امریکا اور اسرائیل کے ایران میں حساس مقامات پر حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بڑا اعلان کردیا جس سے دنیا بھر میں تیل کی سپائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحری جہازوں کو ریڈیو پیغامات کے ذریعے خبردار کیا کہ اب آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس بات کی تصدیق یورپی یونین کے بحری مشن کے ایک عہدیدار نے بھی کی ہے۔ جنھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ سمندر میں جہازوں کو اابی گذرگاہ بند ہونے کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اسی راستے تیل اور گیس دنیا بھر میں پہنچائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے جب کہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ بھی اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
اسی گذرگاہ کے ذریعے بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات، کویت، عراق، سعودی عرب اور ایران سے تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے جبکہ قطر اپنی زیادہ تر ایل این جی برآمدات بھی اسی کے ذریعے کرتا ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
علاوہ ازیں کچھ بڑی تیل کمپنیوں اور تجارتی اداروں نے پہلے ہی اس راستے سے تیل کی ترسیل روکنے یا محدود کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔