے نام لے کر انہیں جگاتے تھے۔ اس عمل نے نہ صرف لوگوں کو بروقت بیدار رکھا بلکہ محلے داری اور سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔
تاہم وقت کی ترقی کے ساتھ یہ خوبصورت روایت معدومیت کا شکار ہونے لگی۔ ماضی میں لوگ سحری کے وقت جاگنے کے لیے مسحراتی پر انحصار کرتے تھے، مگر اب الارم کلاک اور موبائل فونز نے ان کی جگہ لے لی ہے، جس کے باعث اس پیشے سے وابستہ افراد رفتہ رفتہ اسے ترک کرتے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ہم نے ایک ایسے مسحراتی سے بات کی جو آج کل برتن فروشی کرکے اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ہر رمضان گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو سحری کے لیے جگایا کرتے تھے، مگر اب محلوں کی جگہ بڑی بڑی سوسائٹیز اور فلیٹس نے لے لی ہے، جہاں سیکیورٹی گارڈز انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے سحری کے اوقات میں سڑکوں پر خاموشی اور سکون ہوتا تھا، جبکہ اب سحری سے پہلے ہی رونقیں نظر آتی ہیں۔ بچے پوری رات کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں، لوگ موبائل فونز میں مصروف ہوتے ہیں اور اکثر افراد سحری کے بعد سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں مسحراتی کی آواز کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔
ان تمام حقائق کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورت روایت سے آشنا ہو سکیں گی؟ خصوصاً جین زی کے بہت سے نوجوان تو یہ بھی نہیں جانتے کہ مسحراتی کون ہوتے ہیں، اور جو جانتے ہیں وہ بھی اس روایت کی وہ روحانیت اور اجتماعی رنگ محسوس نہیں کر پائے جو ماضی کی نسلوں کا حصہ رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس معدوم ہوتی روایت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔ سحری میں جگانے والے مسحراتیوں کے لیے باقاعدہ وظیفہ یا اعزازیہ مقرر کیا جائے، انہیں ثقافتی ورثے کا حصہ تسلیم کیا جائے اور مقامی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ یہ روایت زندہ رہ سکے۔
تاہم یہ ذمے داری صرف حکومت تک محدود نہیں؛ ہم سب پر بھی لازم ہے کہ جو مسحراتی آج بھی ہمارے گلی محلوں میں سحری کے وقت جگانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کی دلجوئی کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہماری ثقافتی پہچان کا اہم حصہ ہیں۔ کیونکہ اگر آج ہم نے اس روایت کو نہ سنبھالا تو کل رمضان کی سحری تو ہوگی، دسترخوان بھی سجیں گے، مگر گلیوں میں ڈھول کی وہ مانوس تھاپ اور ’’اٹھو روزہ دارو!‘‘ کی صدا شاید ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔