اسرائیل نے لبنان کو خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں فریق بننے کی کوشش کی تو انجام بہت بھیانک ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران جنگ میں حزب اللہ اپنے آقاؤں (ایران) کی مدد کے لیے شامل ہوا تو اسرائیل لبنان پر حملہ کردے گا۔
اسرائیل نے لبنانی حکومت کو متنبہ کیا کہ حزب اللہ کو امریکا ایران جنگ میں فریق بننے سے روکا جائے ورنہ شہری علاقوں سمیت ملک کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
دو سینئر لبنانی حکام نے رائٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے واضح پیغام دیا ہے کہ حزب اللہ کی کسی بھی عسکری کارروائی کی صورت میں لبنان کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم جب رائٹرز نے اس خبر پر مؤقف دینے کی درخواست کی تو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر اور لبنانی صدراتی دفتر نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
قبل ازیں امریکا اور اسرائیل نے لبنانی حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ سال کے آخر تک حزب اللہ کو غیر مسلح کردیا جائے جس کی منظوری لبنانی حکومت نے دیدی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے دنیا کے سب سے بڑی بحری بیڑے کو ایران کی جانب تعینات کردیا ہے۔
پرتگال میں موجود امریکی ایئر بیس میں بھی طیاروں نے پوزیشنز سنبھال لی ہے جب کہ ایک اور بحری بیڑہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔
ادھر اسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس ایران پر لگاتار تابڑ توڑ حملہ کرنے کے لیے 5 سے 6 دن تک کا مکمل جنگی ساز و سامان موجود ہے۔