امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم سیاسی اور ملٹری شخصیات کو ہلاک کردیا ہے اور ایرانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب ہتھیار ڈال دیں۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے فرمانروا سے ٹیلی فون پر اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ جب کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تہران سے لے کر تل ابیب اور یروشلم تک فضا میں کشیدگی کی گھٹن محسوس کی جا سکتی ہے۔ حالیہ میزائل حملوں، جوابی کارروائیوں، دھماکوں، سائرنوں اور فضائی دفاعی نظام کی گھن گرج نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کے نئے سلسلے اور اسرائیل کی طرف سے تہران اور دیگر شہروں میں بمباری نے نہ صرف دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم میں دھکیل دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس بحران کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ زخمیوں کی اطلاعات، تباہ شدہ املاک، جلتی ہوئی گاڑیاں اور خوفزدہ شہری اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جنگ کا پہلا اور سب سے بڑا نشانہ ہمیشہ عام انسان بنتا ہے۔
اس بحران کا ایک نہایت اہم اور ہولناک پہلو ایران کی اعلیٰ ترین قیادت میں اچانک تبدیلی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق نے ایران کے سیاسی و مذہبی نظام کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی ریاستی ڈھانچے کی علامت سمجھے جانے والے رہنما کی غیر موجودگی نے داخلی استحکام کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ عبوری قیادت کونسل کا قیام، جس میں اعلیٰ ریاستی شخصیات شامل ہیں، تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش ہے، مگر ایسے وقت میں قیادت کی منتقلی جب بیرونی محاذ پر شدید جنگی دباؤ ہو، داخلی یکجہتی کو چیلنج کر سکتی ہے۔ ایران کے سرکاری بیانات میں جس شدت اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ واضح کرتا ہے کہ تہران اس صورتحال کو وجودی چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے، خلیج فارس میں آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات اور امریکی بحری بیڑے کے خلاف کارروائی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اگر یہ آبی گزرگاہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے تو توانائی کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں، مہنگائی کی شرح اور عالمی مالیاتی استحکام پر پڑے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ملک بھر میں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام، خصوصاً میزائل شکن ٹیکنالوجی، اپنی جگہ مؤثر سہی، مگر مسلسل حملوں کی صورت میں اس کی صلاحیت بھی آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ مغربی یروشلم اور دیگر علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد شہریوں کا بینکروں میں منتقل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خوف روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جدید ریاست کے شہریوں کو بھی جب بار بار پناہ گاہوں میں جانا پڑے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کی آگ سرحدوں سے آگے نکل چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید اشتعال انگیز بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے دعوے، مزید طاقتور جواب کی دھمکیاں اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ سفارتی راستوں کو محدود کر رہا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات نے براہِ راست تصادم کو بڑھا دیا ہے، اگر امریکی فوجی تنصیبات یا مفادات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے تو امریکا کی جانب سے وسیع پیمانے کی عسکری کارروائی بعید از قیاس نہیں ہوگی۔
ایسے میں خطہ ایک بڑی طاقت کی براہِ راست مداخلت کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید اس امر کا اظہار ہے کہ اس وقت تہران داخلی اتحاد اور بیرونی مزاحمت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بحران کے ایسے لمحات میں اکثر ریاستیں مذاکرات کو کمزوری سمجھتی ہیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طویل جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرحلے پر کوئی ایسا ثالث موجود ہے جو دونوں فریقوں کو تحمل اور تدبر کی طرف مائل کر سکے؟
علاقائی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ اردن کی جانب سے احتجاج اور سفارتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمسایہ ریاستیں اس کشیدگی کو اپنے لیے براہِ راست خطرہ سمجھ رہی ہیں۔ بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات نے خلیجی سلامتی کے پورے نظام کو لرزا کر رکھ دیا ہے، یہ تنازع خلیجی ریاستوں تک پھیلنے کی صورت میں عالمی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ آزمائش ہے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس اور ایرانی سرزمین سے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد صورتحال کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے۔ پاکستان تاریخی، مذہبی اور سفارتی حوالوں سے ایران کے قریب رہا ہے، جب کہ خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔
ایسے میں متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ پاکستان کسی بلاواسطہ یا بالواسطہ تصادم کا حصہ نہ بنے۔ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اور خطے کے امن کے لیے بھی۔اس بحران کا ایک اور پہلو اطلاعاتی جنگ ہے۔ دونوں اطراف سے ہلاکتوں اور نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتی بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ عوامی رائے کو ہموارکرنا، قومی جذبات کو ابھارنا اور عالمی برادری کی ہمدردی حاصل کرنا ہر فریق کی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ذمے دار صحافت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے تاکہ افواہوں اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جا سکے۔
اگر موجودہ جنگ مزید پھیل جاتی اور مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ خطے کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔ معاشی اثرات بھی کم سنگین نہیں ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہونا دنیا بھر کی معیشتوں پر اثر انداز ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انسانی امداد، مہاجرین کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ایک نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قیادت کے بیانات اور عوامی جذبات کے درمیان ایک نازک توازن ہوتا ہے۔ انتقامی بیانات وقتی طور پر قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں، مگر طویل المدت امن کے لیے حکمت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ جنگ کا آغاز اکثر جذبات کے زیرِ اثر ہوتا ہے مگر اس کا اختتام عقل و دانش سے ہی ممکن ہوتا ہے، اگر عالمی طاقتیں، علاقائی ریاستیں اور بین الاقوامی ادارے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کریں تو یہ بحران ایک وسیع تر تباہی میں بدل سکتا ہے۔
آج دنیا کو اس سوال کا سامنا ہے کہ کیا طاقت کے بل بوتے پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا پائیدار امن کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے؟ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، بغاوتوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار رہا ہے۔ ایک نئی اور ہمہ گیر جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری جنگ بندی، ثالثی اور مذاکرات کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انسانی جانوں کا تحفظ، عالمی معیشت کا استحکام اور بین الاقوامی قانون کا احترام اسی میں مضمر ہے کہ جنگ کی آگ کو مزید بھڑکنے سے روکا جائے۔اگر اس نازک لمحے پر تدبر کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔ طاقت کا استعمال آسان ہے، مگر امن کی تعمیر صبر، حکمت اور باہمی احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا ہے اور انسانیت کو ایک اور بڑے المیے سے بچا سکتا ہے۔