کوئٹہ:
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مزید مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا 21 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران، کمانڈر کوئٹہ کور اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی اور اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
شرکاء نے مؤثر دفاعی حکمت عملی اور بروقت جوابی کارروائیوں پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا، محکمہ داخلہ کی جانب سے امن و امان کی مجموعی صورتحال اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق بلوچستان سے 7 لاکھ 21 ہزار افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر بلوچستان کے راستے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔ غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مستند اطلاع دینے والوں کے لیے 50 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے اور پوست کی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ 330 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔
ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 9 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انہیں برطرف کرنے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔اپیکس کمیٹی نے دہشت گردی میں ملوث عناصر کے اہل خانہ کی جانب سے اظہار لاتعلقی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
ایف آئی اے کی بلوچستان میں حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔24 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ 16 کو سزائیں دلوائی گئیں۔ ایف آئی اے کی کارکردگی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔
تعلیمی شعبے میں پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 2 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا ہے۔ صوبے کی 12 جامعات میں سے 10 میں بائیو میٹرک حاضری نظام نصب کر دیا گیا ہے۔
اپیکس کمیٹی نے آئندہ مرحلے میں کالجز اور اسکولوں میں بھی یہ نظام یقینی بنانے کی ہدایت کی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹرنس کے مؤثر نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مزید مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا،تعلیم اور میرٹ کے ذریعے نئی منزلیں حاصل کرے گا۔
رواں سال 5 مزدوروں کے بچوں کا پاکستان ایئر فورس میں منتخب ہونا صوبے کے لیے قابل فخر اعزاز ہے،انہوں نے مزید کہا کہ 28 ہزار بلوچ نوجوان پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو بلوچستان کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے۔ امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور کسی کو صوبے کا امن سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا، بلوچستان میں ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں شرکاء نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی اقدامات پر اتفاق کیا اور فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔