کراچی:
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر بینکاری مالیاتی شعبے کے اثاثوں کی مالیت بڑھ کر 6.84 کھرب روپے کی سطح پر آگئی۔
سیکیورٹیز ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران نان بینکنگ سیکٹر کے اثاثوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو جون 2025 کے 5.63 کھرب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر دسمبر 2025 میں 6.84 کھرب روپے ہوگئے۔
اعداد و شمار کے مطابق میوچل فنڈز کے اثاثوں کی مالیت 4.5 کھرب روپے ہوگئی اور فنڈز کی تعداد 369 سے بڑھ کر 409 ہوگئی ہے۔ میوچل فنڈ سرمایہ کاری اکاؤنٹس بڑھکر 8 لاکھ 45 ہزار تک پہنچ گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کے بعد نئے میوچل فنڈ اکاؤنٹس میں 8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منی مارکیٹ فنڈز میں 44 فیصد، انکم فنڈز میں 23 فیصد سرمایہ کاری کی گئی جبکہ ایکویٹی فنڈز میں سرمایہ کاری کا حصہ 14 فیصد رہا۔
رضاکارانہ پنشن اسکیم کے شرکاء کی تعداد 1 لاکھ 43 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ پنشن اسکیم اکاؤنٹس میں چھ ماہ میں 30 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق قرض فراہم کرنے والے این بی ایف سیز کے اثاثے 824 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ لینڈنگ سیکٹر کے اثاثوں میں 65 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔
شریعہ کمپلائنٹ اثاثوں کی مالیت 2.47 کھرب روپے ہوگئی جو مجموعی اثاثوں کا 36 فیصد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ NBFCs اور مضاربہ اداروں کی تعداد 185 ہوگئی جنکی تعداد جون 2025 میں 174 تھی۔