سیاہ انقلاب ، سفید انقلاب اورسرخ انقلاب

تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا


سعد اللہ جان برق February 28, 2026
[email protected]

نام تو ان کا کوئی اورتھا لیکن لالہ کے نام سے مشہور تھا ، میں اسے کامریڈلالہ کہتا تھا، ہمیشہ ایک خاکی رنگ کا تھیلا اس کے کاندھے پرلٹکا ہوتا تھا یا کہیں جاتے ہوئے یاکہیں سے آتے ہوئے پوچھا جاتا کہ لالہ کہاں جارہے یا کہاں سے آرہے ہو، کہتا تنظیم کے کام سے جا رہا ہوں۔ تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا ، تھیلے میں اکثر اقوال ماوزئے تنگ اورمارکس و لینن یا انگلز سٹالن کے اقوال کے چھوٹے چھوٹے کتابچے ہوتے ، یہ وہ دن تھے جب فیشن ایبل سوشلزم کا فلو یا کرونا زوروں پر تھا ، روسی کتابوں کے اردو تراجم کی بھر مارتھی اورترقی پسند مصنفین بے تحاشا مزاحمتی ادب تخلیق کرنے میں لگے ہوئے تھے ،اکثر فارغ البال قسم کے سرمایہ دار وکیل، صحافی ،شاعر اورکالجوں کے اسٹوڈنٹ اس بخارمیں مبتلا تھے ، فیض اورساحر کے اشعار زبان زد خاص وعام تھے ۔

لالہ ایک ایسے محکمے میں ملازم تھے جس میں تنخواہ کے دن حاضری دیتے تھے ، آدھی تنخواہ لے کر آجاتا تھا اورباقی ’’حقدار ‘‘ آپس میں تقسیم کرلیتے ، ایسے ملازموں کو محکمے کی اصطلاح میں شش وپنج کہتے تھے ۔دوسری طرف لالہ کی بیوی نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ سنگل پھیرہ ہرگز نہیں لگائے گی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں کرکٹ ٹیم پوری کرلی تھی ، ایسے لوگ جب اولاد کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے تو لاڈلے پن کا مظاہرہ یوں کرتے ہیں کہ انھیں بے مہار چھوڑ دیتے ہیں چنانچہ لالہ کے بیٹے بھی ہر وہ کام کرتے اورسیکھنے لگے جو کرنے کے ہرگز نہیں ہوتے اورہر وہ ہنرسیکھتے رہے جو سیکھنے کے نہیں ہوتے ۔

پھر لالہ کی زندگی میں اچانک ایک انقلاب آگیا جو سرخ انقلاب تو نہیں تھا البتہ کالا انقلاب اسے ضرورکہہ سکتے ہیں، لالہ کی بیوی کسی دوسرے گاؤں کی تھی جہاں اس کا باپ اپنے باپ سے پہلے مرگیا تھا اس لیے چچاؤں نے اسے وراثت میں کچھ نہیں دیا ، اس کی ماں اسے لے کر یہاں آگئی اورمحنت مزدوری کر کے اسے پالا، پھر اس کی شادی لالہ سے ہوگئی، لالہ کو بھی کوئی اوراپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں تھا،  لیکن جب ایوب خان کے عائلی قوانین نافذ ہوگئے تو اس کے رشتہ داروں میں کچھ خداترس اوراچھے لوگ بھی پیدا ہوگئے اورانہوں نے خود ان سے کہا کہ آکراپنے حصے کی جائیداد لے لیں۔

لالہ گیا اس کاخیال تھا کہ تھوڑی زمین ہوگی لیکن وہ بہت بڑی جائیداد نکلی، اوپر سے بارانی کی جگہ اب نہری بھی ہوگئی تھی چنانچہ لالہ نے ایک ٹکڑا بیچ ڈالا جس کا اتنا روپیہ ملا کہ گھر کا سب کچھ بلکہ مکمل گھر بھی تیار ہوگیا اورایک بھینس بھی خرید لی، بھینس کاکچھ دودھ فالتو ہوجاتا تھا تو اسے بیچنے لگے ، دودھ کی آمدنی دیکھ کر ایک اوربھینس خریدی پھر چارہوگئیں تو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی ،چند بیٹے بڑے ہوگئے تھے اس لیے بھینس چرانے ، چارہ لانے اوردیکھ بھال کرنے کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا ، مسئلہ تھا تو جگہ کی تنگی کا چنانچہ لالہ نے اس زمین کا ایک اورٹکڑا بیچ کر گاؤں کے باہر زمین خرید لی اورچاردیواری ڈال کر فارم بنا لیااوربھینسوں کی تعداد بڑھاناشروع کردی کچھ ہی عرصے میں بھینسوں کی تعداد بیس پھر تیس پھر چالیس یہاںتک کہ اسی(80) ہوگئی، اتنا دودھ گاؤں میں تو کھپتا نہیں، اس لیے شہرکے دکانداروں کو بھی دودھ سپلائی کرنے لگے اوراس کام کے لیے ایک پک اپ بھی خرید لی ، پک اپ کا ڈرائیور بھی اپنا بیٹا تھا، ایک بیٹے کو جانوروں کا ڈاکٹر بھی بنایا۔ اب چونکہ گاؤں کے دوسرے سرے پر فارم کے ساتھ ہی گھر بنا کر رہنے لگے تھے اس لیے لالہ سے ملاقات کم ہوتی تھی لیکن اس کی دن دونی رات چوگنی ترقی کے بارے میں سنتا رہتا تھا ۔ ایک دن دیکھا تو لالہ ایک شاندار کار میں بیٹھا تھا ، خاکی تھیلے کی بجائے ہاتھ میں کالابریف کیس تھا ،بے رنگ کپڑوں کی سفید براق لباس میں تھا\ پوچھا تو بولا کہ فارم کا باقی کام تو بیٹے سنبھالے ہوئے ہیں اورلالہ کے ذمے شہر کے دکانداروں کے ساتھ حساب کتاب اور وصولی کرنا تھا اورکھل بورا وغیرہ پہنچانا تھا ۔ کلین شیو کی جگہ داڑھی نے لے لی تھی۔

 پھر کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ مسجد کا خزانچی اورمتولی بھی ہوگیا ہے، اذان بھی دینے لگا اورعشاء کی نماز کے بعد لاوڈ اسپیکر کھول کر رشد وہدایت کے مسائل بھی بیان کرنے لگا ہے ، پھر اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو ہاتھ میں سو دانے کی تسبیح، سر پر مخروطی ٹوپی جیب میں مسواک۔ پوچھا ، لالہ یہ کیا؟ بولا باقی تو خدا کا فضل ہے لیکن آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے بلکہ ساتھ ہی مجھے نماز کی تلقین بھی کی اورمیں حیران ہو رہا تھا، یہی لالہ تھا جو ہر وقت قسمت کا رونا روتا رہتا اور خدا کی ناشکری کرتا تھا ، دین اوردینی شعائر سے کوسوں دور تھااورآج وہ آخرت کی بات کررہا تھا اورمجھے اس نماز کی تلقین کررہا تھا جس سے وہ خود دور تھا۔

لیکن پھر بھی اس کی تبدیلی کے بارے میں سن سن کر خوش ہوجاتے تھے ، صبح کابھولا شام سے پہلے گھرآئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، پھر سنا کہ حج بھی کرلیا ہے اوراپنے ایک بیٹے کو دینی مدرسے میں بھی داخل کیا ہوا ہے اوراس لیے داخل کیا ہے کہ اپنا ایک دینی مدرسہ کھولنا چاہتا ہے جس کے لیے سڑک کے کنارے زمین بھی خرید لی ہے ۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ دولت آنے پر بھٹکا نہیں بلکہ اوربھی زیادہ دیندار ہوگیا ہے پھر کچھ دن بعد اس کی بیوی فوت ہوگئی ، تجہیز وتکفین میں تو عام لوگوں کی طرح حصہ لیا تھا لیکن سوچا اتنا عرصہ ایک محلے میں رہے ہیں اچھے تعلقات رہے ہیں تو خصوصی طورپر بھی تعزیت کے لیے جاناچاہیے ۔ بہت بڑا وسیع فارم تھا جس سے لگے ہوئے کھیت بھی تھے جن میں مختلف چارے کے کھیت بھی تھے اوراس کے دوبیٹے ان میں چارہ کاٹ رہے تھے ۔فارم کے گیٹ پر جو چوکیدار تھا وہ اپنے پرانے محلے کاتھا اس کی رہنمائی میں چل پڑا تو ایک وسیع وعریض احاطے میں چاروں طرف برآمدے اورکمرے تھے جن میں مختلف عمروں اوررنگوں کی بھینسیں کھڑی تھی اورچوکیدار مجھے بتا رہا تھا وہ دودھیل بھینس ہیں ، وہ سوکھی ہیں ایک طرف مختلف عمروں کی کٹڑیاں بھی تھیں ، کل تین سو بھینس تھیں ، اس احاطے کے پہلو میں ایک دروازہ تھا جو آدمیوں کے لیے، ضروری سامان کے لیے اورفارم سے متعلق آلات وغیرہ کے لیے، اس حصے میں تو برآمدے ہیں ، لالہ ایک پرتکلف چارپائی پر بیٹھا تسبیح پھیر رہا تھا اوربرآمدے کے دوسرے سرے پر کام کرتے ہوئے بیٹوں کو دیکھ رہا تھا ، وہ لوگ بڑے ٹبوں میں پانی اورکچھ چیزیں ملا کر ایک بڑی واشنگ مشین میں ڈال رہے تھے اورپھر واشنگ مشین سے نکلتا ہوا ’’دودھ‘‘ برتنوں میں بھر رہے تھے ، علیک سلیک اورعذر معذرت سے فارغ ہوئے تو میں نے اشارہ کرکے پوچھا لالہ یہ کیا ہے ، ہنس کر بولا دراصل مارکیٹ میں دودھ کی مانگ بڑھ گئی تو بھینس پورا نہیں کرپارہی ہیں اوراس میں کوئی خراب چیز نہیں ہے ،صاف پانی ہے اورکچھ مسالے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ طبیعت خراب ہوئی لیکن کچھ کہے بغیر اٹھ آیا، راستے میں دودھیل بھینسوں کابرآمدہ تھا ، برآمدے کے سامنے دو خون آلود بوریاں پڑی تھیں ، چوکیدار سے پوچھاکیا کوئی بھینس مرگئی ہے ؟ بولا نہیں یہ وہ کٹڑے ہیں جو پیدا ہوتے ہی ذبح کردئیے جاتے ہیں صرف مادہ کٹڑیاں زندہ رکھی جاتی ہیں ، ان کٹڑوں کے حصے کا دودھ بھی بچ جاتا ہے اورکٹڑے بھی فروخت کیے جاتے ہیں جو بازاروں اورہوٹلوں میں ’’چھوٹا گوشت ‘‘کے طورپر بیچے جاتے ہیں ۔

میں نے دل میں سوچا۔ پہلے بھینسوں کا سیاہ انقلاب پھر دودھ کا سفید انقلاب اوراب یہ سرخ انقلاب۔

مقبول خبریں