غزہ امن بورڈ ؟

اس امن بورڈ کے مجوزہ قیام کا خیال سب سے پہلے ستمبر 2025 میں پیش کیا گیا تھا


سہیل یعقوب March 01, 2026
sohailyaqoob

غزہ امن بورڈ یا غزہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنیوالا بورڈ، اس کا فیصلہ تو آنیوالا وقت ہی کریگا۔ دنیا میں ہر دور میں جنگیں ہوتی رہی ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد مزید جنگوں کو روکنے کے لیے اور عالمی تنازعات کا سفارت کاری کے ذریعے پر امن حل تلاش کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز کا 1920 میں قیام عمل میں لایا گیا تھا، لیکن جب لیگ دوسری جنگ عظیم کو روکنے میں ناکام رہی تو اس کے بطن سے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔

یہ ادارہ بھی لیگ کی طرح اب اپنی اہمیت اور افادیت کھو چکا ہے اور اس کے بنانیوالے بھی اب اسے اپنے مقاصدکی راہ میں رکاوٹ تصورکرتے ہیں۔ اقوام متحدہ ہمیشہ سے ہی امریکا کا ایک طفیلی ادارہ رہا ہے۔

تاہم پھر بھی دنیا کو دکھانے کے لیے اس نے کچھ لولی لنگڑی قراردادیں منظورکی تھی جو اب امریکا اور اس کے حواریوں کو بالخصوص اسرائیل کو بالکل بھی قابل قبول نہیں رہی ہیں، اس لیے اس ادارے کو طاق نسیاں کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2803 کے ذریعے ہی اقوام متحدہ کے متوقع جانشین یعنی امن بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

یہ امن بورڈ کیا ہے؟ امن بورڈ ایک بین الاقوامی فورم یا تنظیم ہے، جس کا بتایا گیا بنیادی مقصد دنیا میں شانتی کا حصول اور امن و امان کا قیام ہیں۔ یہ ادارہ صدر امریکا نے نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی حیثیت میں قائم کیا ہے اور وہی اس کے تاحیات چئیرمین رہیں گے۔

یہ ادارہ امریکی حکومت کے زیر انتظام رہے گا۔ تمام فیصلے رکن ممالک کے اکثریتی ووٹ کے ذریعے طے ہونگے لیکن فیصلوں پر عمل کرنے سے پہلے چئیرمین کی منظوری ضروری بلکہ لازمی ہے۔

یہ بھی ویٹوکی طرزکا نظام ہے لیکن اس دفعہ یہ حق فرد واحد کو دے دیا گیا ہے۔ دنیا کے مبصروں اور پالیسی سازوں نے اس ادارے کے فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور اختیارات کو اس کے چئیرمین کی ذات میں مرکوزکرنے پر اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2803 میں امن بورڈ کا ذکر ایک ایسے ادارے یا تنظیم کے طور پر ہے کہ جس کا بنیادی مقصد غزہ امن معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا ہے۔

اس امن بورڈ کے مجوزہ قیام کا خیال سب سے پہلے ستمبر 2025 میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کی حتمی منظوری عالمی اقتصادی فورم کے چھپن ویں اجلاس کے موقع پر جنوری 2026 میں کی گئی تھی۔

ابتداء میں ساٹھ سے زائد ممالک کو امن بورڈ میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا گیا تھا کہ جس میں صحارا صحرا کے جنوب کے ممالک شامل نہیں ہے کیونکہ کمزور اور غریب کی کوئی عزت نہیں ہوتی جب کہ کینیڈا کو دیا ہوا دعوت نامہ منسوخ کردیا گیا ہے جو کہ اپنے آپ میں ایک بڑی خبر ہے۔

ان ساٹھ یا باسٹھ ممالک میں سے بیس سے زائد ممالک نے یہ دعوت قبول کرلی ہے (کچھ جگہوں پر بائیس اورکچھ جگہوں پر پچیس کا نمبر بھی لکھا ہوا ہے)، جس میں پاکستان بھی شامل ہیں۔

چھ ممالک نے مستقبل قریب میں اس بورڈ میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ دس کے قریب ممالک بشمول یورپی یونین نے ابھی تک حتمی شرکت یا انکار کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم انھوں نے پہلے اجلاس میں مبصرین کے طور پر شرکت کی تھی۔

آسٹریلیا، برازیل، چین، جاپان، روس اور دیگرکل پندرہ ممالک نے نہ ابھی شرکت کا فیصلہ کیا اور نہ ہی انکارکیا ہے، تاہم انھوں نے پہلے اجلاس میں بھی کسی بھی حیثیت میں شرکت نہیں کی تھی۔

آسٹریا، فرانس، جرمنی، ناروے، اسپین، سویڈن، برطانیہ اور دیگرکل بارہ ممالک نے نہ صرف اس میں شامل ہونے سے انکارکیا ہے بلکہ اس کے قیام پر تحفظات کا بھی اظہارکیا ہے اور اس کو اقوام متحدہ کا متبادل قرار دیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ یہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے انتظامی اور مالی امورکی بھی نگہبانی کرے گا۔ اس قدم کو آپ اقوام متحدہ کے کفن میں پہلی کیل قرار دے سکتے ہیں۔

جن بائیس ممالک نے یہ دعوت قبول کی ہے ان کی رکنیت کی مدت تین سال ہے، اگر وہ اپنی رکنیت کو مستقل کرنا چاہتے ہیں تو امن بورڈ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالرز جمع کروانے ہوں گے۔

پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک کو ان کے عسکری اثاثہ جات اور افرادی قوت کے بدلے ایک ارب ڈالر جمع کروانے سے استثناء دیا جاسکتا ہے۔

امریکا نے اس فنڈ میں دس ارب ڈالرز جمع کروائے ہیں اور دیگر رکن ممالک نے اب تک سات ارب ڈالرز جمع کروائے ہیں کہ جس کو آپ ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی خزانہ بھی کہہ سکتے ہیں، اگر آپ کو اس بات پر یقین نہیں تو امن بورڈ کے ہیڈکوارٹر یا صدر دفترکا پتہ پڑھ کر یقیناً یقین آجائے گا۔

ٹرمپ نے امن بورڈ کا صدر دفتر ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس واشنگٹن ڈی سی کو قرار دیا ہے۔ میں نے اپنی ایک اقوام متحدہ کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں لکھا تھا کہ اقوام متحدہ اپنے ہی کسی سقم کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچ جائے گی اور آپ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2803 کو اس سقم کا آغاز قرار دے سکتے ہیں۔

اس تحریر کا ایک ممکنہ موضوع Gaza Board of Pieces بھی ہے تو یہ امن بورڈ نہ صرف اقوام متحدہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا بلکہ یہ غزہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کریگا، کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہہ دیا ہے کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی تعمیر نو سے پہلے غزہ کو مکمل طور پر مسمار کرنا ہوگا۔

اس طریقے سے اسرائیل ان سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا چاہتا ہے جس نے اسے حالیہ جنگ میں ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ اب آپ اس تحریر کے عنوان کو اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔

تمام مہذب ممالک اور تمام وہ ممالک کہ جہاں لوگوں کی نمایندہ حکومت ہے۔ اس امن بورڈ میں شامل ہونے سے پس و پیش سے کام لے رہی ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ وہ اپنی عوام یا سول سوسائٹی کے سامنے جوابدہ ہیں۔

یہ مسلم دنیا کی بدقسمتی ہے کہ جہاں غیر نمایندہ حکومتیں برسر اقتدار ہیں جنہوں نے نہ عوام کو اور نہ ہی کسی سول سوسائٹی کو جواب دینا ہے، اس لیے یہ کردار اپنی حکومت بچانے کے لیے کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار رہتے ہیں تاکہ رجیم کی تبدیلی سے خود کو بچایا جاسکے۔

جیمز بانڈ کی فلم کوانٹم آف سولیس میں جب بین الاقوامی استعمارکا نمایندہ بولیویا میں رجیم کی تبدیلی کررہا ہوتا ہے تو وہ آنیوالے آمرکو پانی کا ایک معاہدہ دستخط کرنے کے لیے دیتا ہے۔ نیا متوقع حکمران کہتا ہے کہ ’’ یہ معاہدہ بہت مہنگا ہے اور ہمیں پانی اس سے سستا مل رہا ہے۔‘‘

اس پر وہ نمایندہ کہتا ہے کہ ’’ اگر تمھارا پیش رو اس پر دستخط کردیتا تو تمہاری کوئی ضرورت پیش نہ آتی اور اگر تم دستخط نہیں کروں گے تو تمہارے متوقع جانشین قطار بنائے نہ صرف اس معاہدے بلکہ چند اور معاہدوں پر بھی دستخط کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔‘‘

اس کے بعد وہ آمر مزید کوئی سوال کیے بغیر دستخط کر دیتا ہے۔ اس سین میں رجیم چینج کی تھوڑی نہیں بلکہ پوری کہانی ہے۔ اس کہانی کو سامنے رکھ کر امن بورڈ کے مستقبل کے ارکان کی پیش گوئی اب کوئی بھی کر سکتا ہے، اس لیے مجھے اجازت دیجیے۔

مقبول خبریں