یہ جولائی کی ایک اداس شام تھی جب خبر آئی کہ عبدالستار ایدھی نہیں رہے۔ اس وقت صرف کراچی نہیں پورا پاکستان ساکت ہوگیا تھا۔ جیسے کسی نے ایک ماں کی گود چھین لی ہو، جیسے کسی نے سایہ دار شجرکاٹ دیا ہو۔
کل 28 فروری کو عبد الستار ایدھی کی پیدائش کا دن گزرا ہے۔ ایدھی صاحب صرف ایک فرد نہیں تھے وہ ایک عہد تھے۔ ان کے اس بے لوث سفر میں بلقیس ایدھی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اورآخری سانس تک اپنے مشن کو زندہ رکھا۔
ایدھی صاحب نے کسی سرکاری فنڈ ،کسی عالمی ادارے یا کسی سلیبرٹی کا سہارا نہیں لیا۔ اپنے ہاتھوں سے لوگوں کے پیاروں کو غسل دیتے، لاوارث بچوں کو گود میں لیے ہوئے،گلیوں میں گرتے لوگوں کو سنبھالتے ہوئے، وہ ایک خاموش انقلاب برپا کرگئے۔
ان کے لیے نہ مذہب کی تفریق تھی، نہ نسل کی نہ ذات پات کی۔ ان کی جیب خالی ہوسکتی تھی مگر دل کبھی خالی نہیں ہوا۔
وہ کہتے تھے کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے، مگر ہم ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جہاں مذہب کی سیاست، تعصب کی آگ اور فرقہ واریت کی دھند میں انسانیت کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔
ایسے میں ایدھی صاحب کی روشن آنکھیں ان کا سادہ لباس ان کے جھریوں بھرے ہاتھ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ وہ سوال جو ہر ریاست سے پوچھا جانا چاہیے کہ تمہارا کام کیا ہے؟ کیا ایدھی کا کام تمہارا فرض نہیں تھا؟
ایدھی صاحب اکیلے نہیں تھے۔ ان جیسے کئی چراغ اس اندھیرے میں جلتے رہے اور آج بھی روشن ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی ان میں سے ایک ہیں۔ جنہوں نے حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کو اپنا عقیدہ بنا لیا۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) صرف ایک اسپتال نہیں بلکہ ایک امیدکی کرن ہے۔ وہاں مریض کا مذہب زبان یا ذات نہیں پوچھی جاتی صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسے کس علاج کی ضرورت ہے۔
ریاست جہاں اپنی ذمے داریوں سے منہ موڑ لیتی ہے وہاں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نظام کو انسان دوست بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر رتھ فاؤکا نام آج بھی فخر سے لیا جاتا ہے۔ ایک جرمن خاتون جنہوں نے پاکستان کو اپنا وطن بنا لیا اور جذام جیسے خوفناک مرض کے خلاف جنگ میں اپنی ساری زندگی لگا دی، وہ کسی سرکاری مہم کا حصہ نہیں تھیں نہ ہی ان کے پیچھے کوئی ریاستی منصوبہ تھا۔
وہ بس انسانوں سے محبت کرتی تھیں اور یہی جذبہ انھیں ہر روز نئی توانائی دیتا تھا۔ ان کے چہرے پرکوئی دکھاؤا نہیں تھا نہ ان کے الفاظ میں کوئی تصنع تھا وہ جس زبان میں بولتی تھیں اس سے کہیں زیادہ ان کے عمل کی زبان بلند تھی۔
ظفر عباس بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو انسانی خدمت کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ جہاں کہیں بھی مدد کی ضرورت ہو وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔
ان کے پاس بھی کوئی ریاستی طاقت نہیں، مگر ان کے پیچھے عوام کا اعتماد ہے جو سب سے بڑی طاقت ہے، وہ اعتماد جو حکومتوں کو نصیب نہیں ہوتا وہ بھروسہ جو وزیروں، مشیروں اور پالیسی سازوں سے چھن چکا ہے، وہ عام لوگوں نے ان سادہ دل انسانوں کو سونپ دیا ہے۔
سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، الخدمت، چھیپا اورکئی دیگر چھوٹے بڑے ادارے اسی سلسلے کا تسلسل ہیں۔ جہاں ریاست خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے وہاں یہ ادارے، یہ افراد عوام کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔
کوئی بھوکے کو روٹی دیتا ہے، کوئی مریض کو دوا کوئی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے توکوئی سرد راتوں میں کمبل بانٹتا ہے۔ یہ سب وہ کام ہیں، جو دنیا کے مہذب معاشروں میں حکومتوں کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ہماری حکومت کہاں ہے؟ وہ بجٹ جو ہر سال تعلیم، صحت اور فلاحِ عامہ کے لیے مختص کیا جاتا ہے وہ آخرکہاں خرچ ہوتا ہے؟ وہ اسپتال جوکاغذوں میں بنائے جاتے ہیں، ان میں ادویات کیوں نایاب ہیں؟
وہ اسکول جو ہر بستی میں دکھائے جاتے ہیں، ان میں اساتذہ کیوں غائب ہیں؟ وہ وزرائے صحت، وزرائے تعلیم، وزرائے ترقی آخرکس کی خدمت کر رہے ہیں؟ شاید صرف اشرافیہ کی۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہم ایدھی صاحب، ادیب رضوی، رتھ فاؤ، بلقیس ایدھی اور دوسرے کئی انسان دوست افراد کو سلام پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے عوام کو بھی جو ان افراد پر اپنے دل کھول کر اعتماد کرتے ہیں۔
یہی عوام اپنا نوالہ ان کے سپرد کرتے ہیں، اپنے بچوں کی عیدی ان کے ٹرسٹ کو دیتے ہیں اور بے دھڑک اپنے زخموں کا مرہم انھی لوگوں کو سمجھتے ہیں۔ یہ عوام وہ دولت ہیں جو ہمارے حکمراں بھول چکے ہیں۔
یہ لوگ نہ کسی ایوان میں بیٹھے، نہ کسی قومی اسمبلی کے رکن بنے، نہ انھیں سینیٹ کی نشست ملی مگر ان کے بغیر یہ ملک چل ہی نہیں سکتا۔
اگر کل سے ان اداروں کی خدمات بند ہو جائیں تو ریاست کی قلعی اتر جائے اور سارا نظام ریت کی دیوارکی طرح گرجائے، لیکن افسوس کہ جن کے کندھوں پر یہ بوجھ ہونا چاہیے وہ تو صرف اقتدارکے خواب دیکھ رہے ہیں۔
عبدالستار ایدھی کی برسی ہمیں صرف ایک انسان کی یاد نہیں دلاتی بلکہ ایک ایسا آئینہ دکھاتی ہے جس میں ہم اپنی ریاستی ناکامیوں کو صاف صاف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی احتساب کا دن ہے۔
ایدھی صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے فیصل ایدھی نے فاونڈیشن کی ذمے داریاں سنبھالیں اور ان کے مشن کو زندہ رکھا ہے۔ تاہم ایدھی صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات کا اثر آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت کا کوئی رنگ یا مذہب نہیں ہوتا۔ آج بھی ایدھی صاحب کی محبت اور احترام ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
مگر جب تک یہ ریاست اپنی ذمے داریوں سے غافل رہے گی، جب تک تعلیم صحت اور انسانی فلاح کو ترجیح نہیں دی جائے گی، تب تک ہمیں ایدھی صاحب، ادیب رضوی، رتھ فاؤ، بلقیس ایدھی، سیلانی اور بے شمار بے نام ہیروز کی ضرورت پڑتی رہے گی اور جب بھی کوئی حکومت عوام کے زخموں سے آنکھ چرائے گی تب تب ایک نیا مسیحا اٹھے گا،کیونکہ انسانیت مرتی نہیں، صرف چہرے بدلتی ہے۔
ایدھی صاحب کو سلام اور ان سب کو جنہوں نے انسان سے محبت کو اپنا عقیدہ بنا لیا اور سب سے بڑھ کر سلام ہے، پاکستان کے عوام کو جنہوں نے کبھی ان پر اعتماد کرنا نہیں چھوڑا۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم