رحیم یار خان:
ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے پسماندہ گاؤں احمد خان ڈاہر سے تعلق رکھنے والا 8 سالہ محمد افتخار اپنی غیر معمولی ہمت اور عزم کے باعث سب کے لیے مثال بن گیا ہے۔ پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں سے محروم ہونے کے باوجود وہ گورنمنٹ پرائمری سکول میں دوسری جماعت کا طالب علم ہے اور پاؤں کی انگلیوں سے نہ صرف لکھتا ہے بلکہ باقاعدگی سے اسکول بھی جاتا ہے۔
اساتذہ کے مطابق افتخار ذہین اور محنتی طالب علم ہے۔ وہ اپنے پاؤں میں قلم تھام کر خوبصورت انداز میں تحریر لکھتا ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ جاتا ہے۔ محمد افتخار کا کہنا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تاکہ علاقے کا نام روشن کر سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ بازو نہ ہونے کے باوجود وہ مایوس نہیں اور اپنے پاؤں سے تمام کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

افتخار کے والد غلام مصطفیٰ ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں جو پانچ بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ محدود آمدنی کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم وہ اپنے بیٹے کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ غلام مصطفیٰ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو دانش اسکول رحیم یارخان میں داخلہ دلوایا جائے تاکہ اسے بہتر تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔
اہلِ علاقہ اور اساتذہ نے بھی حکومتِ پنجاب، وزیر تعلیم اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ہونہار بچے کی سرپرستی کی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکے۔

محمد افتخار کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ جسمانی محرومی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی، اگر عزم اور حوصلہ مضبوط ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اور سماجی حلقے اس باہمت بچے کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔