کراچی: امریکی قونصل خانے میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری کا آغازکردیا

امریکی قونصل خانے پر مظاہرے کےدوران فائرنگ سے11 افراد کے جاں بحق، 30 سے زائد زخمی ہوئے


اسٹاف رپورٹر March 06, 2026

امریکی قونصل خانے پراحتجاجی مظاہرے کےدوران توڑ پھوڑ اورہنگامہ آرائی کے دوران فائرنگ سے11 افراد کے جاں بحق 30 سے زائدافراد کے زخمی ہونے کا واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے باقاعدہ انکوائری کا آغازکردیا۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈرکی شہادت کے خلاف یکم مارچ کومذہبی تنظیموں کی جانب سے مائی کلاچی روڈ پرواقع امریکی قونصل خانے پراحتجاجی مظاہرے کےدوران توڑ پھوڑ اورہنگامہ آرائی کے دوران فائرنگ سے 11 افراد کے جاں بحق 30 سے زائدافراد کے زخمی ہونے کا واقعے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی ہدایت پرایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ڈوالفقارلاڑک کی سربراہی میں بنائی گئی۔

کمیٹی نے باقاعدہ انکوائری کا آغاز کردیا، ذرائع کے مطابق ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ڈوالفقارلاڑک کی جانب سے تمام متعلقہ پولیس افسران کوطلب کیا تھا ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا، ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار،ایس ایس پی امجد شیخ،ایس ایس پی ساوتھ مہزورعلی،ایس ایس پی سٹی عارف عزیزاورایس ایس پی ایسٹ زبیرنذیر شیخ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

سب سے پہلے مرحلہ وار ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا  پھر ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجارسے سوالات کیے گئے۔

سب سے پہلے ایس ایس پی ایسٹ زبیرنذیر شیخ کو اندر بلایا گیا، ایس ایس پی امجد شیخ کی جانب سے کمیٹی کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

انکوائری کمیٹی کے سامنے قونصل خانے کے باہرہنگامہ آرائی کی خصوصی فوٹیجزبھی پیش کی گئیں جن کا انکوائری جائزہ لے رہی ہے۔

یکم مارچ کو قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ،فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین مائی کولاچی سلطان آباد چوکی کی جانب سے قونصل خانے تک پہنچےچارپولیس موبائل اورچارموٹرسائیکلوں پرپولیس اہلکارموجود تھے۔

تقریباً15 سے زائد افسران واہلکارقونصل خانے کے گیٹ پرکھڑے تھےمظاہرین کی تعداد 400 سے بھی زیادہ تھی مشتعل  ہجوم  کا جارحانہ رویہ دیکھ کر پولیس نے آگے جانا شروع کردیا۔

مظاہرین نے آتے ہی قونصل خانے اور پولیس پر پتھراو شروع کردیا، مشتعل افراد کی بہت بڑی تعداد قونصل خانے کے گیٹ پر پہنچ گئی مظاہرین نے پولیس کی جانب سے چلائے گئے شیل قونصل خانے کے اندر پھینک دیے۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے پولیس کے چلائے ہوئے شیل واپس پولیس پر ہی پھینکے جانے لگےپرتشدد احتجاج میں لمحہ با لمحہ اضافہ ہوتا رہا، تعداد بڑھتی رہی۔

انکوائری کمیٹی کی جانب سے مذید پولیس  افسران کو بھی طلب کیا جائے گا،کمیٹی نے 7 روز کے اندر مکمل تفصیلات کی رپورٹ وزیر داخلہ سندھ  کو پیش کرنی ہے۔

انکوائری کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ڈوالفقارلاڑک کے علاوہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفرمہیسر،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ،ایس ایس پی عدیل چانڈیو،ایس ایس پی شبیر سیٹھار اور اے آئی جی آپریشن کاشف عباسی شریک تھے۔

مقبول خبریں