پاکستان کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس کے حکمرانی کے نظام میں خرابیوں کے باوجود فلاحی اور سماجی شعبوں میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو سماج میں کمزور اور غریب طبقات میں امید کی روشنی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ جہاں حکمرانی کا نظام لوگوں کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہے وہیں یہ سماجی شعبے کے اہم ادارے بغیر کسی تفریق کے کمزور طبقات کے دکھ میں شریک ہوکر ان کے لیے زندگیوں کو آسان بناتے ہیں۔
پاکستان میں ایسے فلاحی اداروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ معاشرے کی سطح پر اہل ثروت اور مخیر افراد ان اداروں پر نہ صرف بھروسہ کرتے ہیں بلکہ ان کی مدد میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں ۔ایسے اداروں کی موجودگی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں اور ہمیں بطور فرد ان اداروں کی مدد کرنا ہے بلکہ دیگر لوگوں میں بھی اس ترغیب کو ایک تحریک کی شکل دینی ہے کہ وہ ان اداروں کی حمایت میں کھڑے ہوں۔
بانی پی ٹی آئی کی سیاست سے قطع نظر ان کا فلاحی منصوبہ شوکت خانم کینسر اسپتال ایک بڑا شاندار منصوبہ ہے جو 1994 میں لاہور سے شروع ہوا تھا۔ اب پچھلے کچھ برسوں سے یہ اسپتال لاہور کے بعد پشاور اوراب 2026سے کراچی سے اپنے کام کا آغاز کرنے والا ہے ۔جب یہ اسپتال بنانے کا منصوبہ قوم کے سامنے رکھا گیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے اور خود میڈیکل شعبہ کے بڑے ناموں سمیت کاروباری طبقات نے ان کو یہ ہی مشورہ دیا تھا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا مفت یا کم پیسوں پر علاج ممکن نہیں اور وہ یہ خواب چھوڑ دیں کیونکہ ایسا کرنا تقریباً ممکن نہیں تھا ۔لیکن جو لوگ عمران خان کو جانتے ہیں کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیں تو وہ اپنی مستقل مزاجی اور محنت یا لگن اور شوق کی بنیاد پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر ایسے بہت سے کمزور طبقات کے لوگوں کو جانتا ہوں جنھیں شوکت خانم کینسر اسپتال سے مفت علاج کا موقع ملا اوران کے بقول وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے پیاروں کا علاج یہاں جہاں بہتر سہولتوں کی بنیاد پر ہوسکتا ہے وہیں یہ علاج مفت بھی ہوسکتا ہے ۔ایسا اسپتال جہاں کسی بڑے اور چھوٹے یا کسی شہر یا گاؤں کی سطح پر کوئی تفریق نہیں اور سب سے اہم بات ہر ایک کے لیے ایک جیسی سہولیات کو فراہم کرنا اور اس میں کسی بھی سطح پر تفریق نہ کرنا شوکت خانم کینسر اسپتال ہی کا کام ہے۔
یہ ادارہ ایک مکمل ادارہ جاتی سطح پر موجود ہے اور اسی بنیاد پر یہ ادارہ لاہور سے نکل کر پشاور اور اب کراچی تک پہنچ گیا ہے ۔اسپتال کی خوبی یہ ہے کہ یہاں علاج و معالجہ کی سہولتیں عالمی معیار کے مطابق ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمزور لوگوں کو علاج کی فراہمی دیکھ کر واقعی خوشی ہوتی ہے ۔پچھلے چند ماہ قبل میں نے شوکت خانم اسپتال کا دورہ کیا تو وہاں بیٹھے مریضوں کو دیکھا جو دور دراز کے علاقوں کے لوگ تھے اور ان کے چہرے پر ایک امید اور روشنی کی کرن تھی کہ ان کی جیب خالی ضرور ہے مگر ان میں یہ ہی یقین ہے کہ یہاں ان کے پیاروں کا علاج مفت ہوسکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کچھ لوگ اس ادارے پر سیاسی بنیادوں پر تنقید کرتے ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ جب ان کے پیاروں کو کینسر جیسے مرض کا سامنا کرنا پڑے تو سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پیاروں کا علاج بھی اسی اسپتال اور یہاں موجود ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ہو۔
ایک اور اہم نام ’’ اخوت‘‘ کا ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں ۔یہ بھی ایک کمال کا ادارہ ہے ۔یہ ادارہ تعلیم اور صحت کے شعبہ کی سطح پر جہاں اہم کام کررہا ہے وہیں معاشرے سے غربت کا خاتمہ اور بالخصوص عورتوں کی غربت کا خاتمہ کی بڑی ترجیحات کا حصہ ہے۔اخوت یونیورسٹی جیسا ادارہ بنانا ڈاکٹر امجد ثاقب ہی کا کمال ہے جہاں چاروں صوبوں کے بچوں اور بچیوں کو لاکر مفت تعلیم دینا ،رہائش کی سہولت کو فراہم کرنا ،کھانا پینا دینا ان ہی جیسے بڑے اداروں کا کام ہے ۔اخوت کو ملکی سمیت عالمی سطح پر بھی اپنے کام کے حوالے سے کافی پذیرائی ملتی ہے اور یہ ادارہ اپنے کام کی بنیاد پر کئی عالمی ایوارڈ بھی اپنے نام رکھتا ہے ۔میں ذاتی طور پر ایسے کئی انفرادی افراد یا خاندانوں کو جانتا ہوں جو اخوت کی مدد سے نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوئے بلکہ خود کفالت کا بھی سبب بنے اور ان کو تعلیم اور علاج کی مختلف سہولتیں بھی اسی ادارے کی مدد سے مل رہی ہیں۔ اخوت جیسے اداروں کے ساتھ خود کو جوڑنا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہونا صرف اخوت کی مدد نہیں بلکہ معاشرے کے ان کمزور طبقات کی مدد ہے جو ان اداروں کی مدد سے اپنی زندگیوں کو آسان بنارہے ہیں۔
اسی طرح ایک اور ادارہ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ کا بھی ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بڑی سطح کی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ٹاؤن شپ جیسی بستی میں ان کی تعلیم اور صحت سے جڑی سہولتوں کی فراہمی یقیناً ایک مثالی کام ہے ۔ا س اہم کام میں جناب واسطی صاحب،خالد محمود رسول اور ڈاکٹر خالد اعوان نے بہت جلد اس ادارے کو ایک نئی جدید شکل دے دی ہے۔ اگلے چند ماہ میں ان کا اسپتال جدید بنیادوں پر سامنے لانے کا مکمل منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ اسپتال میں جدید مشینری ، ماہر ڈاکٹرز،سازگار ماحول،نئے جدید شعبہ جات کا قیام ،کم قیمت اور مفت علاج کی سہولت، ٹیسٹوں کی فراہمی جیسی سہولیات فراہم کرنا آسان نہیں ہے۔ صرف 2025 میں پونے تین لاکھ افراد اس ادارے میں اپنے علاج سے مستفید ہوئے ہیں ۔اسی طرح مجھے ان کے تعلیمی ادارو ں کے منصوبوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے اور جس شاندار انداز میں یہ لوگ بہت کم فیس اور غریب بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں وہ بھی کمال کا کام ہے ۔ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بنیاد جہاں تربیت پر ہے وہیں جدید تقاضوں کے ساتھ اساتذہ اور بچوں یا بچیوں کی تربیت میں بھی یہ کافی بہتر طور پر کام کررہے ہیں ۔
ڈاکٹر انتظار بٹ سماجی شعبہ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں آنکھ کے ماہر ڈاکٹر ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں غریب اور مستحق لوگوں کے لیے وہ ان کی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم آنکھوں کا مفت علاج اور آپریشن کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’ پی او بی ‘‘ کے نام سے کام کرتا ہے جس کا مقصد روشنی کے سفر کو آگے بڑھانا ہے ۔یہ سفر 2000سے شروع ہوا اور آج 2026میں ایک بڑے اسپتال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ان کے بقول بلا امتیاز، بلا تفریق اور بلا معاوضہ ان کے سنہری اصول ہیں ۔ان کے پاس جدید ترین آلات اور بہترین ماہرین امراض چشم،آپریشن بذریعہ فیکو لیز سرجری جیسی سہولتیں میسر ہیں ۔ یہ لوگ مختلف پس ماندہ علاقوں میں آنکھ کے آپریشن کے لیے کیمپ بھی لگاتے ہیں۔ ان کے بقول اگر کوئی فرد پندرہ ہزار کی امداد دیتا ہے تو اس سے ایک فرد کی آنکھ کو بچایا جاسکتا ہے ۔ان کی طرف سے 2026کے اہداف میں چھ لاکھ سے زیادہ مریضوں کا معائنہ ،ساٹھ ہزار سے زیادہ آپریشنز،بیس ہزار سے زیادہ بچوں کا طبی معائنہ اور عینکوںکی فراہمی شامل ہے۔ اب تک یہ ادارہ 23مختلف ممالک اور ملک کے 58اضلاع میں مفت خدمات،1047فری آئی کیمپس، 33لاکھ سے زیادہ مریضوں کا طبی معائنہ، بیس جیلوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا مفت علاج شامل ہے ۔یہ اسپتال لاہور رائے ونڈ میں موجود ہے ۔
رمضان المبارک میں ہم اپنی آمدن میں سے کچھ رقم ایسے افراد یا اداروں پر خرچ کرتے ہیں جو ان کی مدد کے اصل مستحق ہوتے ہیں ۔کیونکہ آپ کی امداد اصل میں پاکستان میں ان لوگوں کو سہارا دیتی ہیں جو کئی حوالوں سے محرومی کی سیاست کا شکار ہیں ۔کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم اور علاج سمیت اپنی معیشت کو بہتر کرسکیں ۔خاص طور پر ایسے ادارے جو لوگوں کی سفید پوشی کو چھپا کر مستحق لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔اس لیے آپ آگے بڑھیں اور ان اداروں کے ساتھ خود کو جوڑیں کیونکہ یہ ہی ادارے معاشرے کا حقیقی چہرہ بھی ہوتے ہیں اور معاشرہ ان ہی اداروںکی موجودگی کی وجہ سے آج قائم ہے۔اسی طرح جب آپ اپنی امداد افراد کے مقابلے میں سماجی اداروں کو دیں گے تو اس سے ملک میں سماجی اداروں کی مضبوطی ہوگی اور ان اداروں کی مضبوطی کا عمل معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔