الخوارزمی ! الجبرا اور الگورتھم کا معمار

ریاضی کے علاوہ الخوارزمی نے فلکیات اور جغرافیہ میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں


سرور منیر راؤ March 01, 2026

انسانی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو صدیوں بعد بھی علم، تحقیق اور تہذیبی ارتقا کی علامت بنے رہتے ہیں۔ انھی میں ایک درخشاں نام محمد بن موسیٰ الخوارزمی کا ہے۔

وہ عالم جس نے نہ صرف الجبراکی بنیاد رکھی بلکہ الگورتھم کے ذریعے جدید کمپیوٹر سائنس کی فکری بنیاد بھی فراہم کی۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اگر الخوارزمی نہ ہوتے تو آج کی سائنسی دنیا مختلف ہوتی۔

الخوارزمی کا تعلق نویں صدی کے اس سنہری دور سے تھا جب بغداد علم و حکمت کا عالمی مرکز تھا۔ عباسی خلافت کے دور میں قائم بیت الحکمہ میں دنیا بھر کے علمی ذخائر کا ترجمہ، تنقید اور توسیع ہو رہی تھی۔

یونانی، اور ایرانی علوم کو عربی قالب میں ڈھالا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں الخوارزمی نے محض ترجمہ نگاری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علم کو منظم، سادہ اور قابلِ اطلاق بنانے کا بیڑا اٹھایا۔

ریاضی کی دنیا میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ کتاب ’’الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے۔ یہی وہ تصنیف ہے جس نے الجبرا کو ایک باقاعدہ علم کی حیثیت دی۔ اس سے پہلے ریاضی بکھرے ہوئے قواعد اور عملی مسائل تک محدود تھی، مگر الخوارزمی نے مساوات کو حل کرنے کے منظم طریقے پیش کیے۔

’’الجبر‘‘ کا تصوریعنی منفی مقدار کو مثبت میں منتقل کرنا،اور ’’المقابلہ‘‘ یعنی ’’مساوات‘‘ کی مقدار کا تعین کرنا۔ یہ فارمولا آج بھی ریاضی کی بنیادی تدریس کا حصہ ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الخوارزمی کا الجبرا محض تجریدی نہیں تھی۔ ان کے نزدیک ریاضی ایک عملی علم تھا، جو وراثت کی تقسیم، تجارت، زمین کی پیمائش اور تعمیرات جیسے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے ضروری تھا۔ ان کے نزدیک علم برائے علم نہیں، بلکہ علم برائے زندگی۔

الخوارزمی کا دوسرا عظیم کارنامہ وہ تصور ہے جسے آج ہم Algorithm کہتے ہیں۔ دراصل ’’الگورتھم‘‘ لفظ ہی ان کے نام کے لاطینی تلفظ Algoritmi سے نکلا۔

انھوں نے ہندی عددی نظام (0 سے 9 تک) کو متعارف کروایا اور حساب کے واضح، مرحلہ وار طریقے بیان کیے۔ یہی مرحلہ وار منطق آج کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اساس ہے۔ ہر کمپیوٹر کو دیا جانے والا ہر حکم، ہر کوڈ،کسی نہ کسی صورت میں الخوارزمی کے تصورِ الگورتھم کا تسلسل ہے۔

ریاضی کے علاوہ الخوارزمی نے فلکیات اور جغرافیہ میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی کتاب ’’صورۃ الارض‘‘ میں دنیا کے نقشے، شہروں کے محلِ وقوع اور جغرافیائی حدود کو زیادہ سائنسی انداز میں پیش کیا گیا۔

انھوں نے بطلیموس کے بعض جغرافیائی تصورات کی تصحیح کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم علماء اندھی تقلید نہیں بلکہ تنقیدی فکر کے حامل تھے۔

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: ہم آج الخوارزمی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا وہ محض ایک تاریخی کردار ہیں، جن کا ذکر نصابی کتابوں تک محدود ہو چکا ہے؟ یا وہ ایک فکری روایت کی علامت ہیں، ایسی روایت جو سوال اٹھانے، مسئلہ حل کرنے اور علم کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتی ہے؟

افسوس کہ ہم نے اکثر اپنے ماضی کے علمی سرمائے کو فخر کے نعرے تک محدود کر دیا، مگر اس کے پیچھے کارفرما محنت، نظم و ضبط اور تحقیقی دیانت کو نظرانداز کر دیا۔

مغربی دنیا نے الخوارزمی کے علم کو آگے بڑھایا۔ ان کی کتب لاطینی میں ترجمہ ہوئیں، یورپی جامعات میں صدیوں تک پڑھائی گئیں، اور نشاۃِ ثانیہ کی فکری بنیاد بنیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم، جو ان کے تہذیبی وارث ہیں، اس علمی تسلسل کو کیوں برقرار نہ رکھ سکے؟ کیا وجہ ہے کہ آج ہم صارف ہیں، موجد نہیں؟

الخوارزمی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ تہذیبیں نعروں سے نہیں، علم سے زندہ رہتی ہیں۔ تحقیق، ریاضی، منطق اور سائنسی طریقِ کار. یہ سب کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں، مگر انھیں اپنانے کے لیے اجتماعی عزم درکار ہوتا ہے۔

اگر ہم واقعی الخوارزمی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں سوال کرنے، تجزیہ کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی روایت کو زندہ کریں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ الخوارزمی ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال اور مستقبل کا استعارہ ہیں۔ الجبر اور الگورتھم کی دنیا میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔

بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اس علمی روشنی سے اپنا راستہ روشن کریں، ورنہ تاریخ ہمیں صرف حوالہ بن کر رہ جانے پر مجبور کر دے گی۔

مقبول خبریں