گریٹر اسرائیل منصوبے پر ٹرمپ کی خاموشی خطرے کی گھنٹی

بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت ملک کے اندر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے



سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں 19 فروری کو منعقد ہونے والے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کے ایک دن بعد ہی اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے 20 فروری کو ایک انٹرویو میں یہ اظہارِ خیال کر کے تہلکہ مچادیا ہے کہ وہ اسرائیل کی سرحدوں کی مشرق وسطیٰ کے بڑے علاقے تک توسیع کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ اسرائیل کی سرحدیں بائبل میں بھی یہی دی گئی ہیں۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے اتوار کو کہا کہ پاکستان نے 13 دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے تبصرے کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر تل ابیب کے قبضے کی مخالفت نہیں کریں گے۔ مائیک ہکابی نے یہ بات جمعہ کو فاکس نیوز کے سابق میزبان ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ بائبل کی آیت میں تو عراق میں دریائے فرات اور مصر میں دریائے نیل کے درمیان کا علاقہ شامل ہے تو اس پر ہکابی جو اسرائیل کے سخت گیر حامی کرسچین قدامت پسند ہیں نے کہا یہ ٹھیک ہو گا کہ اسرائیل یہ تمام علاقے اپنے قبضے میں لے لے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت نے اس بیان پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا اوراس خاموشی کو مسلم دنیا اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اسکی مزمت کی جارہی ہے۔

اس بیان کے ردعمل میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، کویت، عمان، ترکی، سعودی عرب، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین سمیت ممالک کے وزرائے خارجہ نے او آئی سی ، لیگ آف عرب سٹیٹس، اور گلف پرووائس کونسل کے ساتھ تشویش کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ممالک کی جانب سے اس طرح کے خطرناک اور اشتعال انگیز ریمارکس کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہکابی کے ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن کے علاوہ غزہ کے تنازع کو ختم کرنے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں جو کہ کشیدگی کو روکنے اور ایک جامع تصفیہ کے لیے سیاسی افق کی تشکیل پر مبنی ہے جو فلسطینی عوام کو اپنی خود مختار ریاست کے حصول کو یقینی بناتا ہے۔ بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ ٹرمپ کا منصوبہ رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے پر مبنی تھا اور دوسروں کی زمینوں پر کنٹرول کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنے والے ریمارکس ان مقاصد کو نقصان پہنچاتے ہیں' کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں اور امن کو آگے بڑھانے کے بجائے اشتعال انگیزی پیدا کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کے بیان میں مغربی کنارے سے الحاق کرنے یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد' مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع کی سخت مخالفت اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیاگیا ہے۔ وزرا نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ غیر قانونی اقدامات صرف علاقے میں تشدد اور تنازعات کو ہوا دیں گے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائیں گے۔

پاکستان اور سات دوسرے مسلم ممالک نے منگل کو مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن سے متعلق اسرائیلی اقدام کی بھی مذمت کی تھی۔ وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ اس فیصلے کو فلسطینی اتھارٹی سمیت متعدد حلقے مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور بالآخر اس علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمل صرف ایریا سی میں ہو گا جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم ہونے والے بورڈ آف پیس کا افتتاحی اجلاس 19 فروری کو منعقد ہوا جس میں اسرائیل پاکستان اور دیگر 7 مسلم ممالک سمیت 47 ممالک کے وفود نے شرکت کی.امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس اسوقت کی سب سے اہم ڈیویلپمنٹ ہے اور دنیا میں امن کے قیام کیلئے اس کا کوئی متبادل نہیں۔ اس کابنیادی مقصد غزہ کی بحالی اور تعمیر نو ہے اور مختلف ممالک نے اسکی تعمیر نو کے لئے 7 ارب ڈالر کے عطیات کے وعدے بھی کئے ہیں۔ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے سب ملکر کام کر رہے ہیں اور غزہ امن بورڈ کے اراکین نے اسٹیبلائزیشن فورس کے قیام کیلئے اپنی پولیس اور افواج بجھوانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر آٹھ جنگیں رکوانے اور وزیراعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل کی تعریف کرتے ہوئے پاک بھارت جنگ میں طیارے گرنے کا ذکر کیا۔ انہوں کہا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور حماس کو پلان کے مطابق غیر مسلح ہونا ہوگا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا تذکرہ کسی انداز میں بھی نہیں کیا اور نہ ہی اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت جاری رکھنے کی مذمت میں کچھ کہا۔

 اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اقوام متحدہ کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے اس مسئلے کے حل کے بغیر اس خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس دنیا کے تنازعات حل کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر امن کے قیام اور پاک بھارت جنگ رکوانے پر صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سربراہان مملکت سے خوشگوار ماحول میں بات چیت بھی کی۔ ادھر ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غزہ میں امن کے قیام کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور وہ اسی لئے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ہے۔ پاکستان ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی بریفنگ میں کہا ہے غزہ کے حوالے سے ہماری ریڈ لائن واضع ہے ہم کسی ایسے حل کو قبول نہیں کریں گے جس میں غزہ میں امن کے قیام اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کو تسلیم نہ کیا جائے۔ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 فروری کو بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے تعمیرِ نو منصوبے اور اقوام متحدہ کی منظوری سے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا جس میں 47 ممالک کے وفود شریک ہوئے۔ بورڈ آف پیس کا قیام جنوری میں عمل میں آیا تھا اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی توثیق بھی حاصل ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مختلف ممالک نے رضاکارانہ طور پر مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔اس منصوبے کے تحت ایک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) بھی غزہ میں تعینات کی جائے گی جس کے لیے انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک ہزاروں فوجی فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس فورس کا مقصد جنگ کے بعد سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیل بورڈ آف پیس میں شامل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ تاہم حماس نے اس شرط کو اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔ مجوزہ پلان میں کہا گیا ہے کہ جو ارکان ہتھیار ڈال کر پر امن بقائے باہمی پر آمادہ ہوں گے انہیں عام معافی دی جا سکتی ہے، جبکہ غزہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس میں غزہ کی سول انتظامیہ سنبھالنے کے لیے قائم قومی کمیٹی کی پیش رفت، انسانی امداد اور پولیس نظام سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔

اس سے قبل جنوری 2026 میں پاکستان سمیت 20 ممالک نے ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کیلئے دستخط کئے تھے اور پاکستانی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔

18 جنوری کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر ان مقاصد کے حصول اور فلسطینی بہنوں اور بھائیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ اس کے بعد 19 جنوری کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کر کے بورڈ میں شمولیت کیلئے دستخط کردیئے۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ لیکن برطانیہ کینیڈا جرمنی فرانس آسٹریلیا سمیت امریکہ کے اہم اتحادی ابھی تک اس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کرسکے جبکہ بورڈ کے قیام پر دستخطوں کی میٹینگ میں اسرائیلی نمائندگی بھی نظر نہیں آئی تھی۔ تاہم اب اس نے بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کا اعلان کردیا ہے۔ٹرمپ نے انڈیا کو بھی شمولیت کی دعوت دی تھی لیکن اس نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے قبل پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ پاکستانی حکومت کے فیصلے پر ملک میں بڑی سطح پر تنقید بھی دیکھی گئی۔ یہاں یہ سوال یقیناً اْٹھتا ہے کہ ٹرمپ کا تشکیل کردہ بورڈ آف پیس ٹرمپ اور نیتن یاہو کی غزہ کے بارے میں سابقہ پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا مثبت کردار ادا کرسکے گا ؟

جبکہ نیتن یاہو نے بورڈ کی تشکیل کے بعد ایک بار پھر سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے اسکے علاؤہ نیتن یاہو نے امن فورس میں ترکی اور قطر کی شمولیت کی بھی مخالفت کی ہے۔اسی طرح امریکہ ایک طرف دنیا کے تنازعات حل کرنے کیلئے بورڈ آف پیس بنا رہا ہے اور دوسری طرف ایران پر حملہ آور ہونے کی دھمکیاں دے کر اپنے بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں بھجوا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ بورڈ آف پیس میں شامل مسلم ممالک ٹرمپ کو ایران کے خلاف جارحیت سے کیسے روک پاتے ہیں۔ بورڈ آف پیس کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس میں شامل مستقل اور غیرمستقل اراکین کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا؟ پاکستان کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں کیوں شامل ہوا؟امریکی دباؤ کے نتیجے میں یا یہ پاکستانی اہمیت اور کامیاب خارجہ پالیسی کا مظہر ہے ؟۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں بطور مستقل رْکن کے طور پر شامل ہو رہا ہے یا صرف تین سال کے لیے۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست تین برسوں کے لیے اس کی رْکن ہو گی اور چیئرمین بورڈ آف پیس صدر ٹرمپ چاہیں تو اس رْکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔ تین سالہ رْکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو بورڈ آف پیس کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا۔ دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک شخصیت نے بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے حوالے سے کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں۔ پوری دنیا جس طرح سے انگیج ہو رہی ہے پاکستان بھی وہ ہی کر رہا ہے۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔ چارٹر کے مطابق تمام فیصلے رْکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لیے جائیں گے تاہم اس کے لیے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی۔ پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسلام آباد کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔

ماضی میں واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سر انجام دینے والی ملیحہ لودھی اسے غیر دانشمندانہ فیصلہ سمجھتی ہیں۔

ان کے مطابق حکومت اس بات کو نظرانداز کر گئی ہے کہ ٹرمپ دیگر ریاستوں کو بورڈ میں اس لیے شامل کر رہے ہیں تاکہ اپنی یکطرفہ کارروائیوں کے لیے بین الاقوامی حمایت یا حیثیت حاصل کی جا سکے۔ وہ بورڈ آف پیس کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ بورڈ نے اپنا دائرہ کار وسیع رکھا ہے اور غزہ سے بھی آگے بڑھایا ہے۔ حکومت کیلئے بورڈ میں شمولیت کرتے ہوئے ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔

ملیحہ لودھی کا ماننا ہے کہ پاکستان ایک ایسی تنطیم کا حصہ بن رہا ہے جسے ٹرمپ اقوامِ متحدہ کا متبادل سمجھ رہے ہیں اور جو ٹرمپ کی شخصیت تک ہی رہے گا اور ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔ کچھ دیگر تجزیہ کار پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کو اچھا فیصلہ سمجھتے ہیں۔ امریکی پالیسی اور امورِ مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کامران بخاری کہتے ہیں کہ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان اس بورڈ میں ایک سٹیک ہولڈر بن گیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کو بھی وہ اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں جو ان ایک ارب ڈالر دینے والی ریاستوں کو حاصل ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ آپ کو وہ ہی ملتا ہے جس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے قبل غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی بھی بات ہو رہی تھی۔ بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن بین الاقوامی استحکام فورس بھی بورڈ آف پیس کی نگرانی میں ہی کام کرے گی اور پاکستان وہاں اپنے فوجی اہلکار بھیج سکے گا۔ یاد رہے پاکستان نے تاحال بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی نہیں بھری اور متعدد سرکاری شخصیات کہہ چکی ہیں کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے گا۔کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ بورڈ میں شامل ہونے کے بعد آپ سٹیک ہولڈر بن جاتے ہیں۔آپ کو سیاسی گفتگو میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے اور یہ مثبت بات ہے۔ امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کامران بخاری کے مطابق بورڈ آف پیس کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس معاملے پر وہ عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے جو دولت مند بھی ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔ جبکہ پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی منظوری کے بغیر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی مفاد اور مسلم برادری کی اجتماعی ترجیحات کے مدنظر رکھ کر اٹھایا گیا ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے اور مسئلہء فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی کہ اس نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شرکت کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ مکمل مشاورتی عمل کے بغیر کسی بھی رسمی شمولیت کو واپس لیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بورڈ آف پیس کی تشکیل یا اس کے عملی طریقہء کار کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور دیگر میڈیا اداروں کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس فورم سے جنگ بندی کے انتظامات، انسانی امداد اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں سہولت فراہم کرنے اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں وسیع تر سیاسی عمل کی حمایت کی توقع کی جا رہی ہے۔

 قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں پالیسیاں بیرونی دباؤ کے تحت تشکیل دی جا رہی ہیں اور پاکستان نے کبھی اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کی بنیاد پر مرتب نہیں کی۔انہوں نے حکومت پر اہم فیصلوں پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہ لینے پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ کیا ایوان سے کوئی مشاورت کی گئی تھی۔ قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو کسی صورت بھی ایسے امریکی قیادت والے بورڈ آف پیس کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں نیتن یاہو شامل ہوں۔ انہوں نے بورڈ آف پیس کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اپنی مرضی سے بورڈ آف پیس تشکیل دے رہے ہیں، خود ہی اس کی رکنیت طے کر رہے ہیں اور خود ہی اس کے چیئرمین ہیں۔ اگر ہم پھر بھی امن، معاشی استحکام اور فلسطینیوں کے بہتر مستقبل کی امیدیں ایسے بورڈ سے وابستہ کریں تو یہ خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہو گا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی حکومت کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ ایکس پر جاری بیان میں پارٹی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کرتی اور زور دیا کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی فیصلے ہمیشہ مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے ساتھ کیے جانے چاہئیں۔ فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے حکومت سے کہا کہ وہ جامع مشاورتی عمل مکمل ہونے تک اس اقدام سے دستبردار ہو جائے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بھی کہا کہ حکومت کی جلد بازی میں شرکت نہ صرف نامناسب بلکہ ناقابلِ فہم ہے۔ جبکہ وزیرِ امورِ پارلیمانی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد اور عالمی مسلم برادری کی اجتماعی ترجیحات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے اور مسئلہء فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد ان فلسطین میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے اور فلسطینی اور قومی مفادات دونوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔انہوں نے اس معاملے سے سیاسی فائدہ نہ اٹھانے کی بھی اپیل کی۔

دوسری طرف بین الااقوامی سطح پر ناقدین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اسٹیج پر بورڈ کی بنیادی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ، ''ہم دنیا میں امن قائم کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''اس بورڈ کے پاس اب تک کا سب سے اہم اور بااثر ادارہ بننے کا موقع موجود ہے۔‘‘

تاہم یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ آزاد ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی طرف سے تقریباً 60 حکومتوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، لیکن تاحال واشنگٹن کے چند ہی مغربی اتحادیوں نے عوامی طور پر اسے قبول کیا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے ' یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے اور نیٹو کے بارے میں معاندانہ رویے کے باعث سویڈن فرانس اور ناروے نے اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کردیا ہے، جبکہ اٹلی نے اس بورڈ کو مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث قرار دیا ہے۔ جرمنی برطانیہ اور جاپان نے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا۔ یوکرین نے کہا ہے کہ اس کے ڈپلومیٹس اس کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ کینیڈا نے اصولی طور پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تفصیلات آنے کے بعد حتمی فیصلہ کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس بورڈ کی تجویز گزشتہ سال ستمبر میں اس وقت پیش کی تھی جب اس کی طرف سے غزہ امن پلان پیش کیا گیا تھا اور ٹرمپ نے اس وقت یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ بورڈ غزہ کے علاؤہ دیگر تنازعات کے خاتمے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ٹرمپ ہمیشہ اقوام متحدہ پر تنقید کر کے کہتے رہے ہیں کہ یہ بورڈ یو این او کا متبادل ثابت ہو گا۔جبکہ یواین سیکیوریٹی کو نسل نے نومبر 2025 میں بورڈ کا مینڈیٹ صرف غزہ تک محدود کیا تھا تاہم اس قرار داد میں غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے عبوری انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی تھی جواس مقصد کیلئے فنڈنگ کی فراہمی کا بندوبست بھی کرے گا۔ اس کے علاؤہ بورڈ کو غزہ میں امن فورس تعینات کرنے کا مینڈیٹ بھی دیا گیا تھا۔ اس مو قع پر روس اور چین نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں یہ کہہ کر شرکت نہیں کی تھی کہ اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے کردار کو واضح نہیں کیا گیا۔اس بورڈ کیلئے وائٹ ہاؤس نے سیکریٹری آف سٹیٹ مارک روبیو 'ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف 'سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر اور ٹرمپ کے داماد جیریڈ گشنر کو بورڈ کا فاؤنڈر ممبر تعینات کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ روس اور چین نے تاحال ابھی تک اس بورڈ میں شرکت کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اب پاکستان سمیت اس بورڈ میں شامل مسلم ممالک کا یہ امتحان ہے کہ وہ کس طرح سے اس بورڈ کے ذریعے ٹرمپ سے نیتن یاہو کی مزاحمت کے باوجود فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ٹرمپ کے اس دعوے کے مطابق کہ یہ بورڈ گلوبل سطح پر کام کرے گا کشمیر' ایران 'یمن سمیت مسلم دنیا کے دیگر تنازعات کے حل کیلئے کیا مثبت اقدامات کرواسکتے ہیں۔ اس بورڈ کے قیام کا ایک ڈیزائن یقیناً ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ذہن میں ہوگا اور مثبت توقع رکھنی چاہیے کہ مسلم لیڈرز نے بھی اپنے کارڈز سنبھال کر رکھے ہوں گے۔ کیونکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے منہ زور اور شاطر کھلاڑیوں کے مقابلے میں ان کارڈز کو باہمی مشاورت سیاسی و سفارتی مہارت اپنی کمزوریوں پر قابو پاکر اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر استعمال کرنے سے ہی کچھ بڑے ٹارگٹس حاصل کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے ورنہ تو نتائج ماضی کی طرح بلکل واضح ہیں۔ میرے نزدیک پاکستان اور مسلم ممالک نے یہ ایک سیاسی جوا کھیلا ہے لہذا اس میں کامیابی کیلئے تمام اسلامی ممالک کا اپنے کارڈز کا استعمال بڑی دانشمندی' مشاورت اور اس اپروچ کے ساتھ کھیلنا ہوں گے کہ ہمیں ٹرمپ کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا بلکہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ممکنہ طور پر مسلم ورلڈ کے تنازعات حل کرانا ہیں اگر معاملہ اسکی برعکس رہا تو پاکستان سمیت بورڈ میں شامل مسلم حکمرانوں کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرپڑ سکتا ہے۔ نے کہا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

مقبول خبریں