سندھ کے وزیر سعید غنی اور بعض پی پی رہنماؤں نے سندھ کے گورنر کو ہٹا کر وزیر اعظم سے مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کسی شخص کو گورنر بنانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی کہا ہے کہ سندھ کے گورنر ہاؤس کو سیاسی محاذ آرائی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کیا دو وفاقی وزراء خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کے بیانات وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس میں امید رمضان کے نام سے گرینڈ افطار کا انتظام کیا جاتا ہے اور شہریوں کو عمرے کے ٹکٹ اور پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ افطار ڈنر میں یہ بھی کہا تھا کہ کراچی کے مستقبل پر بحث شروع ہو چکی ہے۔
سندھ اسمبلی نے حال ہی میں سندھ کی تقسیم اورکراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے خلاف جو قرار داد منظورکی تھی، اس پر ایم کیو ایم کے دونوں وفاقی وزیروں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو غیر آئینی اور وفاق کے خلاف کھلا چیلنج قرار دیا تھا کہ کیا کسی صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئین سے متصادم قرارداد منظور کرے؟ وفاقی وزیروں کو جواب دیتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ متحدہ رہنما آئین کا مطالعہ کرتے تو غیر سنجیدہ بیانات نہ دیتے۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد وفاق میں حلیف پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوئی تھی اور ایم کیو ایم نے وفاق سے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی کو وفاقی کنٹرول میں لیا جائے اور ایم کیو ایم کا کوئی مطالبہ بھی آئین سے باہر نہیں ہے اور وفاقی حکومت آئین کے تحت ایسا کر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے اس مطالبے کی پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی مخالف ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی ان دونوں پارٹیوں نے حمایت کی ہے۔
دو سال قبل فروری 2024 میں وفاقی حکومت کی تشکیل کے وقت دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی شامل تھیں۔ بڑی پارٹیوں نے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے عہدے خود لیے تھے اور حلیف پارٹیوں کو وفاقی وزارتیں دی تھیں۔ (ن) لیگ اور پی پی نے جو فیصلہ کیا تھا، اس میں پنجاب اورکے پی کے گورنر پیپلز پارٹی کو اور سندھ بلوچستان کی گورنر شپ مسلم لیگ (ن) کو دینا تھی۔ معاہدے کے تحت پنجاب اور کے پی میں پیپلز پارٹی کے اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے گورنر مقرر ہوئے تھے جب کہ سندھ کی گورنری 2022 میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کو دی تھی اور کامران خان ٹیسوری کو گورنر سندھ بنایا گیا تھا جو (ن) لیگی حکومت نے برقرار رکھ کر ایم کیو ایم کو دی تھی۔
1973 کے آئین میں پیپلز پارٹی نے سندھ کے مخصوص حالات کے تحت زیادہ تر اردو بولنے والے کو گورنری کے عہدے پر رکھا جب کہ ایم کیو ایم بعد میں بنی تھی۔ پی پی حکومت میں میر رسول بخش تالپور بھی گورنر سندھ رہے۔ جنرل پرویز نے متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر بنایا تھا جو بعد میں پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں بھی گورنر سندھ رہے جن کے بعد (ن) لیگ نے بھی اردو بولنے والوں کو گورنر کا آئینی عہدہ دیا تھا۔ پی پی حکومت نے گورنر سندھ کو بعض اختیارات سے محروم بھی کیا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ کامران ٹیسوری سندھ کے منفرد گورنر بنے جنھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے۔ گورنر ہاؤس میں عوام کے لیے مختلف تقریبات بھی منعقد ہوتی رہیں اور عوام کی شنوائی کے لیے مختلف اقدامات کیے اور متحدہ رہنما بھی گورنر ہاؤس میں مختلف پروگرام منعقد کرتے رہے۔
سانحہ گل پلازہ پر گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے وقوعہ پر پہنچے تھے اور وہ متاثرین کی مدد میں سرگرم بھی رہے جب کہ ان کے پاس متاثرین کی مدد کا کوئی اختیار نہیں تھا اور وزیر اعلیٰ سندھ ہی کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور سندھ حکومت نے ہی متاثرین اور شہید ہونے والوں کی امداد کا اعلان کیا اور سندھ حکومت نے گل پلازہ کی تعمیر نو کا اعلان کیا اور متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور کاروبار کے لیے اپنے میئر کراچی سے جگہیں بھی دلائی ہیں۔
گورنر ایک آئینی عہدہ ہے گورنر کے انتظامی اختیارات نہیں ہیں۔ سندھ کے گورنر کا تعلق ایم کیو ایم، پنجاب و کے پی کے گورنروں کا تعلق پیپلز پارٹی اور بلوچستان کے گورنر کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ گورنر بلوچستان کی سرگرمیاں تو میڈیا میں نہیں آتیں اور وہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت ہے جب کہ پنجاب و کے پی کے گورنر سیاسی طور پر متحرک ہیں اور صدر مملکت آصف زرداری اور بلاول بھٹو پنجاب کے گورنر ہاؤس میں سیاسی اجتماعات منعقد کرتے رہے ہیں۔
گورنر کے پی اور وہاں پی ٹی آئی حکومت میں سخت محاذ آرائی ہے جس پر کے پی حکومت نے گورنر کے پی پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں مگر سندھ میں تقریباً چار سال سے گورنر اور سندھ حکومت میں کوئی محاذ آرائی نہیں تھی اور گورنر سندھ بھی گورنر پنجاب کی طرح وہاں کی حکومتی کارکردگی پر زبانی تنقید ضرور کرتے ہیں مگر سندھ کا گورنر ہاؤس سیاست سے زیادہ عوامی معاملات میں سب سے آگے ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤسز میں تبدیلی لانے کے اعلانات کیے تھے مگر عملی طور کچھ نہیں کیا تھا صرف گورنر پنجاب سرور چوہدری نے اپنے طور پر کچھ تبدیلیاں ضرور کی تھیں۔ گورنر ہاؤس میں پی ٹی آئی دور میں یونیورسٹیاں تو نہ بنیں مگر گورنر ہاؤس کراچی میں نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دینے کے لیے جو پیش رفت ہوئی اس کی تقلید باقی صوبوں میں بھی ہونی چاہیے۔