گل پلازہ میں لوگ ڈیڑھ دن تک زندہ رہے مدد کی آوازیں لگائیں مگر ہمیں اندر جانے نہیں دیا گیا، چھیپا ڈرائیورز

26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، جوڈیشل کمیشن میں بیانات ریکارڈ


کورٹ رپورٹر March 05, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا کے رضا کاروں نے بیانات قلم بند کرادیے، ایک ڈرائیور نے انکشاف کیا ہے ایک سے ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگارہے تھے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا ویلفیئر کے رضاکار سندھ ہائی کورٹ میں بیان قلم بند کروانے پہنچے۔

چھیپا رضاکار رئیس نے کہا کہ میں تقریباً پونے 11 بجے وہاں پہنچا تو آگ لگی ہوئی تھی، اس وقت پرائیویٹ لوگ بھی وہاں موجود تھے اور ہمارے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، اس وقت افراتفری کا ماحول تھا، میں ایم اے جناح روڈ سے گیا تھا مشکل ہوئی تھی لیکن میں پہنچ گیا تھا، پوری رات اس جگہ پر ہی موجود رہے تھے، جس بندے کو میں ایمبولینس میں لے کر گیا اس کی ہلاکت دھویں کی وجہ سے ہوئی، جب پہلے موقع پر پہنچا تو آگ کی شدت اتنی نہیں تھی جب دوبارہ گیا تو آگ کی شدت کافی زیادہ تھی۔

چھیپا رضاکار تنویر نے کہا کہ میں دوسرے دن گل پلازہ گیا تھا، میں نے ایک باڈی شفٹ کی تھی تھرڈ فلور سے جسے سول لے کر گیا تھا، لاش قابل شناخت نہیں تھی، مجھے علم نہیں اس کی ہلاکت کیسے ہوئی؟ کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی جسے کاٹا اور اس میں سے لاش کو نکالا، سیکنڈ تھرڈ فلور پر کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی، صبح کے وقت بھی تینوں فلورز پر آگ لگی ہوئی تھی۔ 

چھیپا رضاکار نثار محمد نے کہا کہ دوسرے دن صبح گیارہ بجے وہاں پہنچا تھا، دوسرے دن بھی تمام ادارے وہاں موجود تھے، جب آگ بجھ گئی تو اس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

چھیپا ڈرائیور رئیس نے کہا کہ جب میں گل پلازہ پہنچا تو آگ کی شدت زیادہ نہیں تھی، سب سے پہلے ایک شخص کو نکالا توبے ہوش تھا، فائر بریگیڈ اور فائر ٹینڈر موجود تھے، کتنے تھے یہ نہیں پتا، جب اسپتال سے واپس آیا تو آگ شدت اختیار کرچکی تھی، رش بڑھ چکا تھا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔

چھیپا ایمبولینس ڈرائیور اظہر نے بیان میں کہا کہ رضا کار ہمیں ڈیڈ باڈیز نکال نکال کر دے رہے تھے اور ہم اسپتال منتقل کررہے تھے۔ کمیشن نے ان سے پوچھا کہ جب آپ پہنچے تو کیا دروازے کھلے ہوئے تھے؟ اس پر ڈرائیور نے کہا کہ ہمارے آنے سے پہلے بہت سا کام ہوچکا تھا۔

چھیپا ڈرائیور ایاز نے انکشاف کیا کہ ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے چلا رہے تھے بچاؤ بچاؤ مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، میں نیا نیا بھرتی ہوا ہوں سب سے پہلے ہماری گاڑی پہنچی تھی، مرکز سے ہمیں دس بج کر پانچ منٹ کال آئی تھی کہ آگ لگی ہے اور میں 15 منٹ میں گل پلازہ پہنچ گیا تھا، ریمپ سے گاڑی اوپر لے گیا تھا دو گاڑیاں پہلے سے اوپر تھیں تیسری گاڑی میری تھی، اس وقت چاروں طرف آگ پھیل چکی تھی، فائر بریگیڈ ایک ہی پہنچی تھی اس کا بھی پانی ختم ہوگیا تھا اور دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی تھی۔

ڈرائیور ایاز نے کہا کہ دھواں بہت تھا لوگ تیزی سے باہر نکل رہے تھے، ریسکیو والے ہمیں دھکے دے رہے تھے کہ ہٹ جاؤ تم بھی جل جاؤ گے، آنکھوں میں دھواں بھر جاتا تھا، کسی ریسکیو والوں نے کوئی ماسک نہیں دیا، رمپا پلازہ سے لوگوں کا آنا جانا ہورہا تھا 
ایک گھنٹے بعد آگ کی شدت میں اضافہ ہوگیا، کھڑکیاں تو اب بھی لگی ہوئی تھیں ہمیں کھڑکیاں نہیں توڑنے دے رہے تھے، ریسکیو والوں نے کہا یہ ہمارا کام ہے۔

چھیپا ڈرائیور نے مزید کہا کہ فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی تھی جس میں آٹھ سے دس افراد تھے، دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی جب تک آگ پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، لوگ کھڑکیوں میں پھنسے ہوئے تھے ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ رہے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، میں جب پہنچا صرف پہلی منزل پر آگ لگی ہوئی تھی اور فائر بریگیڈ آگ بھجارہی تھی، اسنارکل بارہ بجے کے بعد آیا تھا۔

مقبول خبریں