مصنوعی ذہانت کی دوڑ : پاکستان کے لیے سبق

اب قومی مسابقت کا براہِ راست تعلق اے آئی کے استعمال کی شرح سے جڑچکا ہے


مہر فیروز March 01, 2026

عالمی طاقت کا منظرنامہ اب صرف جغرافیائی سرحدوں یا روایتی ہتھیاروں سے متعین نہیں ہوتا بلکہ اب یہ فلوٹنگ پوائنٹ آپریشنز اور نیورل نیٹ ورکس سے تشکیل پا رہا ہے۔

جیسے جیسے دنیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے، وہیں جنوبی ایشیا تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم انڈیا اے آئی ایمپکٹ سمٹ 2026 میں پیش آنے والا ایک حالیہ اسکینڈل نے پورے خطے کی ٹیک کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے اور ایک اسٹرٹیجک آئینہ بھی۔

مصنوعی ذہانت اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں رہی بلکہ یہ جدید معاشی ترقی کا بنیادی انجن بن چکی ہے۔ 2026 میں عالمی اے آئی مارکیٹ کی مالیت تقریبا 2.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2025 کے مقابلے میں تقریبا 44 فیصد اضافہ ہے۔

اب قومی مسابقت کا براہِ راست تعلق اے آئی کے استعمال کی شرح سے جڑچکا ہے، جو دنیا بھرکے اداروں میں بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ معاملہ وجودی اہمیت رکھتا ہے۔

2030 تک اے آئی کے ذریعے عالمی معیشت میں 15۔7 ٹریلین ڈالر کے اضافے کی پیش گوئی ہے اور اس دوڑ میں ٹیکنالوجیکل جدت خود مختاری کی علامت بن چکی ہے جو زراعت، صحت اور روزگار کے نئے مواقعے سمیت ہر شعبے کو متاثرکررہی ہے۔

خطے میں اے آئی کی ترقی کا فرق واضح اور نمایاں ہے، تاہم دونوں ہمسایہ ممالک بالکل مختلف رفتار اور پیمانے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

انڈیا نے حال ہی میں 2۔1 ارب ڈالر کے ’’ انڈیا اے آئی مشن‘‘ کو عملی شکل دی ہے جس کا مقصد مقامی کمپیوٹنگ صلاحیت اور ’’سورن اے آئی‘‘ کی تعمیر ہے، جب کہ ’’ اے آئی فار آل‘‘ حکمتِ عملی کے تحت بھارت خود کو عالمی سطح پر اسکیل ایبل ٹیکنالوجی کے ایک بڑے تجرباتی مرکزکے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں اگست 2025 میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے، مگر یہ زیادہ تر انسانی وسائل کی ترقی اور مختلف شعبوں میں اے آئی کے اطلاق تک محدود ہے نہ کہ مہنگے انفرا اسٹرکچرکی تعمیر تک۔

اسی فرق کا اظہار اے آئی ایکو سسٹم میں بھی نظر آتا ہے جہاں 2026 میں اندازے کے مطابق انڈیا کی اے آئی انڈسٹری کی مالیت 8 ارب ڈالر سے زائد، اے آئی پر مبنی 4 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپس، عالمی سطح پر تحقیقی حوالہ جات میں ٹاپ 5 ویں پوزیشن اور قومی سپرکمپیوٹنگ گرڈ موجود ہے۔

جب کہ پاکستان میں اے آئی انڈسٹری کی مالیت تقریباً 120 ملین ڈالر ہے، 150 سے 200 اسٹاٹ اپس، تحقیقی آؤٹ پٹ میں جنوبی ایشیا میں 10 ویں پوزیشن اور کمپیوٹ پاور زیادہ تر کلاؤڈ پر انحصار تک محدود ہے۔

دہلی میں سولہ تا بیس فروری کو منعقد ہونے والے ’’ انڈیا اے آئی ایمپکٹ سمٹ 2026‘‘ میں گلگوٹیاس یونیورسٹی کو فوری طور پر اسٹال خالی کرنے اور عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

یونیورسٹی نے ’’اورایئن‘‘ نامی روبوٹک کتے کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کیا، لیکن حاضرین اور سوشل میڈیا نے اسے جلد ہی چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس کی کمرشل پروڈکٹ ’’ یونی ٹری گو 2 ‘‘ کے طور پر شناخت کر لیا۔

بھارتی وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی نے یونیورسٹی کو اسٹال خالی کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ’’ غیر حقیقی رویے کو فروغ نہیں دیا جائے گا۔‘‘ یونیورسٹی نے عملے کی غلطی اور روبوٹ کو صرف ’’کلاس روم موشن‘‘ قرار دیا، لیکن ان کی ساکھ پر نقصان ہو چکا تھا۔

یہ واقعہ بین الاقوامی برادری کے لیے washing Innovation یعنی غیر ملکی ٹیکنالوجی کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے گلگوٹیاس اسکینڈل ایک محتاط انتباہ ہے کہ تشہیری مہم پر مبنی جدت حقیقی تحقیق و ترقی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

جہاں پاکستان اپنی قومی سطح کی مصنوعی ذہانت کی پالیسی نافذ کر رہا ہے تو یہ خطرہ موجود ہے کہ جامعات صرف ’’وقار‘‘ کے پیچھے بھاگیں اور حقیقی ’’پیداوار‘‘ کو نظر انداز کردیں۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سینیٹرز آف ایکسیلنس میں حقیقی علمی ملکیت کی جانچ اورآڈٹ یقینی بنائے۔ ملک میں ذہین کمپیوٹر سائنسدان موجود ہیں، لیکن مقامی جی پی یوکلسٹرز اور اعلیٰ سطح فنڈنگ کی کمی انھیں امریکا یا مشرق وسطیٰ جانے پر مجبورکرتی ہے۔

پاکستان ایک ’’ ڈیجیٹل خود مختار کلاؤڈ‘‘ قائم کر کے مقامی محققین کو وہ وسائل فراہم کر سکتا ہے جو انھیں ملک میں رہ کرکام کرنے کو ترجیح دیں۔

پاکستان کو عالمی سطح کا سب سے بڑا ماڈل بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ عملی مصنوعی ذہانت پر توجہ دے، جیسے لاہورکے اسموگ بحران کو حل کرنا، ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو بہتر بنانا یا اردو زبان میں صحت کی تشخیص فراہم کرنا، تو پاکستان ایک ایسا شعبہ تخلیق کرسکتا ہے جو اخلاقی طور پر درست اور اقتصادی طور پر مؤثر ہوگا۔

گلگوٹیاس کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اے آئی میں قیادت کا راستہ کسی چینی شیلف سے خرید کر حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ لیبارٹری میں محنت اور تحقیق سے بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے پاس صلاحیت موجود ہے، اب ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ دیانت داری اور مضبوط انفرا اسٹرکچر بھی بنایا جائے۔

مقبول خبریں