ارجنٹائن کے فٹبال اسٹار لیونل میسی نے اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
امریکی صدر نے ان کے کلب کو دسمبر میں امریکا کی سب سے بڑی فٹ بال لیگ، میجر لیگ ساکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل پہلی بار جیتنے پر مبارکباد پیش کی۔
ان کی یہ ملاقات واشنگٹن میں ڈی سی یونائیٹڈ کے خلاف ہونے والے ایم ایل ایس میچ سے پہلے ہوئی۔
اس موقع پر ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے اس کامیابی کا جشن مناتے ہوئے گفتگو کی، جس دوران انہوں نے ایران میں جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے حوالے سے تازہ معلومات فراہم کیں۔
ٹرمپ نے ان حملوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایران میں ہونے والی بمباری کا ذکر کیا، جس میں حالیہ دنوں میں سینکڑوں بچے شہید ہو گئے ہیں۔
اس دوران، لیونل میسی اور لوئس سواریز سمیت ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے ٹرمپ کی باتوں پر تالیاں بجائیں، جو کہ بظاہر ایک غیر معمولی اور متنازعہ ردعمل تھا۔
یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے میسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
بعض صارفین نے ایران میں شہید ہونے والی اسکول کی معصوم طالبات کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان بچوں کو قتل کرنے پر تالیاں بجائی جارہی ہیں؟
ایک صارف نے میسی کی نیتن یاہو کے ساتھ کچھ تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ میسی کا تعلق صیہونیت سے ہے۔
تاہم بعض صارفین میسی کی حمایت میں بھی سامنے آئے اور انہوں نے جواز پیش کیا کہ میسی یہ نہیں سمجھ پائے کہ امریکی صدر کس بارے میں بات کررہے ہیں۔