ایران میں آیت اللہ کے جانشین کے طور پر سب سے مقبول و معروف شخصیت ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آگیا۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انھیں ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایران کے آئینی طریقہ کار کے تحت رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہوتا ہے اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر ہونا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔