بنگلہ دیش کے انتخابات اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)بی این پی (کی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بننے کے باوجود داخلی سیاسی بحران کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گا۔کیونکہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور حسینہ واجد کے خلاف جو سیاسی بغاوت ہوئی اور جس طرح سے انھیں ملک کو چھوڑ کر بھارت جانا پڑا اس کے پیچھے جہاں حسینہ واجد کی فسطائیت کے خلاف نفرت تھی وہیں وہاں کی نئی نسل جسے جنریشن ذی کہا جاتا ہے وہ ملک کے داخلی نظام جس میں انصاف ،سیاسی ،معاشی ،بے روزگاری اور دیگر بنیادی حقوق کی عدم موجودگی پر سخت نالاں تھے،یعنی ان کو ایک طرف حسینہ واجد کی پالیسیوں پر سخت تحفظات تھے کہ وہ ملک کی متبادل آوازوں کو طاقت کی بنیاد پر کچل رہی ہیں تو دوسری طرف ریاست کے نظام سے بھی ان کو گلہ تھا کہ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو بنیاد بنا کر شہری مفاد کو اہمیت نہیں دی جارہی۔اس لیے جب بنگلہ دیش کی سطح پر جو سیاسی بغاوت ہوئی تو لوگ اس کے نتیجے میں ملک کی داخلی سیاست میں ایک نمایاں اور بڑی تبدیلی دیکھنا چاہتے تھے۔
اسی بنیاد پر ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بنے والی عبور ی یا نگران حکومت پر بھی بڑا دباو تھا کہ ہم انتخابات کی صورت میں پرامن سیاسی جمہوری تبدیلی بھی چاہتے ہیںمگر یہ تبدیلی بنگلہ دیش کی عوام کے مفاد میں داخلی سیاست اور معیشت میں ایک بڑی مثبت تبدیلی کی بنیاد بھی رکھ سکے۔
کیونکہ جمہوری نظام میں انتخابات کا عمل کا ہونا اور اس کے نتیجے میں حکومت بننا ایک بات جب کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل کا حل ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔لوگ بنیادی طور جمہوریت کے نظام میں آزاد عدلیہ ،داخلی ملکی خود مختاری، مضبوط معیشت، آزاد میڈیا سمیت انسانی بنیادی حقوق کو تسلیم کرنا،محروم طبقات کی مضبوط سیاست دیکھنا چاہتے ہیں ۔لیکن اگر انتخابات کے بعد جمہوریت کے نام پر حکومتیں بن جائیں مگر جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر جمہوری نظام کی داخلی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔کچھ اسی قسم کی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی ہے اور اسی بنیاد پر ان انتخابات میں لوگوں کا سیاسی نظام میں جوش قابل دید تھا اور جو ان انتخابات میں ووٹ کا ٹرن آوٹ59.09رہا جو ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ان انتخابات کی بنیاد پر بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔
اسی لیے اگر ہم نے بنگلہ دیش کے موجودہ انتخابات کا پس منظر دیکھنا ہے تو اسے ہمیں 2024کی حسینہ واجد کے خلاف طلبہ یا نئی نسل کی سیاسی یا عوامی بغاوت سے جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔اسی بنیاد پر جب ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت بنی تو ان پر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا دباؤ تھا اور اسی دباؤ کے تحت عبوری حکومت نے مختلف اداروں اور شعبہ جات کی سطح پر اصلاحاتی کمیشنز کی تشکیل کی اور کہا کہ بنگلہ دیش کا نظام ایک بڑی سیاسی ،انتظامی،معاشی،قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے گا۔
اس کمیشنز کی تشکیل نے نئی نسل کو حوصلہ دیا کہ سیاسی عمل میں درست سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پہلے ابتدا میں تمام اصلاحاتی سفارشات کو ’’ قومی اتفاق رائے کمیشن‘‘ کی سطح پر جمع کیا گیااور پھر اسے ’’ جولائی نیشنل چارٹر‘‘ کا نام دیا گیا جو 80سفارشات پر مشتمل ہے جو2025میں تیار کیا گیا۔ان میں آئین ،عدالت، پولیس،انتظامیہ ،انتخابی نظام،بدعنوانی و کرپشن کا خاتمہ جیسے امور شامل ہیں ۔ان پر بنگلہ دیش کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔
اہم بات عام انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہے جس میں لوگوں سے یہ رائے لی گئی کہ آپ انتخابات کے بعد نئی حکومت سے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں یا نہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انتخابی نتائج کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ریفرنڈم کی حمایت میں 65فیصد ووٹ ڈال کر ایک بڑے داخلی اصلاحات کی بنیاد پر تبدیلی کے ایجنڈے پر مہر لگائی ہے۔اس ریفرنڈم کا بنیادی مقصدملک کی حکمرانی کے نظام کو تشکیل دینا، جمہوریت کو مضبوط بنانا،سماجی انصاف کو فروغ دینااور اداروں میںاحتساب کو بڑھانا ،اداروں میں توازن قائم کرناجیسے امور پر کام کرنا نئی حکومت اور وزیر اعظم طارق رحمان کے لیے ابتدا ہی میں بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے جولوگ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست کو محض انتخابی نتائج کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں وہ درست تجزیہ نہیں بلکہ حالات کو عام انتخابات کے نتائج اور ریفرنڈم کے نتائج اور اس کی باہمی کشمکش اور ٹکراو کی صورت میں دیکھ کر نتائج کو ترتیب دینا ہوگا۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ بھی انتخابات اور ریفرنڈم سے پہلے طے کرلیا گیا تھا کہ اگر لوگوں کی اکثریت نے ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالا تو نئی پارلیمنٹ یا حکومت پہلے چھ ماہ یعنی 180دن ’’دستوری اصلاحات کونسل‘‘ کے طورپر کام کرے گی۔یعنی اس پارلیمنٹ کا ایک بڑا مینڈیٹ بنیادی نوعیت کی تبدیلی کو ممکن بنانا ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ ان آئینی ترامیم میں موجودہ وزیر اعظم ماضی کے طاقت ور یا یکطرفہ طاقت پر مبنی وزیر اعظم سے مختلف ہوگا اور آج کا صدر ماضی کے کمزور صدر کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا حامل ہوگا۔یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ وزیر اعظم اپنی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوگا اور وہ دو سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم بھی نہیں بن سکے گا۔سینیٹ جیسے ادارے کی تشکیل اور متناسب نمائندگی کا نظام بھی لاگو کیا جائے گا۔عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنا بھی نظام کا حصہ ہے۔یاد رہے کہ یہ جولائی چارٹر اور ریفرنڈم کا عمل صدارتی آرڈنینس کی مدد سے کیا گیا تھا تاکہ اس کی قانونی حیثیت بھی قائم رہے۔اس لیے طارق رحمان اور بی این پی کی حکومت اپنی سیاسی خود مختاری کو ریفرنڈم کے عملی نتائج کی بنیاد پر آئینی یاسیاسی یا قانونی اصلاحات کو آسانی سے تسلیم نہیں کرے گی اور وہ کہے گی کہ یہ عمل ہماری حکومت اور دو تہائی منتخب سطح کی پارلیمنٹ کی خود مختاری کو چیلنج کرے گا۔ایک طرف ریفرنڈم کے نتائج کے بعد آئینی اصلاحات اور دوسری طرف موجودہ بنگلہ دیش میں موجود حکومت کو جماعت اسلامی کے طور پر ایک مضبوط حزب اختلاف جو ان آئینی اصلاحات کی حامی ہے اور تیسری طرف بنگلہ دیش میں نئی نسل کی سطح پر موجود تبدیلی کی بڑی لہر نئی حکومت کو آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔
اسی بنیاد پر بی این پی کے لوگوں نے پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر تو حلف لیا ہے مگرآئینی اصلاحات کونسل کے طور پر حلف لینے سے انکار کیا ہے جو یقینی طور آنے والے دنوںمیں بنگلہ دیش کی سیاست میں نئے ٹکراو کے کھیل کو نمایاں کرے گا۔حالانکہ بی این پی نے بطور جماعت انتخابات سے پہلے اس اصلاحاتی ایجنڈے پر دستخط کیے تھے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بی این پی کے سیاسی تیور بدل گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاحات کی بنیاد پر مبنی ایجنڈا ان کو سیاسی طور پر بطور حکومت کنٹرول کرنے کا ہے اور ہم آزادانہ بنیاد پر دو تہائی اکثریت کے باوجود حکومت نہیں کرسکیں گے۔