امریکی فوج نے ایران پر حملوں کیلیے کون سی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی ؟

قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنی فوج کو جنگ میں اے آئی کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی


ویب ڈیسک March 02, 2026
امریکی فوج نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ایران پر حملے کیے

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 550 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جن میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اعلیٰ دفاعی افسران و کمانڈرز شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس نہایت درستگی کے ساتھ کیے گئے حملے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاؤڈ کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹس کے مطابق اس اے آئی ٹیکنالوجی کو انٹیلی جنس تجزیے، ممکنہ اہداف کی شناخت اور جنگی منظرناموں کی مشق (وار گیمز) کے لیے استعمال کیا گیا۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دشمن کے ٹھکانوں اور فوجی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود بعض فوجی یونٹس نے ایران کے خلاف کارروائی میں اس اے آئی سسٹم کا استعمال جاری رکھا۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اے آئی کے استعمال پر پابندی اس لیے لگائی کیوں کہ کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔

امریکی حکام نے کمپنی کے فیصلے کو قومی سلامتی کے تناظر میں مسئلہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر دفاعی اداروں کو ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی نہ ہو تو یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب اینتھروپک نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر پابندی غیر قانونی ہو گی اور اس سے تحقیق و ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی ٹول کلاؤڈ کو اس سے پہلے بھی کئی حساس آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے جن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق آپریشنز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

 

مقبول خبریں