راولپنڈی:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ بانی کے دوسرے چیک اپ سے متعلق ہمیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، حکومت نے تاریخ کا ذکر کیا تھا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ رات کو اس طرح لے کر آئیں گے، علیمہ خان نے مجھے استعفیٰ دینے اور خود پارٹی کا چیئرپرسن بننے کے بارے میں کبھی نہیں کہا۔
اڈیالہ جیل کے قریب ماربل فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رات طبی معائنہ کے بعد مجھے اطلاع دی گئی کہ بانی کا طبی معائنہ ہوگیا ہے اور انھیں واپس جیل لے گئے ہیں ہمارا مطالبہ پھر وہی ہے کہ بانی کا علاج فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل میں کروایا جائے، ہمیشہ لوگوں کو کہتا ہوں کہ آواز ضرور اٹھائیں لیکن زبان نہ چلائیں، تمام فریقین کو لحاظ کرنا چاہیے تاکہ ملک آگے چل سکے۔
انہوں ںے کہا کہ بانی کے علاج اور ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں اگر ان کے علاج کے لیے ایک شخص کو بلایا جائے تو دوسرے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، کوئی ایسا راستہ اپنانا چاہیے کہ ملک بہتری کی جانب بڑھے، رہائی فورس کا معاملہ پارٹی میں ڈسکس کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کوئی بھی ایسی چیز نہ ہو جو غیر قانونی و غیر آئینی ہو، ہم ہر فورم پر جائیں گے آواز اٹھائیں گے، سڑکوں پر بھی آئیں گے پارلیمنٹ بھی جائیں گے، آج بھی سپریم کورٹ کے باہر بیٹھے ہیں، ایسا کام نہیں کریں گے جو جمہوری نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چیئرمین نہ ہوتا تو بانی کی رہائی کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر بہت کچھ کہتا، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حالات بہتر ہوں جو کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ہم کر رہے ہیں، دلجوئی اور دیانت داری سے کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کرایا جائے، بڑی کوشش کی کہ بانی کو اسپتال منتقل کیا جائے، لیکن چیزیں رہ گئیں شاید کچھ ہم سے غلطیاں اور کچھ ان سے غلطیاں ہوئیں۔
انہوں ںے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل سیاسی ہے سیاسی مقدمات سے نکلنے کے لیے بھی سیاسی راستہ ڈھونڈنا چاہیے، یہ ٹھیک بات ہے کہ علیمہ خان نے اگر کہا کہ بانی کا علاج کرائیں تو ہم سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، بانی سیاست سے دور نہیں ہوسکتے وہ ملکی سیاست کا مین آف دی میچ ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ علیمہ خان نے مجھے ہٹانے کی کبھی کوئی بات نہیں کی کیوں کہ یہ عہدہ بانی کی امانت ہے جب کہیں گے چھوڑ دوں گا، شیر افضل مروت کو علیمہ خان سے متعلق بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ دہشت گردی ختم ہو، پاکستان کا حق دفاع ہے کہ جہاں سے دہشت گرد آتے ہوں چاہے وہ بیرون ملک ہو اندرون ملک، پاکستان اپنا دفاع کرے، ان کے ٹھکانے ختم کرے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ہم کوئی غیر قانونی و آئینی قدم نہیں اٹھائیں گے، ہماری سیاسی جماعت ہے سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، مسلح جدوجہد اور ملیشیاء رکھنے پر یقین نہیں رکھتے، فورس کے خدوخال کیا ہوں گے، اس پر پارٹی میں غور ہو گا، ہماری کوشش تو ہے کہ ٹیبل پر بیٹھا جائے۔