سائبر سیکیورٹی کمپنی نے ملک میں گزشتہ برس (2025) کے دوران اینڈرائیڈ فونز کے ذریعے بینکاری پر سائبر حملوں میں 56 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر بینکاری معلومات چوری کرنے والے میلویئر حملوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 56 فیصد اضافہ ہوا، یہ خطرناک سافٹ ویئر آن لائن بینکاری، الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات اور کریڈٹ کارڈ نظام سے صارفین کی خفیہ معلومات چوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائبر مجرم عموماً ایسے میلویئر کو پیغام رسانی کی ایپس اور نقصان دہ ویب صفحات کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔
کیسپرسکی کی رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ کے لیے اس میلویئر کی نئی تنصیب فائلوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھی اور دو لاکھ 55 ہزار 90 تک پہنچ گئی ہے جو 2024 کے مقابلے میں 271 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ سائبر مجرموں کے لیے بہت زیادہ مالی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔
کیسپرسکی میں میلویئر تجزیہ کار ٹیم کے سربراہ اینٹون حیفا کے مطابق اسمارٹ فونز کے لیے بینکاری معلومات چوری کرنے والا میلویئر تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور تشویش ناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، پہلے سے نصب خفیہ رسائی کے پروگرام جیسے ٹریاڈا اور کینادو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض اوقات لوگ نیا اینڈرائیڈ فون خریدتے ہیں لیکن وہ پہلے ہی میلویئر سے متاثر ہوتا ہے اور صارف کو اس کا علم نہیں ہوتا جب ایسے پروگرام ڈیوائس کے بنیادی نظام میں شامل ہو جائیں تو حملہ آور متاثرہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، جس سے فون میں موجود تمام معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے میلویئر کو ختم کرنا بھی کافی مشکل ہوتا ہے۔
کیسپرسکی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ایپس صرف سرکاری ایپ اسٹورز جیسے ایپل سٹور اور گوگل پلے سے ہی حاصل کریں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری اسٹورز سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا بھی ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔
مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قابل اعتماد سیکیورٹی سافٹ ویئر جیسے کیسپرسکی پریمئیم استعمال کریں، ایپس کو دی جانے والی اجازت کا بغور جائزہ لیں اور اپنے موبائل نظام اور اہم ایپس کو باقاعدگی سے اپڈیٹ حالت میں رکھیں کیونکہ اکثر حفاظتی مسائل تازہ سافٹ ویئر نصب کرنے سے حل ہو جاتے ہیں۔