مہنگائی سے مراد ہے اشیاء کی قیمتوں کا آمدن کے مقابلے میں بڑھ جانا، یعنی آمدن اتنی ہی ہے یا اس نسبت سے نہ بڑھے جس نسبت سے اشیاء کی قیمتیں بڑھیں۔ مہنگائی کے معنی اسم مونث مہنگا ہونے کی کیفیت، گراں ہونے کی حالت،گرانی اشیاء ضروریہ کی قلت یا قحط ہے۔
مہنگائی سے مراد اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں مسلسل اور عمومی اضافہ ہے جس کے نتیجے میں کرنسی کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے، یہ وہ معاشی کیفیت ہے جس میں کم رقم کے بدلے کم اشیا ملتی ہیں، یوں زندگی گزارنے کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
سب اچھا ہے، سب سستا ہے کہ راگ الاپنے والی حکومت کو کیا پتہ مہنگائی کیا چیز ہے؟ مہنگائی کی وجہ سے آج ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور بدقسمتی سے موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں ہوں عوام کوکچھ بھی ڈلیورکرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
ایک طرف سرکارکے شاہانہ خرچے تو دوسری طرف ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اس طبقاتی کشمکش نے معاشرے میں ایک خم پیدا کردیا ہے۔ ایک عام پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کا کیا قصور ہے؟
آج کا جو پاکستان ہے کیا علامہ اقبال اور قائد اعظم نے ایسا سوچا تھا جو حالات پاکستان کے ہوئے ہیں۔ کیا جنھوں نے یہ دھرتی بنانے کے لیے قربانیاں دی تھیں انھوں نے یہ کبھی سوچا تھا کہ ہم جس دھرتی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں غریب کے لیے مہنگائی ہو گی۔
غریب کو دو وقت کی روٹی کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرنا پڑے گا اور اس کی ضروریات پھر بھی پوری نہیں ہوں گی۔یہ ملک تو بنایا گیا تھا جہاں سب کو بہتر زندگی ملے۔
جہاں مہنگائی اور ظلم سے نجات ملے،جہاں ہر طرف امن اور انصاف کا دور دورہ ہو۔آج جب وہ سب خواب ٹوٹتے ہوئے نظر آتے ہیں تو سوائے دکھ کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔انصاف جس کے نعرے سنتے آئے تھے آج ناپید نظر آتا ہے۔
کیا ہمارے سیاسی اکابرین کو اس بارے میں تھوڑا سا بھی احساس نہیں۔ آخر ایک عام آدمی کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔ ریاست کی یہ ذمے داری ہے کہ ہر شہری کو اس کے بنیادی معاشی حقوق دے۔
جتنا حق حکمران طبقے کا ہے، اتنا ہی حق ایک عام آدمی کا بھی ہے۔ عام آدمی کو بھی اچھی صحت، اچھی تعلیم اور اچھی خوراک کا حق ملنا چاہیے۔ آخر کب ایک عام آدمی جاگے گا اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے گا، وسائل سے بھرپور ملک میں اتنے مسئلے آخرکیوں ہیں؟
جب ارکان اسمبلی کی اپنی تنخواہوں اور مراعات کی بات آتی ہے تو سب ایک ہو جاتے ہیں ، اس وقت حزب اقتدار اور حزب مخالف کی تمام لکیریں مٹ جاتی ہیں، محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
دیکھا جائے تو کوئی بھی رکن اسمبلی غریب نہیں،تقریباً سبھی کروڑ پتی ہیں ،کچھ تو ارب پتی ہوں گے۔مگر مراعات لینے کے لیے کوئی کسی سے پیچھے نہیں رہتا۔ مگر غریب کا کسی کو کوئی خیال نہیں آتا۔
حکومت کو فوری طور پر زرعی ایمرجنسی لگانی چاہیے۔ مہنگائی کوکم کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، اس کے لیے ایک اچھے جذبے کی ضرورت ہے۔
زراعت کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ حکومت کو چاہیے فوری طور عام اشیائے خورونوش پر تمام قسم کے ٹیکس کو ختم کرے تاکہ ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی کھا سکے۔
اب وقت آچکا ہے کہ ادارے بھی اس بارے میں سوچیں۔ ہم یہ ملک کس سمت لے جا رہے ہیں۔ اقوام عالم میں عام پاکستانی کی کوئی عزت و اہمیت نہیں ہے۔ سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے، سب بہتر ہے یہ صرف حکمران طبقوں پر لاگو ہوتا ہے۔
نچلی سطح پر یا عام آدمی کی زندگی ویسے ہی ہے، جیسے پہلے تھی۔ اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ قوم میں شعوری تحریک پیدا کریں جو آگے جاکر معاشی آزادی کی تحریک میں بدلے، پاکستان میں بسنے والے کروڑوں عوام معاشی خوشحالی سے محروم ہیں۔
حکمران طبقے نے عوامی خوشحالی کی نفی کی ہے اور عوام کو اپنا معاشی غلام بنا لیا ہے، جب تک عوام متحد ہوکر اپنی معاشی آزادی چھین نہیں لیتے۔
اس وقت تک عوام کی خوشحالی ناممکن ہے، اگرکوئی سمجھتا ہے کہ حکمران عوام کو معاشی آزادی دے دیں گے تو یہ ناممکن ہے، اس کے لیے صرف اب ایک ہی رابطہ ہے کہ عوام متحد ہو کر اپنی معاشی آزادی چھین لیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام متحد ہو کر اپنے اندر سے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے ایمانی اقتدار میں لائیں۔ جاگیردار، وڈیرا یا سرمایہ دار صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔
انھیں عام آدمی کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں، لٰہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اس بات کو سمجھیں۔ آخرکب تک ہم اپنے اوپر ایسے نااہل حکمرانوں کو مسلط کریں گے جو ہمارے حقوق کو سلب کریں گے۔
نام نہاد جمہوری کلچر میں عوام ووٹ اپنی خوشحالی کی بحالی کے لیے دیتے ہیں لیکن پھر بھی عوام کی معاشی بدحالی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکمران طبقہ سب اچھا ہے، سب اچھا ہے، کا راگ الاپ رہا ہے مگر نچلی سطح پرکچھ بھی اچھا نہیں ہے۔
حکمران طبقے کی تعریف میں کیا لکھوں، انھوں نے ایسا کیا کیا ہے کہ ان کی تعریف لکھی جائے۔ عوام الناس کو بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ ان تمام مسئلوں کا حل کیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے اندر اتفاق اور اتحاد پیدا کریں اور اپنے دشمنوں کو پہچانیں۔
پاکستان اس وقت بہت اہم اور نازک دور پرکھڑا ہے ہر بار وہی چہرے وہی لوگ ایوان اقتدار میں آکر ہم پر حکمرانی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو چور، چور بول کر خود چوریاں کر کے چلے جاتے ہیں۔
چھوٹے چوروں کو تو عوام الناس پکڑکر بہت جلدی انصاف مہیا کردیتے ہیں۔ بڑے چوروں، ڈاکوؤں کو کون پکڑے گا؟ ان سے کون حساب کرے گا؟ فطرت اور قدرت کے خلاف جو اقوام جاتی ہیں وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہیں، لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فطرت کے عین مطابق کام کریں۔
حکمران طبقہ عوام الناس کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اگر حکمران ہمارے ساتھ مخلص ہوتے، سچے ہوتے، تو ہمارا یہ حال ہرگز نہیں ہوتا۔
ہر سیاسی جماعت اپنے آپ کو عوام دوست، عوام مخلص محب وطن کہتی ہے لیکن عملی طور پر یہ الٹ ہیں۔ آخرکب تک ایک عام آدمی اپنی بے بسی کا رونا روتا رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس مل کر عوامی معاشی آزادی کی تحریک چلائیں۔