ملک کی سیاست اور اپوزیشن

حکومت کی اہم شخصیت نے گزشتہ دنوں کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی اور نہ ہی ہوگی


[email protected]

حکومت کی اہم شخصیت نے گزشتہ دنوں کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل آفر نہیں کی اور نہ ہی ہوگی، ہم صرف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے ایشو پر دیگر وزیروں کی طرح بیانات دینے کے بجائے محتاط اور تدبرانہ رویہ اختیار کیا اور کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر صرف وزیر اطلاعات ہی بات کریں گے۔ اس سلسلے میں خبر صرف ایک طرف سے ہی جاری ہونی چاہیے۔

مصطفیٰ کمال وفاقی وزیر صحت ہیں اور بانی کی آنکھ کے علاج کے سلسلے میں بیان دے سکتے ہیں مگر انھوں نے دیگر وزیروں کی طرح بلاوجہ کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ایک اور وفاقی وزیر نے بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہو رہی، پی ٹی آئی والے اس طرح کی باتیں کرکے اپنے لوگوں کو آسرا دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شخصیتوں کو چھوڑیں یہ دیکھ لیں کہ کن لوگوں کو ملک عزیز ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بیانات سب کچھ واضح کرتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے تو انتہائی رویہ اختیار کر رکھا ہے ، ان کی پارٹی بھی ان سے متفق نہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ بانی کی رہائی کے لیے زندگی ہے یا موت اور اب انھوں نے بانی کی رہائی کے لیے ایک فورس بنانے کا کہا ہے جس پر پارٹی رہنماؤں نے بھی کہا ہے کہ بانی کے لیے فورس نہیں رضاکار ہونے چاہئیں۔

بانی پی ٹی آئی کی اپریل 2023 میں آئینی برطرفی کے بعد پی ڈی ایم حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو مکمل فری ہینڈ دیا جس کے نتیجے میں انھوں نے جلسوں کے ریکارڈ قائم کرکے پی ڈی ایم حکومت کو پاکستانی عوام کے سامنے سرخرو ہونے کا موقعہ ہی نہیں دیا ۔ تحریک عدم اعتماد میں بانی پی ٹی آئی نے اپنے ڈپٹی اسپیکر سے تحریک مسترد اور صدر مملکت سے قومی اسمبلی تڑوائی تھی اور یہ دونوں اقدام سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے کر نئی حکومت کو غیر آئینی اقدام کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا تھا۔ اس وقت صدر مملکت کو تو آئینی استثنا حاصل تھا مگر سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف فوری کارروائی ہو سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوسکا۔

پی ڈی ایم حکومت کنفیوژ تھی یا کمزور تھی، جس نے قاسم سوری، ڈاکٹر شہباز گل، بیرسٹر شہزاد اکبر اور دیگر کو ملک سے باہر جانے کا موقعہ دیا تھا، یہ سب لوگ پہلے پی ڈی ایم، نگراں حکومتوں اور اب موجودہ حکومت کے خلاف بھی بھرپور پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ حکومت کی کچھ پابندیوں کو اس وقت کی عدلیہ نے مسترد کر دیا تھا اور صدارت سے ہٹنے کے بعد بھی انھوں نے حکومت کے خلاف ملک اور بیرون ملک جارحانہ رویہ اپنایا مگر حکومت نے ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ پی ڈی ایم کی حکومت اور عبوری حکومت کو لاہور میں بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کی بھی جرأت نہیں تھی۔ زمان پارک سے پولیس پر پٹرول بم برستے رہے اور حکومت ہر جگہ بانی کے آگے بے بس رہی۔ بانی نے 9 مئی کو حکومت کو کمزور سمجھ کر خود ہی بم پر لات ماری ۔ عسکری مقامات پر حملہ نہ ہوتا تو سیاسی حکومت نے کچھ نہیں کرنا تھا اور خاموش ہی رہنا تھا۔9 مئی سیاسی حکومت کے لیے نعمت ثابت ہوا، ورنہ بانی نے باہر رہ کر (ن) لیگی حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دینا تھا۔

صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ جیل دو سال بعد بتاتی ہے کہ جیل کیا ہوتی ہے مگر حکومتی نوازشات کے باعث بانی کو ڈھائی سال میں بھی جیل نے نہیں پوچھا بلکہ حکومتی حماقتوں نے ہی بانی کی مظلومیت بڑھائی ہے وہ تو پرتعیش قید کاٹ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما آزاد رہ کر منفی سیاست بھی کر رہے ہیں اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ کیا کسی اور قیدی کو بھی جیل میں بانی جیسی سہولیات حاصل ہیں۔

مقبول خبریں