اسرائیلی فوج نے تہران میں واقع ایرانی صدر کے کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ کردیا ہے جہاں مرکزی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کیے جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے عمارتیں موجود ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے وزیر دفاع بھی اپنی تعیناتی کے محض 24 گھنٹوں بعد ایک حملے میں مارے گئے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر رپورٹ کیا تاہم اس حوالے سے نہ تو اسرائیل اور نہ ہی ایران نے تصدیق یا تردید کی ہے۔
تاحال کسی مستند خبر رساں ادارے نے بھی ان کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے صدر نے پیر کے روز ماجد ابن الرضا، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ایک جنرل ہیں کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔
انہیں اس وقت تعینات کیا گیا جب ان کے پیشرو اسرائیل امریکا کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
ایران پر ان لگاتار حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فریقین نے تشدد میں اضافے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
تاحال اسرائیل کے صدارتی دفتر پر حملے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ میں شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد ایران میں حکومتی امور ایک کونسل کے ذمے ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک کام کرتی رہے گی۔