اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خطے کی صورت حال پر بریفنگ کے لیے طلب کیے گئے پارٹی سربراہان کے اجلاس میں شرکت بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا کہ جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ جب تک بانی چئیرمین سے ان کے ذاتی معالج کی ملاقات نہیں کراوئی جاتی، حکومت کی طرف سے بلائے گئے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق ملکی و بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی غور اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے جہاں 160 سے زائد طالبات کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی اور ملک گیر احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ اور ریاستی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی سلامتی اجلاس میں شرکت بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے مشروط اور بانی چیئرمین کو ذاتی معالجین تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا اور 2 اکتوبر 2025 سے فیملی ملاقات بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بریفنگ بلائی ہے لیکن ہمارا مؤقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کو دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے اور کل تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کردیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ بہتر ہوگا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دیں اور خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔