2025 ختم ہوچکا اور ہم 2026 میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب اسلامی فنانس کا دائرہ مذہبی ہم آہنگی تک محدود نہیں رہا بلکہ جدت اور شمولیت کا اسٹرٹیجک پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔
عالمی سطح پر اسلامی مالیاتی خدمات کی صنعت (IFSI) میں 2024 کے بعد تیز رفتار ترقی ہوئی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ شریعہ کمپلائنٹ فنانس کئی علاقوں میں محدود دائرے سے مرکزی دھارے میں داخل ہوچکی ہے۔
یہ وسعت اور رفتار پاکستان کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ مستقبل کے ایسے بینکاری نظام کو تشکیل دے جو ڈیزائن میں اخلاقی، ڈلیوری میں ڈیجیٹل اور سماجی اثرات میں وسیع ہو۔
اس لمحے کو فیصلہ کن بنانے والے اہم رحجانات بنیادی طور پر ادارہ جاتی ترقی ہیں، جو نہ صرف ریاستوں بلکہ کارپوریشنز اور عام صارفین کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال فیصل بینک کی ہے جس نے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں تیز رفتار تبدیلی کی بنیاد پر ترقی کی ہے۔ اور چند برسوں کے اندر اپنے ملک گیر نیٹ ورک کو 200 سے زائد شاخوں سے بڑھا کر 900 شاخوں تک پہنچا دیا۔
ٹیکنالوجی میں تبدیلی، خاص طور پر ڈیجیٹلائزیشن اور فِن ٹیک بھی اسی قدر اہم ہے۔ ٹیکنالوجی اس بات کو بدل رہی ہے کہ صارفین مالی خدمات کے ساتھ کیسے تعلق رکھتے ہیں اور بینک کس طرح مصنوعات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اسلامی بینک ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف مصنوعات کے ڈیزائن بلکہ نظام میں بھی تبدیلی لارہے ہیں۔ اب پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ آنے والا باب انہی اداروں کے ذریعے لکھا جائے گا جو شریعت کے اصولوں کے ساتھ جدید ڈیجیٹل صلاحیتوں کو یکجا کریں۔
پاکستان کی داخلی صورتحال عالمی رحجان کی تصدیق کرتی ہے۔ اسلامی بینکاری کا ملک کے بینکنگ نظام میں حصہ بڑھ رہا ہے۔ 2025 کے وسط تک اسلامی اثاثے بینکنگ سیکٹر کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ تھے، جبکہ ڈپازٹس کا حصہ اس سے بھی زیادہ تھا، جو شریعہ کمپلائنٹ چینلز کے ذریعے مستحکم ریٹیل قبولیت اور لیکویڈیٹی کی تشکیل کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ نہ صرف مارکیٹ کا رجحان بلکہ پالیسی کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ پاکستان نے حالیہ مالیاتی سال کی مینجمنٹ اور شعبہ جاتی فنانسنگ میں اسلامی فنانس اسٹرکچر کااستعمال کیا، جس سے اس شعبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
2026 کےلیے اس کی اہمیت تین وجوہات پر مبنی ہے۔ پہلی وجہ: اخلاقی بینکاری۔ اسلامی فنانس کا بنیادی زور رسک شیئرنگ، اثاثہ کی بنیاد پر قرض اور حد سے زیادہ قیاس آرائی پر پابندی پر ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر مالیات پر دوبارہ غور و فکر کے رجحان کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، خاص طور پر گزشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے مالیاتی جھٹکوں کے بعد۔ یہ اخلاقی فریم ورک زیادہ مستحکم کریڈٹ اسٹرکچر کو فروغ دیتا ہے اور مالیاتی کمزوریوں کو کم کرکے قرض دینے کے عمل میں طویل المدتی جوابدہی کو یقینی بناتا ہے۔
دوسری وجہ شمولیت: سکوک، مائیکرو فنانس ماڈلز جو شریعت کے اصولوں کے مطابق ڈیزائن کیے گئے مائیکرو فنانس ماڈلز اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSME) کی مالی معاونت ڈیجیٹل تقسیم کے ذریعے کم مراعات یافتہ طبقات، خاص طور پر خواتین اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے رسمی مالی خدمات تک رسائی کو تیز کرسکتی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انہیں ڈیجیٹل تقسیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے۔
تیسری وجہ مسابقت: وہ اسلامی بینک جو ڈیجیٹل تقسیم، ڈیٹا اینالیٹکس اور API کے ذریعے پروڈکٹ شراکت داری میں مہارت حاصل کریں گے، وہ آنے والی نسل کے صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ سمت واضح ہے: اصولوں کے بغیر ترقی علامتی ہے اور ٹیکنالوجی کے بغیر اخلاقیات کمزور ہے۔ کامیابی کے لیے دونوں کا امتزاج لازم ہے۔
صارفین کی توقعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ نوجوان، شہری اور ڈیجیٹل تعلیم یافتہ طبقے ایسی بینکاری چاہتے ہیں جو نہ صرف تیز ہو بلکہ شفاف اور ان کے اقدار کے مطابق ہو۔ وہ اداروں کو صرف مذہبی پس منظر کی بنیاد پر نہیں صارف کے تجربے کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔
بین الاقوامی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل بینکاری کی ترقی کے تناظر میں صارفین موبائل تجربہ، بغیر رکاوٹ آن بورڈنگ اور مربوط مالیاتی خدمات کو بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں اور وہ ان اداروں کی جانب منتقل ہوتے ہیں جہاں کی خدمات ان کے اخلاقی یا مذہبی ترجیحات کے مطابق ہوتے ہیں۔ پاکستانی اسلامی بینکوں کے لیے اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ وہ بنیادی بینکاری نظام کو جدید بنائیں، مصنوعات کے ڈیزائن کو شریعت کے مطابق ماڈیولر کریں اور ڈیٹا پر مبنی صارفین کے سفر میں سرمایہ کاری کریں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے بینک بغیر تشہیر کے کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اگر ہم فیصل بینک کو دیکھیں کہ اس کی مکمل اسلامی بینک میں تبدیلی واضح کرتی ہے کہ کس طرح پرانے ادارے بدلتی ہوئی مارکیٹ ضروریات کے مطابق اپنی پوزیشن تبدیل کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ڈیجیٹل اور برانچ نیٹ ورکس میں سرمایہ کاری کرکے کو رسائی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
ایف بی ایل نے مالیاتی شمولیت، کمیونٹی کی ترقی، ڈیجیٹل رسائی اور تنوع و شمولیت میں مسلسل سی ایس آر سرمایہ کاری کے ذریعے صارفین پر مبنی اسلامی بینکاری ماڈل کو نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے اور لاکھوں خدمات سے محروم پاکستانیوں تک اخلاقی فنانس پہنچائی ہے۔ ایسی تبدیلیاں محض ری برانڈنگ نہیں، اس کے لیے گورننس، مصنوعات کی نئی تشکیل اور ٹیکنالوجی کے نئے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب اُسے قابل اعتبار طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ صارفین کے انتخاب کو بڑھاتا ہے اور صنعت میں مسابقت کو فروغ دیتا ہے۔
بغیر رکاوٹ آگے بڑھنے کے لیے پالیسی اور نجی شعبے کے اقدامات کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ ریگولیٹرز کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل بنیادوں کے لیے فریم ورک تیار کرے۔ جیسے کہ ”اپنے صارف کو جانیں“ (KYC) سے لے کر حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن ہو، یا اسلامی فِن ٹیک کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز ہوں۔ بینک اور نگرانی کرنے والے اداروں کے درمیان مکالمہ میں بھی شریعت کی تشریحات کو معیاری بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے تاکہ مصنوعات میں اختلافات کو کم کیا جاسکے اور مارکیٹ کے ایسے ذرائع کھولے جائیں جو نجی سرمایہ کو انفرااسٹرکچر اور ماحولیاتی ایڈاپٹیشن پر لگائیں۔
پاکستان کی حالیہ مثالیں، جن میں اسلامی مالیاتی سہولتوں کے ذریعے شعبہ جاتی قرضوں کو مستحکم کیا گیا، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ریاستی سطح پر شریعہ کمپلائنٹ مصنوعات کی طلب مارکیٹ کی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔ تاہم پائیدار اور دیرپا ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ثانوی مالیاتی مارکیٹیں مستحکم ہوں اور سرمایہ کار کے لیے تیار شدہ مالیاتی مصنوعات موجود ہوں۔
بینکنگ قیادت اور پالیسی سازوں کے لیے 2026 کی آپریشنل ترجیحات واضح اور قابل عمل ہیں: صارف خدمات کو سادہ بنایا جائے۔ موبائل فرسٹ حل تیزی سے متعارف کرائے جائیں، جن میں شریعت کے اصول شفاف طریقے سے شامل ہوں۔ ایسے ماڈیولر پروڈکٹ فیکٹریز قائم کی جائیں جو شریعہ کمپلائنٹ مصنوعات کی تیز رفتار تشکیل کو ممکن بنائیں اور فِن ٹیک اداروں کے ساتھ کھلے دل سے شراکت داری کی جائے تاکہ آخری صارف تک رسائی ممکن ہوسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ کی تیاری بھی اہم ہے۔ ایسی ٹیمیں تشکیل دینا ضروری ہے جو اسلامی فقہ اور کلاؤڈ نیٹو پروڈکٹ انجینئرنگ دونوں میں مہارت رکھتی ہوں تاکہ شریعت کی پابندی اور جدت ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
اگر پاکستان کے اسلامی بینکاری شعبے کو مستقبل کی تیاری کرنی ہے تو اُسے اُن وعدوں پر ثابت قدم رہنا ہوگا جو اسے منفرد بناتے ہیں۔ یعنی اپنی اخلاقی بنیادوں کا تحفظ، جدید ٹیکنالوجی میں بھرپور سرمایہ کاری اور ایسے نظام کی تشکیل جو جدید صارفین کی بدلتی ہوئی توقعات پر پورا اتریں۔ مزید یہ کہ ریگولیٹر کے ساتھ مل کر ایسا مارکیٹ انفرااسٹرکچر قائم کرنا بھی ناگزیر ہے جو لیکویڈیٹی کو وسعت دے اور ارتکازی خطرات کو کم کرے۔ جب یہ وعدے عملی منصوبہ بندی اور موثر عمل درآمد میں تبدیل ہوں گے تو اسلامی فنانس صرف ایک نظریاتی متبادل نہیں رہے گی بلکہ ایک فعال، موثر اور مضبوط مالی نظام بن کر ابھرے گا،جو سماجی اقدار سے ہم آہنگ رہتے ہوئے پائیدار اور ہمہ گیر معاشی ترقی کو تقویت دے سکے گا۔
2026 میں قدم رکھتے ہوئے اسلامی بینکاری اب کسی متوازی نظام کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ تیزی سے قومی مالیاتی ڈھانچے کا ممکنہ مرکزی ستون بنتی جا رہی ہے۔ وہ ادارے جو اخلاقی فنانس اور ڈیجیٹل مہارت کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، وہ صرف مارکیٹ شیئر حاصل نہیں کریں گے بلکہ اس بات کی سمت بھی متعین کریں گے کہ مالی نظام معاشرے کی خدمت کس انداز میں کرتا ہے۔
فیصل بینک آف پاکستان اور انڈونیشیا کے Bank Aceh کی مکمل اسلامی بینک میں منتقلی اس سفر کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ کیس اسٹڈیز اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ سوچ سمجھ کر کی گئی تبدیلی، موثر گورننس اور صارف مرکز ڈیجیٹل فراہمی ہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو اسلامی فنانس کے اگلے باب کو تحریر کرنے کے لیے درکار ہوں گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔