اسلام آباد:
پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور اہم شرط پوری کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم کر دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026ء منظور کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی گئی ہے۔
یہ اتھارٹی ملک میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کرے گی، ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک سے ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور نئی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی بھی ممکن ہو سکے گی۔
اتھارٹی کو ابتدائی طور پر جولائی 2025ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جسے اب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے، قانون کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ ریگولیٹری ادارے کے مطابق پاکستان کا ضابطہ کار عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا رہا ہے۔