ابراہیم جویو 100 زریں برس

اقتدار کی خواہش رکھنے والے بگڑ ے د ل شہزادے اور خضر صورت پیر زادے دونوں ہی میدان سیاست کے کھلاڑی ہونے کے دعویدار ہیں


Zahida Hina August 17, 2014
[email protected]

0334-3023049 لاہور سے اسلام آباد کے راستے میں دھوم دھڑکے اور میلے ٹھیلے کا سماں ہے۔ ناچتے گاتے چنگھاڑتی ہوئی موسیقی پر جھومتے ہوئے لوگ ہیں' فتح کا نشان بناتے ہوئے۔ وہ اپنی منزل تک پہنچیں تو ان کے سفر کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔

14 اگست جسے آج تک پاکستانی یوم آزادی کے طور پر مناتے آئے تھے' اسے متنازعہ فیہ بنانے والوں کا قصہ تحریر کیا جائے' پس پردہ کیا ہوا اور کیا ہوتا رہا ' اس بارے میں کچھ حقائق کچھ اندازے بیان کیے جائیں۔ پھر خیال آیا کہ جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں اس وقت تک یہ دونوں کارواں جن ' کا آغاز لاہور سے ہوا اور جن کی منزل مقصود اسلام آباد کا ایوان اقتدار تھا' ابھی منزل پر نہیں پہنچے' ابھی اس جلوس کے قدموں سے اڑنے والی گر د نہیں بیٹھی تو اس کے بارے میں محض اندازوں کے طوطا مینا کیوں اڑائے جائیں۔

سیاست کے میدان میں مطلق اقتدار کی خواہش رکھنے والے ہمارے بگڑ ے د ل شہزادے اور ہمارے خضر صورت پیر زادے دونوں ہی میدان سیاست کے کھلاڑی ہونے کے دعویدار ہیں۔ دونوں ہی مخالفین کے قتل' ان سے انتقام لینے کی بات کرتے ہیں' قصاص طلب کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی جمہوریت' انصاف اور تحمل جیسے لفظ اسی سانس میں بولتے ہیں۔ ان کی آواز یں آتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہالی ووڈ کی فلم Anaconda کا پہلا یا دوسرا حصہ دیکھ رہے ہیں۔

ایسے عالم میں کیوں نہ میں اس بات کا جشن مناؤں کہ ہمارے سندھ کے عظیم فرزند ابراہیم جویو نے اپنی زندگی کے سو برس مکمل کیے۔ ایک بے مثال شخص کی زندگی کے 100 ز ریں برس۔ انھوں نے جوا نی سے اب تک ادب' صحافت اور سما جی شعور کو عام کرنے کے ساتھ ہی سیاست کا دا من کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انھوں نے ہندوستان کے بٹوا رے سے چند مہینوں پہلے و ہ کتاب لکھی جس کا نام Save Sindh Save, the Continent تھا۔ جون 1947 میں شائع ہونے والی ا س کتاب میں صرف سندھ کا ہی نہیں پنجاب بنگال یو پی' سی پی' کشمیر' حیدر آ باد د کن' گجرات' مدر اس اور کرناٹک کا معاملہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ ہمارا سماج جاگیرداروں اور ساہوکاروں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمیں اسے اس چنگل سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جویو صاحب کے سوانح نگار مظہر جمیل صاحب نے لکھا ہے کہ 'جویو صاحب اپنے سیاسی شعور اور گہر ے تفکر اور تدبر کے نتیجے میں یہ سمجھ چکے تھے کہ ہندوستان کا معاشرہ مکمل طو ر پر جاگیرداروں' زمینداروں' ساہوکاروں اور ان کے گماشتوں کے ظالمانہ شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے اور پورے ہندوستان کا معاشرہ مکمل طور پر بھیانک طبقاتی تضادات کا شکار ہے۔ ہمارے نوے پچانوے فی صد عوام بھوک' افلاس' غربت' ناداری' ناآسودگی اور کسمپرسی کی چکی میں صدیوں سے پس رہے ہیں جب کہ بہ مشکل مٹھی بھر غاصب طبقے ہندوستان کے معاشی اور پیداواری وسائل پر قابض ہیں اور صدیوں سے قائم اس استحصالی نظام کو تاریخ کے ہر دور میں حکمرانوں کی طرف سے مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جاتا رہا ہے۔

یہ استحصالی مقتدر طبقات اپنے ذاتی' گروہی اور طبقاتی مفادات کے مقابلے میں کسی بھی قانون قاعدے' ضابطۂ اخلاق وغیرہ کی کوئی پروا نہیں کرتے ہیں اور نہ ان کی ہوسِ اقتدار کی کوئی آخری حد مقرر ہے۔ یہ لوگ اپنے مفاد کے لیے عام لوگوں میں مذہبی منافرت اور فساد پھیلاتے ہیں۔ پھر یہ لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بنیاد پر فرقہ واریت کا شکار ہو کر ایک دوسرے کا خون بہا دیتے ہیں اور اس طرح خود ان کی غربت' ناآسودگی اور محرومیوں جیسے مسائل پس پشت رہ جاتے ہیں اور ہر آنے والا دن ان کی محرومیوں میں مزید اضافہ کر جاتا ہے۔

تاریخی طور پر مقتدر طبقات کے پروردہ فرقہ پرست ہی ہیں جو ہندوستانی عوام کی محرومیت کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان منافرت کی آگ بھڑکاتے ہیں اور ان کی مذہبی یا گروہی جذبات کا استحصال کر کے فرقہ وارانہ خون خرابہ اور کشیدگی پیدا کرتے رہتے ہیں تا کہ ہندوستان کے رہنے والے نا آسودہ' غریب اور مفلس عوام مذہبی فرقہ پرستی سے اندھے ہو کر ایک دوسرے کے خلاف فتنہ و فساد میں مبتلا رہیں اور ان کی توجہ کبھی اپنے اصل مسائل یعنی غربت' جہالت' بیماری اور نا آسودگی کی طرف مبذول نہ ہو سکے۔

اس صورت حال کا جویو صاحب نے مذکورہ بالا کتاب میں بہت صراحت کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ اور لکھا کہ جب تک وادی سندھ سے بالخصوص جاگیرداروں ' زمین داروں' سرمایہ داروں' ساہوکاروں اور ان کے پروردہ فرقہ پرست مفسدوں سے نجات حاصل نہیں ہو جاتی' اس وقت تک آزادی کے اصل اور حقیقی فیوض و برکات کبھی بھی غریب مفلوک الحال اور بے سہارا سسکتے ہوئے عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔

جویو صاحب نے قیام پاکستان سے چند دنوں پہلے اپنا سیاسی نقطۂ نظر جس تفصیل سے بیان کیا' اس کے بعد یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ انھیں سندھ کی سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ وہ اس کے خواہش مند بھی نہ تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد تو یہ تھا کہ سندھ اور بر صغیر کے دوسرے علاقوں کے عوام کو اپنے معاشی وسائل اور ذرائع پیداوار پر مکمل اختیار ہونا چاہیے ۔

پاکستان قائم ہوا تو جویو صاحب کی تحریروں نے پاکستان اور بطور خاص سندھ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اپنی اس کتاب میں انھوں نے جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ رفتہ رفتہ پوری ہوئیں۔ اس سے ان کی سیاسی بصیرت اور مستقبل بینی کی صلاحیتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان ابھی وجود میں نہیں آیا تھا کہ 25 جون 1947 کو جویو صاحب نے سندھ کی لیجسلیٹو اسمبلی کے معزز اراکین کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ اس تفصیلی خط کو پڑھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص جو مقامی سیاست کو سمجھ رہا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسمبلی کی رکنیت اور وزارت یا سفارت جیسے اعلیٰ عہدے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں لیکن وہ اس طرف توجہ دینے کی بجائے سیاست کو عبادت سمجھ رہا ہے۔ وہ اپنی عمر اس نوعیت کے کاموں میں لگا دیتے ہیں۔ یہاں میں یہ تو لکھنا ہی بھول گئی کہ Save Sindh لکھنے پر داد و تحسین کی بجائے انھیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

مظہر جمیل نے سندھی اور اردو ادب کے رشتوں کو استوار کرنے کے بارے میں بڑا کام کیا ہے۔ وہ لکھنے بیٹھتے ہیں تو 800 یا 900 صفحوں سے پہلے قلم نہیں رکھتے۔ جویو صاحب پر بھی تحقیق اور تصنیف کا انھوں نے حق ادا کر دیا ہے۔ ان کے بچپن سے آج تک کی زندگی کا احاطہ کیا اور اس شخص کو ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ کر دیا ہے جس نے سندھ کی چار نسلوں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی دانشوری اور ادبی تحریروں نے سندھ کی کئی پیڑھیوں میں تحمل' رواداری' روشن خیالی اور وسیع القلبی کی پرورش کی۔

سندھ نے 47 کے بعد سے اب تک کیسے کیسے ریاستی ستم نہیں سہے۔ اس کے وسائل کا استحصال ہوا۔ اس کے دو وزرائے اعظم کو شہید کیا گیا' اس کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا گیا لیکن جویو صاحب نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم اپنے بے مثال لوگوں کے خون کا قصاص طلب کرتے ہیں اور نہ کبھی یہ کہا کہ اگر تم پر کوئی پولیس والا ہاتھ اٹھائے تو تم اس کے گھر میں گھس جاؤ اور اس کی جاں بخشی نہ کرو۔ کبھی یہ نہیں کہا کہ میں اپنے ہاتھوں سے پولیس والوں کو پھانسی دے دوں گا ۔

یہ گنڈاسہ اسٹائل سیاست جس کا تماشہ ہم ان دنوں دیکھ رہے ہیں' اس سے جویو صاحب' جی ایم سید اور سندھ' بلوچستان اور سرحد (آج کا پختونخوا) کے دوسرے سیاست دان ناواقف تھے اور آج بھی ہیں۔

جویو صاحب عمر بھر کتابوں کے رسیا رہے۔ اسی لیے وہ ہمیں تھیوسیفیکل سوسائٹی اور ڈی جے کالج کی لائبریری کے پھیرے لگاتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے سندھی ادیبوں کی طرح انھوں نے بھی مختلف اہم کتابوں کے ترجمے کو بہت اہمیت دی۔ آزادی سے پہلے کے زمانوں میں جویو صاحب آستین الٹ کر دنیا کی بعض اہم کتابوں کے ترجمے پر لگ گئے۔ اس زمانے میں سندھی ادیب اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جب تک سندھی میں طبع زاد کتابیں سامنے نہیں آتیں اس وقت تک ہر ادیب کو دوسری مقامی اور یورپی زبانوں سے ترجمے کرنے چاہئیں۔''

جویو صاحب کواپنے نقطہ نظر کی بناء پر اور بطور خاص Save Sindh, Save the Continent جیسی علمی کتاب لکھنے کی سزا میں سندھ مدرسۃلاسلام کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ وہ کئی مرتبہ مختلف ملازمتوں سے نکالے گئے۔ ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے بجا طور پر جویو صاحب کو جدید سندھ کی نشاۃ ثانیہ کی علامت کہا ہے۔

انھوں نے زندگی کے 100 برس مکمل کر لیے ہیں۔ یہ سیاست کو عبادت اور ادب کو انسان دوستی روایت سمجھنے والے ایک عبقری کی زندگی کا قصہ ہے۔ ہم ان کا جشن زریں مناتے ہیں اور اس بات پر ناز کرتے ہیں کہ ان کی زبان سے کبھی اژدھوں کی پھنکار سنائی نہیں دی اور انھوں نے اپنے قلم کو زہر میں ڈبو کر کچھ تحریر نہیں کیا۔

مقبول خبریں