کراچی:
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت سیل کیے جانے کے تنازع پر مختلف درخواستوں کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے نے مقدمے کو انکوائری میں تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل انور منصور خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کو اس معاملے میں اختیار ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دائرہ اختیار ہی نہیں تو انکوائری بھی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ ایف آئی اے کا آپشن تسلیم نہیں کرتے تو مقدمہ برقرار رہے گا۔
ٹریڈرز کے وکیل نے استدعا کی کہ دائرہ اختیار کا فیصلہ ہونے تک کاٹن ایکسچینج کو ڈی سیل کیا جائے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ تحقیقاتی ادارہ ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ صوبائی قانون کی موجودگی میں ایف آئی اے کا دائرہ اختیار ہے؟ آپ کا کام کسی جرم ہونے کی صورت میں ہے، انتظامی یا ملکیتی تنازع آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
متروکہ املاک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت متروکہ وقف املاک نے سیل کی ہے اور ایف آئی اے نے صرف معاونت فراہم کی ہے۔ کے ایم سی کے وکیل بیرسٹر حیدر وحید نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کاٹن ایکسچینج کی عمارت متروکہ املاک ہے تب بھی یہ صوبائی معاملہ ہے اور سندھ میں متروکہ املاک کا صوبائی قانون موجود ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے استفسار کیا کہ 1963 سے آج تک کیا شواہد جمع کیے گئے ہیں؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ 1936 میں جگہ خریدی گئی اور 2025 میں نوٹس جاری کرکے عمارت سیل کردی گئی، جبکہ ٹریڈرز کو سماعت کا موقع تک نہیں دیا گیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے مزید کہا کہ جب سندھ کا قانون موجود ہے تو وفاقی ادارے نے کیسے نوٹس جاری کیا؟ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔